Saturday , July 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اوورسیز اسکالر شپ اسکیم اقلیتی طلباء کومشکلات کا سامنا

اوورسیز اسکالر شپ اسکیم اقلیتی طلباء کومشکلات کا سامنا

بجٹ کی عدم اجرائی اور عہدیداروں کی عدم دلچسپی، بیرون ملک پہنچ گئے طلباء پریشان
حیدرآباد۔ 8 فروری (سیاست نیوز) اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت محکمہ فینانس سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب کئی اقلیتی طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے اقلیتی طلبہ کو بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے منفرد اسکیم کا آغاز تو کیا لیکن بجٹ کی عدم اجرائی اور عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں کئی طلبہ بیرونِ ملک پہنچنے کے بعد معاشی تنگدستی کے باعث تعلیم ترک کرنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔ کئی طلبہ نے اپنی زبوں حالی کا تذکرہ چیف منسٹر کے سی آر، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی آر، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو پیامات روانہ کرتے ہوئے کیا، لیکن ان کے مسائل کا کوئی حل تلاش نہیں کیا گیا۔ طلبہ نے شکایت کی ہے کہ انہیں وعدہ کے مطابق تعلیمی فیس کی پہلی قسط بھی ادا نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں یونیورسٹی کی جانب سے انہیں کورس سے خارج کرنے کی نوٹس دی گئی ہے۔ اپنی غربت کے باعث وہ اس موقف میں نہیں کہ اپنے طور پر یہ رقم ادا کرسکے۔ طلبہ نے شکایت کی کہ بارہا عہدیداروں کو پیامات روانہ کرنے کے باوجود رقم کی اجرائی میں کوئی دلچسپی نہیں لی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ 50 سے زائد طلبہ ایسے ہیں جن کی تعلیم کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت دوسرے مرحلے میں جن 236 طلبہ کا انتخاب کیا گیا تھا، ان میں سے صرف 106 طلبہ کو پہلی قسط کی رقم 5 لاکھ روپئے جاری کی گئی جبکہ 130 طلبہ کو رقم کی اجرائی ابھی باقی ہے۔ جبکہ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ 180 طلبہ کو پہلی قسط جاری کردی گئی۔ اس اسکیم کے تحت تعلیمی امداد کے طور پر 10 لاکھ روپئے کی ادائیگی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اسی دوران سیکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ محکمہ فینانس سے اس اسکیم کیلئے مختص کردہ 30 کروڑ روپئے کے منجملہ 15 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے اور توقع ہے کہ مارچ کے اختتام تک باقی رقم بھی جاری کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی اجرائی کے ساتھ ہی باقی طلبہ کو پہلی قسط کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ حکومت نے پہلے مرحلے میں 226 طلبہ کا انتخاب کیا تھا جس میں سے 206 طلبہ کو 2 اقساط میں فی کس 10 لاکھ 60 ہزار روپئے ادا کردیئے گئے۔ 19 طلبہ نے اپنی درکار تفصیلات روانہ نہیں کی جس کے باعث رقم جاری نہیں کی گئی۔ حکومت نے تعلیمی امداد کی رقم کو 10 لاکھ روپئے سے بڑھاکر 20 لاکھ روپئے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت محکمہ اقلیتی بہبود 413 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اسٹیٹ سلیکشن کمیٹی نے اپنے اجلاس میں مستحق طلبہ کا انتخاب کرلیا ہے جس کا اعلان توقع ہے کہ اندرون دو یوم کیا جائے گا-

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT