Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / ’’اَمیت شاہ کے بیٹے کو بچاؤ ‘‘،بی جے پی حکومت کی نئی فلیگ شپ اسکیم

’’اَمیت شاہ کے بیٹے کو بچاؤ ‘‘،بی جے پی حکومت کی نئی فلیگ شپ اسکیم

’’بی جے پی اور سنگھ پریوار میں خواتین نظرانداز‘‘، گجرات میں راہول گاندھی کا خطاب
کارجن (گجرات)۔ 10 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ کی تجارتی حملوں میں مبینہ رشوت و بدعونانیوں پر وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اپنے تنقیدی حملوں میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے آج ان (مودی) سے سوال کیا کہ آیا وہ اس ’’چوری‘‘ میں ساجھیدار ہیں؟ راہول نے جئے شاہ کی تائید و مدافعت کرنے والے مرکزی وزراء اور بی جے پی قائدین کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں چاہئے کہ وہ مودی حکومت کی ترجیحی اسکیم ’’بیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ‘’ کا نام تبدیل کرتے ہوئے اب اس کا نام ’’امیت شاہ کے بیٹے کو بچاؤ‘‘ رکھ دیں۔ راہول نے مودی پر تنقیدی حملوں کو تیز کرتے ہوئے کہا کہ ’’چوکیدار کی نظروں کے سامنے چوری ہوئی ہے، لیکن آپ (مودی) خاموش ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا چوکیدار ہیں یا اس چوری میں حصہ دار؟‘‘ واضح رہے کہ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات کی مہم میں مودی اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ وزیراعظم بننا نہیں چاہتے بلکہ عوام کی دولت کے چوکیدار بننا چاہتے ہیں۔

راہول نے جو گجرات میں اپنی مہم کے دوسرے دن جلسوں سے خطاب کررہے تھے، کہا کہ (جئے شاہ کی) کمپنی چھ، سات سال قبل قائم کی گئی تھی۔ مودی جی( 2014ء میں برسراقتدار) آئے اور ’اِسٹارٹ اَپ اِنڈیا‘، ’میک اِن انڈیا‘پھر اس کے بعد انہوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹکی متعارف کیا۔ جس سے کسان اور چھوٹے کاروبار برباد ہوگئے۔ راہول نے مزید کہا کہ ’’اس دوران ایک کمپنی کا وجود عمل میں آیا جو 2014ء میں کچھ نہیں تھی، لیکن چند مہینوں میں اتنی بڑی ہوگئی کہ اس کا کاروبار 50,000 روپئے سے برھ کر 80 کروڑ روپئے تک پہنچ گیا۔ راہول نے پوچھا کہ ’’اس (کمپنی) کو کس نے قرض دیا‘‘۔ پھر خود ہی جواب دیا کہ وزیر پیوش گوئل جی کے تحت مرکزی حکومت کے محکمہ نے دیا‘‘۔

پھر یہ کمپنی 2016ء میں بند ہوگئی۔ راہول یہ جاننا چاہتے تھے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس مسئلہ پر آخر کیوں لب کشائی نہیں کی۔ودودرہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج بی جے پی اور آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر خواتین کو اہمیت نہ دینے کا الزام عائد کیا اور سوال کیا کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی شاکھاؤں میں کتنی خواتین دیکھی گئی ہیں۔ اس کے برخلاف کانگریس میں ہر سطح پر خواتین کو سرگرم دیکھا جاسکتا ہے۔ راہول گاندھی نے گجرات میں اپنی انتخابی مہم کے دوسرے دن طلبہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آر ایس ایس سمجھتی ہے کہ خواتین جب تک خاموش رہیں گی، وہ ٹھیک ہیں لیکن جب وہ کچھ کہنا شروع کرتی ہیں تو انہیں خاموش بٹھا دیا جاتا ہے‘‘۔

راہول گاندھی نے طنزیہ لب و لہجہ میں کہا کہ ’’ان لوگوں کی تنظیم ’آر ایس ایس‘ ہے اور آر ایس ایس میں کتنی خواتین ہیں۔ آپ نے کبھی ان کی شاکھاؤں میں شارٹس پہنی ہوئی کسی عورت کو دیکھا ہے ، لیکن آپ کانگریس میں ہر سطح پر خواتین کو دیکھیں گے‘‘۔ خاکی نیکرس آر ایس ایس رضاکاروں کا ٹریڈ مارک یونیفارم تھا اور حالیہ عرصہ تک وہ اپنی ڈرل میں خاکی چڈیاں پہنا کرتے تھے لیکن ایک سال قبل انہوں نے خاکی چڈیوں کو ترک کرتے ہوئے خاکی پتلون کا استعمال شروع کیا۔ کانگریس کے لیڈر نے ودودرہ میں طلبہ کے اجتماع سے خطاب کے ساتھ وسطی گجرات کے علاقہ میں اپنی نوسرجن یاترا کے دوسرے دن کا آغاز کیا۔ راہول نے گزشتہ روز 10 جلسوں سے خطاب کیا تھا اور نڈیاڈ کے مشہور و معروف سنت رام مندر میں پوجا کی تھی۔ راہول نے اپنی نوسرجن یاترا کے پہلے مرحلے کے تحت گزشتہ ماہ علاقہ سوراشٹرا کا دورہ بھی کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT