Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اوما بھارتی اور کلیان سنگھ کو عہدوں سے فوری ہٹانے کا مطالبہ

اوما بھارتی اور کلیان سنگھ کو عہدوں سے فوری ہٹانے کا مطالبہ

بابری مسجد انہدامی سازش پر سپریم کورٹ کی ہدایت کا خیر مقدم ، سید عظمت اللہ حسینی
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی و ترجمان سید عظمت اللہ حسینی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے فوری مرکزی وزارت اور گورنر کے عہدے سے مستعفی ہوجانے کا اوما بھارتی اور کلیان سنگھ سے مطالبہ کیا ۔ سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ بی جے پی کے سرکردہ قائدین ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، اوما بھارتی اور کلیان سنگھ بابری مسجد انہدامی کارروائی کے سازشی تھے ۔ سپریم کورٹ نے بھی اس کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی ہدایت دی ہے ۔ جس کا کانگریس پارٹی خیر مقدم کرتی ہے اور غیر جانبدارانہ کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر اوما بھارتی اور گورنر راجستھان کلیان سنگھ سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ اگر دونوں قائدین اپنے عہدوں سے مستعفی نہیں ہوتے ہیں تو صدر جمہوریہ اپنے دستوری اختیارات کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے اوما بھارتی کو مرکزی وزارت اور کلیان سنگھ کو گورنر کے عہدے سے برطرف کردیں ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام کرنے والے اور اس کے سازشی ناقابل معافی ہیں ۔ بابری مسجد کی شہادت سیکولر ہندوستان پر ایک بدنما داغ ہے ۔ ملک کے مسلمان بابری مسجد کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے اور نہ ہی عدالت کے باہر کوئی مذاکرات کرنے کے حق میں ہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کی حقیقی آواز ہے اور اس کا فیصلہ سارے ملک کے مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہے ۔ بابری مسجد کے انہدام میں شامل کوئی بھی معافی کے حقدار نہیں ہے اور نہ ہی انہیں معاف کیا جانا چاہئے ۔ ملک کے مسلمانوں کو سپریم کورٹ پر مکمل بھروسہ ہے اور یقین ہے فیصلہ بابری مسجد کے حق میں آئے گا ۔ سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ ملک کے 130 کروڑ عوام کے کئی مسائل ہیں ۔ مرکزی حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے مسلمانوں کے آپسی مسائل کو موضوع بحث بناتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی سازش کررہی ہے ۔ غربت ، پسماندگی ، بیروزگاری ، روٹی کپڑا مکان جیسے بنیادی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے گاؤ کشی ، تین طلاق ، اذان ، لوجہاد ، وندے ماترم کے علاوہ دوسرے غیر اہم موضوعات کو ہوا دیتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کو خانوں میں بانٹا جارہا ہے ۔ ملک کے سیکولرازم پر ہندو راشٹرا کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ عوام کو مذہب ذات پات اور علاقہ واریت کے نام پر تقسیم کرتے ہوئے عدم روا داری کو بڑھاوا دیا جارہا ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT