Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اوورسیز اسکالر شپ ،درخواستوں کی نااہل افراد سے جانچ

اوورسیز اسکالر شپ ،درخواستوں کی نااہل افراد سے جانچ

مستحق طلباء سے نا انصافی کا اندیشہ ، سرکاری اسکیمات سے ناواقف افراد سے خدمت لی جارہی ہے
حیدرآباد۔/15ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اسکیم کی تفصیلات سے ناواقف افراد سے درخواستوں کی جانچ کرائی جائے تو پھر امیدواروں سے ناانصافی یقینی طور پر ہوگی۔ کچھ یہی حال حیدرآباد میں اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے حیدرآباد میں اسٹاف کی کمی کے سبب حج کمیٹی کے 9 ملازمین کی خدمات عارضی طور پر حاصل کی اور انہیں پہلے ’ شادی مبارک‘ کی درخواستوں کی جانچ کا کام دیا گیا تاہم یہ کام بعد میں متعلقہ ایم آر او اور آر ڈی او کے ذمہ کردیا گیا۔ اس کے بعد حج کمیٹی کے ملازمین کو اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کی درخواستوں کی جانچ کا کام دیا گیا ہے جبکہ یہ ملازمین اسکیم کی شرائط سے بالکلیہ طور پر ناواقف ہیں۔ ایسے افراد جو اسکیم کی تفصیلات اور شرائط سے ناواقف ہوں ان سے انصاف کی توقع رکھنا فضول ہوگا۔ یہ ملازمین طلباء کی جانب سے دیئے گئے دستاویزات کی جانچ کے کام میں مصروف ہیں حالانکہ وہ دستاویزات کے حقیقی ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ان حالات میں کئی مستحق طلباء سے ناانصافی کا اندیشہ پیدا ہوچکا ہے۔ حیدرآباد میں اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کی رفتار پہلے ہی انتہائی سست ہے، ایسے میں نااہل افراد کے ہاتھوں درخواستوں کی جانچ کا کام سونپنا طلباء کیلئے مزید نقصاندہ ثابت ہوگا۔ بعض طلباء نے ’ سیاست‘ پہنچ کر شکایت کی کہ جن افراد کو درخواستوں کی جانچ کا کام دیا گیا ہے وہ اسکیم کیلئے جاری کردہ جی او ایم ایس 24 سے ناواقف ہیں اور وہ اسکیم کی اہلیت کیلئے درکار شرائط سے بھی لاعلم ہیں اور طلباء کے رجوع ہونے کی صورت میں وہ اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاریہ اسکیم اور دوسرے مرحلہ کی اسکیم دونوں سے تعلق رکھنے والے طلباء جب ان سے رجوع ہورہے ہیں تو انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ درخواستوں کی جانچ پر مامور یہ ملازمین خود بھی پریشان ہیںکہ وہ کریں تو آخر کیا کریں۔ کسی نہ کسی طرح وہ درخواستوں کی یکسوئی کررہے ہیں جس میں کئی طلباء سے ناانصافی کے امکانات ہیں۔ ایک طالب علم نے شکایت کی کہ اس کی درخواست کی منظوری اور اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی کا میاسیج موصول ہوا تاہم دوسرے ہی دن درخواست مسترد کردینے کی اطلاع دی گئی۔ طلباء نے شکایت کی کہ جن افراد کو اس کام پر مامور کیا گیا ہے وہ جس انداز میں کام کررہے ہیں اس سے طلباء کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان ناتجربہ کار اور اسکیم سے لاعلم افراد کو فوری اس ذمہ داری سے سبکدوش کردے تاکہ طلباء سے ناانصافی نہ ہو۔ طلباء نے بتایا کہ وہ جب ان افراد سے شرائط کے بارے میں بات کررہے ہیں تو وہ کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔ انہیں اس اسکیم کے بارے میں جاری کردہ دونوں احکامات سے واقفیت تک نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT