Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اوورسیز اسکالر شپ کے درخواستوں کی تاریخ میں توسیع ممکن

اوورسیز اسکالر شپ کے درخواستوں کی تاریخ میں توسیع ممکن

طلباء کی نمائندگی کے بعد دوسرے مرحلے کی تاریخ میں توسیع کرنے پر غور
حیدرآباد۔/12جنوری، ( سیاست نیوز) اقلیتی طلباء کیلئے بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کیلئے امداد سے متعلق اسکیم کے دوسرے مرحلہ میں درخواستوں کے ادخال کی آخری تاریخ میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے آج عہدیداروں کے ساتھ اس اسکیم پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلہ کے تحت ابھی تک 450سے زائد درخواستیں داخل کی گئی ہیں جن میں 390 لڑکے اور 61 لڑکیاں ہیں۔ دوسرے مرحلہ کیلئے آخری تاریخ 10جنوری مقرر کی گئی تھی تاہم طلباء کی جانب سے نمائندگی کے بعد اس میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ توسیع کی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں منظورہ 210 طلباء میں 132 طلباء کو اسکالر شپ کی پہلی قسط 5 لاکھ روپئے جاری کردی گئی ہے جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود نے 197 طلباء کے بلز ٹریژری کو داخل کئے ہیں۔ توقع ہے کہ مابقی طلباء کیلئے پہلی قسط کی رقم جلد جاری کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض طلباء نے ضروری دستاویزات داخل نہیں کئے ہیں جس کے سبب انہیں صرف اسکالر شپ کی پہلی قسط یا بعض کو فضائی کرایہ کی رقم جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام طلباء کو پہلی قسط اور فضائی کرایہ کی رقم کی اجرائی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹریژری اور سنٹر فار گڈ گورننس کے عہدیداروں کے ساتھ چہارشنبہ کو اجلاس منعقد کرتے ہوئے رقم کی عاجلانہ اجرائی کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں داخل کی گئی مزید 40درخواستوں کا جائزہ لیا گیا اور ان میں 26درخواستوں کو اسکالر شپ کا اہل قرار دیا گیا ہے۔ ان زائد منظورہ درخواستوں کو جلد اسکالر شپ جاری کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر طالب علم کو پہلی قسط اور فضائی کرایہ کے طور پر 5 لاکھ 60ہزار روپئے جاری کئے جائیں گے۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ دوسرے مرحلہ میں جو درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان میں بعض درخواستیں ان دو امریکی یونیورسٹیز سے متعلق ہیں جن کے بارے میں شبہات پائے جاتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ان دونوں یونیورسٹیز کے طلباء کو امریکہ سے واپس کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان یونیورسٹیزکی درخواستوں کو قطعیت دینے سے قبل وہ امریکی کونسلیٹ سے مشاورت کرتے ہوئے دونوں یونیورسٹیز کے حقیقی موقف کی معلومات کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ طلباء کو اسکالر شپ جاری کرنے کے حق میں ہے تاکہ غریب اور مستحق اقلیتی طلباء بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔ اسی دوران امریکہ میں مقیم بعض طلباء نے دفتر ’سیاست‘ پر بذریعہ فون شکایت کی کہ انہیں اسکالر شپ کے بجائے صرف فضائی کرایہ کی رقم اکاؤنٹ میں وصول ہوئی ہے۔ بعض طلباء نے فضائی کرایہ نہ ملنے کی شکایت کی جبکہ زیادہ تر طلباء کو دونوں بھی وصول نہیں ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود سے 197طلباء کی تفصیلات جاری کرنے کے باوجود ٹریژری رقم کی اجرائی میں تاخیر سے کام لے رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT