Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اوورسیز اسکالرشپ اسکیم، پہلی قسط کی اجرائی میں تاخیر کا سخت نوٹ

اوورسیز اسکالرشپ اسکیم، پہلی قسط کی اجرائی میں تاخیر کا سخت نوٹ

:   سیاست کی خبر کا اثر   :

10 ڈسمبر تک قسط جاری کی جائے، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی سکریٹری اقلیتی بہبود کو ہدایت
حیدرآباد۔/5ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مسلم طلباء کیلئے چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کی پہلی قسط کی اجرائی میں تاخیر کا سختی سے نوٹ لیا ہے اور 10ڈسمبر تک تمام منتخب امیدواروں کو پہلی قسط جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ’سیاست‘ میں آج رپورٹ کی اشاعت کے بعداس مسئلہ پر سکریٹری اقلیتی بہبود کو ہدایت دی اور عہدیداروں کی جانب سے نئی شرائط عائد کئے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ محمود علی نے کہا کہ حکومت اس اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ غریب اور مستحق اقلیتی طلباء کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے لیکن عہدیداروں کی جانب سے اسکیم میں عمل آوری میں رکاوٹ پیدا کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ماتحت عہدیداروں کی جانب سے جاری کی گئی نئی شرائط سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر حیدرآباد کی جانب سے جاری کردہ نئی شرائط پر ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں ہدایت دی کہ وہ نئی شرائط کے نفاذ کے ذریعہ منتخب طلباء کو  ہراساں کرنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے واضح کردیا کہ جن طلباء کو تمام شرائط کی تکمیل کے بعد منتخب کیا گیا ہے ان سے زائد شرائط کی تکمیل کا مطالبہ کرنا ناقابل برداشت ہے۔ اس سلسلہ میں انہیں نہ صرف طلباء کے سرپرستوں بلکہ بیرون ملک مقیم طلباء کی جانب سے ٹیلی فون کالس موصول ہورہے ہیں جس میں ماتحت عہدیداروں کی سردمہری اور پہلی قسط کی اجرائی میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کی شکایت کی جارہی ہے۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ منتخب طلباء یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرچکے ہیں اور انہوں نے تمام ضروری دستاویزات روانہ کردی ہیں، اب صرف پہلی قسط کی اجرائی کا کام باقی ہے ایسے وقت ماتحت عہدیداروں کی جانب سے نئی شرائط عائد کرنا طلباء اور اولیائے طلباء کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ سکریٹری نے اس مسئلہ پر ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور تمام ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو باقاعدہ میمو جاری کیا اور مقررہ شرائط کے علاوہ زائد شرائط کے نفاذ سے دستبرداری کی ہدایت دی۔ میمو میں وضاحت کی گئی کہ طلباء سے جو دستاویزات طلب کئے جائیں ان میں بیرونی یونیورسٹی میں داخلہ کا ثبوت بذریعہ ایڈمیشن کارڈ، فضائی سفر کا بورڈنگ کارڈ، سادہ کاغذ پر حلف نامہ ، ٹیوشن فیس کی تفصیلات اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ والدین کے آدھار کارڈ، اقلیتی سرٹیفکیٹ، رہائشی سرٹیفکیٹ، ایمیگریشن کارڈ، فضائی ٹکٹ، ویزا کی کاپی جیسی تفصیلات کیلئے اصرار کرنا اسکیم کی شرائط کے خلاف ہے۔ انہوں نے پہلے سیمسٹر کے مارکس شیٹ کی تفصیلات داخل کرنے کی شرط کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ طلباء نے ابھی داخلہ لیا ہے اور وہ کس طرح  پہلے سیمسٹر کے مارکس شیٹ پیش کرسکتے ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور تمام ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 10ڈسمبر تک کسی بھی صورت میں تمام منتخب امیدواروں کو پہلی قسط کی رقم جاری کردیں۔ ایسے طلباء جنہوں نے تمام دستاویزات داخل کردی ہیں انہیں پہلی قسط روکنا مناسب نہیں۔ ایسے طلباء جنہوں نے ابھی تک تفصیلات داخل نہیں کیں انہیں چاہیئے کہ جلد سے جلد اقلیتی بہبود کو تفصیلات روانہ کردیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر یونیورسٹی کی فیس 5 لاکھ روپئے سے کم ہوگی تو پہلی قسط مقررہ فیس کے مطابق ہی ادا کی جائے گی۔ اگر فیس 4لاکھ ہو تو محکمہ اقلیتی بہبود 5لاکھ نہیں بلکہ صرف 4لاکھ روپئے جاری کرے گا۔ یونیورسٹی کی فیس کے مطابق ہی اسکالر شپ ادا کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اسکیم کے تحت 210طلباء کو منتخب کیا گیا اور حکومت نے 12کروڑ 50لاکھ روپئے پہلی قسط کی اجرائی کیلئے جاری کردیئے۔ طلباء کی تعداد کے اعتبار سے حیدرآباد کے بشمول تمام ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو 11کروڑ سے زائد کی رقم جاری کردی گئی۔ عہدیداروں نے ابتداء میں اطلاع دی تھی کہ 35سے زائد طلباء کو پہلی قسط جاری کردی گئی لیکن ریکارڈ کا جائزہ لینے پر صرف 9 طلباء کو ہی رقم جاری کرنے کا ثبوت ملا ہے۔ حیدرآباد میں 129 منتخب طلباء میں ایک کو بھی پہلی قسط جاری نہیں ہوئی۔ اس صورتحال پر ڈپٹی چیف منسٹر نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسکیم میں جان بوجھ کر تساہل اور کوتاہی کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT