Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے معاملات کی اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے جانچ

اوقافی جائیدادوں کے معاملات کی اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے جانچ

اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفاتر پر بھی خصوصی ٹیموں کی نظر ، بے قاعدگیوں کا پتہ چلانے کی کوشش
حیدرآباد۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں نے شہر اور اضلاع میں اقلیتی بہبود کی اسکیموں میں کسی بھی بے قاعدگی اور درمیانی افراد کا پتہ چلانے کیلئے خصوصی ٹیموں کو تشکیل دیا ہے۔ حیدرآباد میں واقع اقلیتی اداروں اور اضلاع میں ڈی ایم ڈبلیو اور ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفاتر پر یہ ٹیمیں نظر رکھی ہوئی ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ عوام کی جانب سے ملنے والی شکایات کی بنیاد پر اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیداروں کو متحرک کیا گیا اور وہ فلاحی اسکیمات خاص طور پر شادی مبارک اور بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کی نگرانی کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بعض اوقافی معاملات کی جانچ کا اینٹی کرپشن بیورو نے اپنے طور پر آغاز کردیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں بعض اوقافی جائیدادوں سے متعلق فیصلوں پر تنازعہ پیدا ہوا تھا جس میں وقف قواعد کی خلاف ورزی اور وقف بورڈ کو نقصان جیسے اُمور شامل تھے۔ اینٹی کرپشن بیورو نے ان معاملات کی جانچ شروع کردی ہے اور امکان ہے کہ وہ اس سلسلہ میں بہت جلد وقف بورڈ کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے درکار دستاویزات حاصل کریں گے۔ اسپیشل آفیسر اور عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی حیثیت سے جلال الدین اکبر نے بعض متولیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جنہیں روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بعض متولیوں کے خلاف درج کردہ پولیس شکایت سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔ اس معاملہ میں ایک اقلیتی ادارہ کے سابق عہدیدار کے اہم رول سے اینٹی کرپشن بیورو کو واقف کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص نے کئی اوقافی معاملات میں اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی سے اہم رول ادا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے بعض اندرونی افراد سے ان کی ملی بھگت ہے۔ اوقافی معاملات میں سرگرم مافیا پر بھی اینٹی کرپشن بیورو کی نظر ہے جن کی وقف بورڈ کے بعض عہدیداروں اور ملازمین سے ملی بھگت ہے۔ یہ مافیا نہ صرف درکار ریکارڈ منٹوں میں حاصل کرلیتا ہے بلکہ اپنے حق میں فیصلہ کو یقینی بنانے کیلئے اعلیٰ عہدیداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس مافیا میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا تعلق دیگر اقلیتی اداروں سے ہے لیکن وہ وقف بورڈ کے اُمور میں حددرجہ مداخلت کے ذمہ دار پائے گئے ہیں۔اینٹی کرپشن بیورو ایسے افراد کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے سی بی کی ٹیم کی حج ہاوز میں آمد کی اطلاعات نے وہاں موجود تمام اداروں میں ہلچل پیدا کردی ہے اور اقلیتی اداروں کے ملازمین کسی بھی معاملہ میں انتہائی محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔ حج ہاوز کے علاوہ گن فاؤنڈری میں واقع حیدرآباد ای ڈی اور رنگاریڈی کلکٹریٹ میں واقع فینانس کارپوریشن کے دفتر پر نظر رکھی جارہی ہے۔ بعض اعلیٰ عہدیداروں نے اینٹی کرپشن بیورو ٹیم کے متحرک ہونے کی توثیق کی اور کہا کہ اگر عوام سے معلومات حاصل کی جائیں تو کئی بدعنوان ملازمین کو رنگے ہاتھوں پکڑا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی اسکیمات میں دھاندلیوں کی عوامی نمائندوں کی جانب سے شکایت اور میڈیا کے انکشافات کے بعد عبدالقیوم خاں کو محکمہ اقلیتی بہبود کا نگرانکار مقرر کیا ہے۔ وہ اقلیتی اداروں کے کسی بھی معاملہ میں نہ صرف مداخلت بلکہ متعلقہ دستاویزات بھی طلب کرسکتے ہیں۔ جس طرح سکریٹری کے عہدہ پر پرنسپال سکریٹری کا رتبہ ہے اسی طرح غیر معلنہ طور پر عبدالقیوم خاں محکمہ اقلیتی بہبود کے پرنسپال سکریٹری کی حیثیت سے رول ادا کریں گے۔ انہوں نے سکریٹری سید عمر جلیل اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ مختلف اُمور پر جائزہ اجلاس منعقد کیا اور واضح ہدایت دی کہ کسی بھی معاملہ میں سرکاری رقومات کے بیجا استعمال کی اجازت نہ دی جائے۔ حکومت کی جانب سے مختص کردہ فنڈز کا صحیح استعمال ہو اور اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچنے چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT