Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / اوورسیز اسکالر شپ کیلئے مزید 29 درخواستوں کا جائزہ

اوورسیز اسکالر شپ کیلئے مزید 29 درخواستوں کا جائزہ

آج اجلاس کی طلبی ، 166 طلباء کو پہلی قسط کی اجرائی
حیدرآباد۔/17ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی طلباء کو بیرونی یونیورسٹیز میں تعلیم کیلئے امداد سے متعلق اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے مزید 29 امیدواروں کی درخواستوں کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی کا اجلاس کل 18ڈسمبر کو طلب کیا گیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور دیگر عہدیدار اس اجلاس میں شرکت کریں گے اور 29نئی درخواستوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ پہلے مرحلہ کی اسکیم میں 210امیدواروں کا انتخاب کیا گیا تھا تاہم بعد میں شرائط کی تکمیل کرنے والے مزید 29درخواستوں کو غور کیلئے قبول کیا گیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں نئی درخواستوں اور ان کی دستاویزات کی جانچ کے بعد منظوری یا مسترد کئے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی دوران آج تک 210منتخب طلباء کے منجملہ 166 طلباء کو پہلی قسط کی اجرائی کیلئے بلز محکمہ ٹریژری کو داخل کئے گئے جن میں 110طلباء کے اکاؤنٹ میں پہلی قسط جمع ہوچکی ہے۔ اقلیتی بہبود کے اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں 101، محبوب نگر 6 اور کریم نگر میں 3طلباء کو پہلی قسط جاری کردی گئی جبکہ باقی اضلاع میں درخواستوں کی جانچ کے بعد بلز کو ٹریژری میں داخل کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں منظورہ 137 امیدواروں میں سے 131نے تمام ضروری دستاویزات داخل کئے جبکہ ڈسٹرکٹ میناریٹی آفیسر نے 127 درخواستوں کو منظوری دی ہے جن میں سے 124کے بلز داخل کئے گئے۔ عادل آباد، کھمم، میدک، نلگنڈہ، نظام آباد، رنگاریڈی اور ورنگل میں ایک بھی منظورہ درخواست کو پہلی قسط کی رقم جاری نہیں کی گئی۔ رنگاریڈی میں جملہ 25 امیدواروں کو منتخب کیا گیا اور 11 امیدواروں کے بلز ٹریژری میں داخل کئے گئے۔ کریم نگر میں 3 ، عادل آباد 3 ، میدک 2، نلگنڈہ 6، نظام آباد 2، ورنگل 8اور کھمم میں ایک درخواست کو پہلی قسط جاری کرنے کیلئے ٹریژری میں بل داخل کیا گیا۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بعض امیدواروں نے ابھی تک ایڈمیشن کارڈ، بورڈنگ کارڈ اور حلف نامہ داخل نہیں کیاہے۔ 3 درخواستیں ایسی پائی گئیں جن میں امیدوار اسکیم پر عمل آوری کے آغاز سے قبل ہی بیرون ملک روانہ ہوچکے ہیں۔ ان امیدواروں کو اسکیم کے دائرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ عہدیداروں نے درخواستوں کی جانچ  اور پہلی قسط کی اجرائی میں تاخیر کیلئے عملے کی کمی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT