Thursday , April 27 2017
Home / Top Stories / اُترپردیش اور اُتراکھنڈ میں بی جے پی کو اقتدار

اُترپردیش اور اُتراکھنڈ میں بی جے پی کو اقتدار

اکھلیش زیرقیادت ایس پی ۔ کانگریس اتحاد بُری طرح ناکام، پنجاب میں کانگریس کی جیت ، منی پور اور گوا میں معلق اسمبلی
نئی دہلی 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج اترپردیش اور اتراکھنڈ میں سنسنی خیز انفرادی فتح درج کرائی اور اپوزیشن کا شیرازہ بکھیر دیا جس نے اُمید لگا رکھی تھی کہ نوٹ بندی کا عمل وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کو ہوا کردے گا۔ بی جے پی نے گوا اور منی پور میں کانگریس کے ساتھ سخت مقابلہ کیا جسے پنجاب میں واضح کامیابی کی صورت میں ترغیبی انعام ملا جہاں وہ حکومت تشکیل دے گی۔ مودی کی پارٹی اب اترپردیش میں 14 سال کے وقفہ کے بعد اقتدار پر واپس ہورہی ہے۔ اِس وقفہ کے دوران علاقائی جماعتوں جیسے ایس پی اور بی ایس پی کا دبدبہ رہا۔ سیاسی تجزیہ نگار آرتی جیرٹھ نے این ڈی ٹی وی پر کہاکہ وزیراعظم نے خود کو واضح طور پر منوایا ہے کہ وہی ہندوستان میں غالب لیڈر ہیں۔ صدر بی جے پی امیت شاہ جنھوں نے یوپی میں انتخابی حکمت عملی ترتیب دی، اُنھوں نے مودی اور اُن کی پالیسیوں کو اِس فتح کا سبب قرار دیا۔ امیت شاہ نے ٹوئٹ کیاکہ یہ کرپشن سے پاک حکمرانی اور مودی کی قیادت میں موافق غریب پالیسیوں کی فتح ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے یوپی میں پارٹی دفاتر میں جشن کے ماحول کے درمیان کہاکہ بی جے پی اترکھنڈ اور اترپردیش میں نئی بلندیوں تک پہونچ چکی ہے اور ملک کی سیاسی تصویر بدل ڈالی۔ پارٹی اراکین نے خوشی میں رقص کیا اور سڑکوں اور بی جے پی دفاتر میں مٹھائیاں تقسیم کئے۔ خواتین بھی گروپوں کی شکل میں جمع ہوئیں تاکہ نتائج کا ٹی وی پر مشاہدہ کیا جائے۔ کامیابی کے اعلان کے ساتھ ہی خواتین نے بھی رقص کرتے ہوئے خوشی منائی۔ ایک پارٹی لیڈر نے کہاکہ ہولی جو اتوار اور پیر کو منائی جائے گی، ایک دن قبل آچکی ہے۔ بی جے پی کامیابی کو ’’حیران کن‘‘ اور’’قبولیت کیلئے مشکل‘‘ قرار دیتے ہوئے بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے انتخابات میں ووٹنگ کی دھوکہ دہی کا اشارہ دیا۔ یہ انتخابات 5 ریاستوں میں گزشتہ دو ماہ کے دوران سات مراحل میں پھیلائے گئے تھے۔ مایاوتی نے اپنے الزام کی تائید میں کوئی ثبوت تو فراہم نہیں کیا، اِس لئے ممکن نہیں کہ اسے سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔ اُن کی پارٹی نے مایوس کن تیسرے مقام پر اختتام کیا ہے۔

بی جے پی نے یوپی میں 322 نشستیں جیت لی ہیں۔ اپنی حلیف پارٹیوں اپنا دل (سونے لال پٹیل) اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے ساتھ بی جے پی کو 403 رکنی قانون ساز اسمبلی میں بڑی آسانی سے دو تہائی اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ تاہم پارٹی نے کوئی وزارت اعلیٰ امیدوار پیش نہیں کیا تھا۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بی جے پی پارلیمنٹری بورڈ اور ریاست میں لیجسلیچر پارٹی عنقریب کریں گے۔ بی جے پی نے جسے گزشتہ اسمبلی میں محض 47 نشستیں حاصل تھیں، 40 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ مقابلہ شاندار سمجھا جارہا تھا اور اسے مودی کی مقبولیت اور نوٹ بندی پر عملاً ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ پارٹی نے یہ انتخابات کوئی بھی مسلم امیدوار کھڑا کئے بغیر جیتے ہیں۔ نوخیز ایس پی ۔ کانگریس اتحاد نے صرف 54 نشستیں جیتے جبکہ مایاوتی کی بی ایس پی تیسرے مقام پر محض 20 نشستیں جیت پائی۔ ایس پی کو 49 نشستیں ملی ہیں جس کی مہم خود چیف منسٹر اکھلیش یادو نے ترقیاتی ایجنڈہ پر چلائی۔ کانگریس ترجمان ابھیشک سنگھوی نے اعتراف کیاکہ پارٹی کی شکست سنگین نوعیت کی ہے۔ اترکھنڈ میں بی جے پی نے شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 70 رکنی اسمبلی میں 56 نشستیں جیت لئے جبکہ کانگریس کو 11 کامیابیاں ملی ہیں تاہم کانگریس چیف منسٹر ہریش راوت بی جے پی کے مقابل دونوں حلقوں میں ہار گئے ہیں۔ کانگریس لیڈر شکیل احمد نے سیاسی طور پر کلیدی ریاست یوپی میں پارٹی کے ناقص مظاہرہ کو عوام کے موڈ سے منسوب کیا اور کہاکہ اس کے پرفارمنس کی جانچ کی جائے گی۔ تاہم کانگریس کو پنجاب میں زبردست فائدہ حاصل ہوا اور گوا اور منی پور میں بھی کانگریس حکومتیں بن سکتی ہیں۔ پنجاب میں کانگریس نے 117 حلقوں کے منجملہ 77 نشستیں جیت لئے جبکہ دوسرا مقام عام آدمی پارٹی (22) کو ملا اور شرومنی اکالی دل اور بی جے پی اتحاد 18 سیٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر آیا۔ صدر پنجاب کانگریس امریندر سنگھ نے ریاست کے عوام کا پارٹی کی تائید و حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔ گوا میں کانگریس سب سے زیادہ 16 نشستیں جیت چکی ہے اور منی پور میں بھی 25 سیٹوں کے ساتھ اول ہے۔ اس طرح یہ دونوں ریاستوں میں بھی کانگریس حکومتیں تشکیل پاسکتی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT