Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اوور سیز اسکالر شپس اسکیم ، 470 درخواستوں کی وصولی

اوور سیز اسکالر شپس اسکیم ، 470 درخواستوں کی وصولی

درخواستوں کی تنقیح کا آغاز ، حیدرآباد کے علاوہ اضلاع کے طلبہ بھی شامل
حیدرآباد۔ 22 ۔ فروری (سیاست نیوز) بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کیلئے اقلیتی طلبہ کو دی جانے والی اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے دوسرے مرحلہ کے تحت 470 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود نے درخواستوں کی جانچ کا کام شروع کردیا ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر کے مطابق دوسرے مرحلہ میں موصولہ 470 درخواستوں میں 403 طلباء اور 67 طالبات شامل ہیں۔ حیدرآباد سے 329 درخواستیں داخل کی گئیں جن میں 285 طلباء اور 44 طالبات شامل ہیں۔ رنگا ریڈی سے 46 ، ورنگل 27 ، نظام آباد 11 ، نلگنڈہ 11 ، میدک 9 ، محبوب نگر 9 ، کھمم 11 ، کریم نگر 12 اور عادل آباد سے 5 درخواستیں داخل کی گئیں۔ اسی دوران اولیائے طلبہ نے شکایت کی ہے کہ درخواستوں کی جانچ کے دوران عہدیدار تمام اوریجنل ڈاکومینٹس پیش کرنے کیلئے اصرارکر رہے ہیں جبکہ طلباء نے بیرونی ملک یونیورسٹی میں داخلہ کے وقت اسنادات متعلقہ یونیورسٹی میں جمع کرائے ہیں ، لہذا وہاں سے اوریجنل ڈاکومینٹس حاصل ہونا آسان نہیں ہے۔ اولیائے طلبہ نے بتایا کہ درخواستوں کی جانچ کرنے والے عہدیدار بعض بااثر افراد کے ساتھ رعایت کرتے ہوئے زیراکس کاپی قبول کر رہے ہیں جبکہ دوسروں کو اوریجنل داخل کرنے کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو طلباء اسکالرشپ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اسی دوران پہلے مرحلہ میں منتخب 210 طلباء میں سے 183 طلباء کو پہلی قسط کی ادائیگی کے بل ٹریژ ری میں جمع کئے گئے اور 177 طلباء کے اکاؤنٹ میں پہلی قسط کی رقم جمع کردی گئی ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 11 طلباء نے یونیورسٹی تبدیل کرلی جس کے باعث ان کے لئے پہلی قسط کی اجرائی میں تاخیر ہوئی ہے۔ تاہم آج پہلی قسط کی رقم منظور کردی گئی ہے ۔ 16 طلباء ایسے ہیں جنہوں نے ابھی تک درکار دستاویزات اپ لوڈ نہیں کئے۔ انہوں نے حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے تاخیر کی وجوہات بیان کی جس پر پہلی قسط جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ پہلے مرحلہ میں مزید 26 درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے جنہیں بہت جلد پہلی قسط جاری کردی جائے گی ۔ حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلہ کی اسکیم میں والد اور والدہ کا آدھار کارڈ داخل کرنا لازمی ہے کیونکہ ہر خاندان میں صرف ایک شخص کو ایک مرتبہ اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT