Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اوپن ایس ایس سی و انٹر امتحانات میں دھندلیاں ، کارراوئی ضروری

اوپن ایس ایس سی و انٹر امتحانات میں دھندلیاں ، کارراوئی ضروری

نقل نویسی و تلبیس شخصی کی حوصلہ افزائی سے عہدیداروں کا کردار مشتبہ
حیدرآباد۔ 12اپریل (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں اوپن ایس ایس سی و انٹر امتحانات میں ہوئی دھاندلیوں کی تحقیقات میں شدت پیدا کرتے ہوئے ان تمام عہدیداروں کے خلاف بھی کاروائی یقینی بنانے کی ضرورت ہے جو ان امتحانات میں نقل نویسی و تلبیس شخصی کی حوصلہ افزائی میں ملوث ہیں۔ حالیہ دنوں میںاندرا ودیا نکیتن ہائی اسکول کے امتحانی مرکزمیں ہوئی دھاندلیوں کے انکشاف نے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے کردار کو بھی مشتبہ بنا دیا ہے۔ اوپن ایس ایس سی و انٹر امتحانات میں حصہ لینے والے ہزاروں طلبہ اس بات کی شکایات کے ساتھ محکمہ سے رجوع ہو رہے ہیں کہ امتحانی مراکز میں اور جن مقامات سے فیس داخل کی گئی ہے ان مقامات پر انہیں فیس کے نام پر کس طرح لوٹا گیا ۔ طلبہ کا الزام ہے کہ 900روپئے امتحانی فیس کی جگہ ان سے 2000تا 2500روپئے وصول کئے گئے اور اسی طرح امتحانی مراکز میںبھی کئی جگہوں پر زبردستی ہراساں کرتے ہوئے پیسے وصول کئے گئے ۔ اوپن ایس ایس سی وانٹر امتحانات میں جاری لوٹ کھسوٹ سے واقف عہدیدار سب جانتے ہوئے بھی صرف اس لئے خاموش رہے چونکہ ان کا حصہ بروقت انہیں پہنچ جایا کرتا تھا لیکن اب جب کہ ان امتحانات میں ہونے والی دھاندلیاں منظر عام پر آچکی ہیں تو اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کئی امتحانی مراکزکے ذمہ دار اوپن ایس ایس سی و انٹر کا مرکز حاصل کرنے کیلئے لاکھوں روپئے ادا کرتا ہے اور اس میں محکمہ تعلیم کے ضلعی سطح کے عہدیدار بھی برابر کے شریک ہیں اسی لئے مراکزکے خلاف کاروائی کے خدشات کم ہوتے ہیں۔ جاریہ ماہ کے اوائل میں اندراودیا نکیتن ہائی اسکول میں اوپن انٹر امتحانات کی دھاندلیوں میں گرفتار شدگان جنہیںضمانت حاصل ہو چکی ہے ان کا تعلق نہ صرف خانگی تعلیمی اداروں سے ہے بلکہ ان میں سرکاری اساتذہ بھی شامل ہیں ۔دریچہء بواہیر گورنمنٹ ہائی اسکول میں خدمات انجام دے رہے محمد عبداللہ ‘ گورنمنٹ سٹی بوائز ہائی اسکول میں خدمات انجام دینے والے پی ۔ کوڈنڈا راما راؤ ‘ سید صابر گورنمنٹ لکچررشامل ہیں جبکہ رگھو فزیکس لکچرر سٹی کالج اورراجو ریکارڈ اسسٹنٹ عالیہ جونیئر کالج کو مفرور بتایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ سید عارف کلرک گیلکسی جونیئر کالج سید صمد حسین کو آرڈینیٹر گیلکسی جونیئر کالج کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد عبدالشرجیل اور محمد افضل نامی دو طلبہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے ایسے 47مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے جن مراکز میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی گئی ہیں۔ ان مراکز کی فہرست میں سرکاری مدارس اور ان میں خدمات انجام دینے والی چیف سپرٹینڈینٹ ‘ ڈپارٹمینٹل آفیسر و نگران بھی شامل ہیں جن کے خلاف کاروائی کیا جانا ناگزیر ہے۔ پرانے شہر میں موجود چند مراکز کے عہدیدار اس بات کا اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ اس طرح کی دھاندلیاں معمول کی بات ہے۔ ان امتحانات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں کئی ایسے امیدواربھی شامل ہیں جنہیں اپنا خود کا نام تحریر کرنا بھی نہیں آتا۔ اعلی سرکاری عہدیداروں کے بموجب ایسے امیدواروں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو امتحانات کے دوران ملک میں ہی نہیں تھے اور بیرون ملک تعلیمی اسناد کی ضرورت محسوس ہونے پر بدعنوانیوں میں ملوث مراکز کے ذمہ داروں کو بھاری رقومات ادا کرتے ہوئے اپنی جگہ دوسرے امیدوار بٹھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اوپن اسکول امتحانات میں ہوئی دھاندلیوں پر کاروائی کو رکوانے کیلئے مختلف گوشوں سے دباؤڈالا جا رہا ہے چونکہ غیرجانبدارانہ کاروائی کی صورت میں تعلیمی اداروں کے نام پر چلائی جارہی یہ جعلسازی و دھوکہ دہی میں ملوث کئی چہرے آشکار ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT