Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اوورسیز اسکالر شپ ، 137 منتخب امیدواروں کو پہلی قسط جاری

اوورسیز اسکالر شپ ، 137 منتخب امیدواروں کو پہلی قسط جاری

دوسرے مرحلہ کے لیے درخواستوں کا ادخال ، 29 دسمبر آخری تاریخ

حیدرآباد۔/15ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے تحت 137 منتخب امیدواروں کو اسکالر شپ کی پہلی قسط جاری کردی گئی ہے۔ 210منتخب امیدواروں کے منجملہ 161 امیدواروں کے دستاویزات کی جانچ مکمل کرتے ہوئے بلز ٹریژری کو روانہ کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون ایک ہفتہ تمام منتخب طلباء کو اسکالر شپ کی پہلی قسط جاری کردی جائیگی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے حیدرآباد کے بشمول تمام ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلد سے جلد امیدواروں کے اسنادات کی جانچ کا کام مکمل کرلیں تاکہ دوسرے مرحلہ کی درخواستوں کی یکسوئی کا کام شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طلباء جنہوں نے ابھی تک مطلوبہ دستاویزات داخل نہیں کئے ہیں انہیں چاہیئے کہ وہ فوری متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں تفصیلات داخل کریں۔ امیدواروں کو ایڈمیشن کارڈ، بورڈنگ کارڈ اور حلف نامہ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی دوران حیدرآباد میں محکمہ اقلیتی بہبود میں زائد اسٹاف کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اوورسیز اسکالر شپ کی درخواستوں کی جانچ کی جارہی ہے۔ دوسرے مرحلہ کیلئے درخواستوں کے ادخال کا آغاز ہوچکا ہے اور 29ڈسمبر 5 بجے شام تک امیدوار آن لائن درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹرس اوورسیز اسکالر شپ کے تحت دوسرے مرحلہ کی درخواستوں کی جانچ کے بعد توقع ہے کہ حکومت بجٹ جاری کرے گی۔ اس اسکیم کیلئے جملہ 25کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جس میں سے 12کروڑ50لاکھ جاری کردیئے گئے۔ سید عمر جلیل نے بتایاکہ پہلے مرحلہ میں مزید 29 درخواستوں کا جائزہ جارہا ہے اور دستاویزات کے درست پائے جانے پر انہیں بھی اسکالر شپ کی پہلے قسط جاری کردی جائے گی۔ انہوں نے بعض اقلیتی کالجس کی جانب سے فیس بازادائیگی کی عدم وصولی کا بہانہ بناکر طلباء کے سرٹیفکیٹس روک دینے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ کئی طلباء اور ان کے سرپرستوں نے عمر جلیل سے شکایت کی کہ گزشتہ 6 ماہ سے کئی کالجس اسنادات کی اجرائی سے انکار کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں بنڈلہ گوڑہ میں واقع ایک کالج کی کئی شکایات ملی ہیں۔ رنگاریڈی میں بھی کئی کالجس طلباء پر فیس کی رقم جمع کرنے کیلئے دباؤ بنارہے ہیں اور اس وقت تک اسنادات جاری نہیں کئے جائیں گے۔ کورس کی تکمیل کے باوجود اسنادات کی عدم موجودگی سے طلباء کو اعلیٰ تعلیم یا پھر ملازمت کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ طلباء فیس بازادائیگی کے بارے میں تازہ ترین موقف جاننے کیلئے اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ سید عمر جلیل نے انتباہ دیا کہ اگر کالجس کی جانب سے طلباء کو اسی طرح ہراساں کیا گیا تو ان کالجس کا اقلیتی موقف ختم کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے کالجس کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو تفصیلات روانہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ میں آڈیٹوریم کی تعمیر کیلئے حکومت نے 9کروڑ 60لاکھ روپئے مختص کئے تھے تاہم اس کی تعمیری لاگت میں اضافہ ہوچکا ہے اور 14کروڑ روپئے سے عصری آڈیٹوریم تعمیر کیا جائے گا۔ زائد رقم کیلئے احکامات عنقریب جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر نے آٹو رکشا اسکیم کے تحت مقررہ 1000 آٹوز کے علاوہ مزید 700 آٹوز کو منظوری دی ہے۔ اس طرح حیدرآباد اور رنگاریڈی میں درخواست گذار تمام 1700 اقلیتی افراد کو آٹو رکشا منظور کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مزید 700 آٹوز کی اجرائی کیلئے جلد احکامات جاری کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT