Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اُترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ حکومت مسلمانوں کی دشمن

اُترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ حکومت مسلمانوں کی دشمن

مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے ، کاروانِ محبت قافلے کی حقائق سے واقفیت
حیدرآباد۔14ستمبر(سیاست نیوز) اتر پردیش میں مسلمانو ںکو دشمن اور مجرم کے طورپر پیش کیا جانے لگا ہے اور انہیں پولیس کے ذریعہ نشانہ بنایا جا رہاہے ۔ ’کاروان محبت‘ کا قافلہ گذشتہ دو یوم سے مغربی اترپردیش کے علاقہ شاملی میں ہے جہاں وہ پولیس فائرنگ میں فوت ہونے والے مسلم نوجوان اور اس کے ساتھ حراست میں لئے گئے نوجوان کے علاوہ 2013ء میں ہجوم کے حملہ میں ہلاک کئے گئے شخص کے ارکان خاندان سے ملاقات کر رہاہے۔ مسٹر ہرش مندر نے بتایا کہ اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اب تک 30نوجوانوں کو پولیس فائرنگ میں بڑے مجرم کے طور پر پیش کرتے ہوئے ہلاک کیا ہے اور حالیہ عرصہ میں کئے گئے اس انکاؤنٹر کا جائزہ لینے کے بعداس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اترپردیش پولیس مسلم نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں فائرنگ میں ہلاک کرتی جا رہی ہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ انہوںنے بتایا کہ ایسے نوجوانوں کو جو کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں انہیں بڑے دہشت گرد اور مجرم کے طور پر پیش کرتے ہوئے ہلاک کیا جانے لگا ہے لیکن ذرائع ابلاغ اداروں کے لئے یہ خبر معمول کی خبروں کی طرح ہو چکی ہے کیونکہ وہ اس طرح کی کاروائیوں کو اترپردیش حکومت کی جانب سے جرائم کے خاتمہ کی کوشش قرار دیاجانے لگا ہے۔ اترپردیش کے علاقہ شاملی سے حراست میں لئے گئے دو نوجوانوں میں ایک نوجوان کو پولیس نے گنے کے کھیت میں گولیاں ماردی اور دوسرے دن جو خبریں منظر عام پر آئیں ان کے مطابق یہ نوجوان پولیس کی گرفت سے فرار ہوتے ہوئے پولیس پر فائرنگ کرنے کی کوشش کررہا تھا جس کے سبب پولیس نے اپنے بچاؤ کیلئے اس پر گولیاں چلا دی جس کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوگئی ۔ ہرش مندر نے کہا کہ متوفی نوجوان کے جسم پر لگی گولیوں کے نشانات سے کہیں بھی ایسا نہیں لگتا کہ نوجوان کو فراری کے دوران گولیاں ماری گئیں کیونکہ نوجوان کے ٹخنوں‘ گھٹنوں اور کلائی پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیںجو کہ رات کے اندھیرے میں گنے کے کھیت میں ممکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ موجود ایک نوجوان کو حراست میں رکھا گیا ہے جو کہ انتہائی کسمپرسی کے حالات کا سامنا کر رہاہے ۔ کاروان محبت کے ذمہ داروں نے بتایاکہ ریاست اترپردیش کے علاقو ںمیں اس طرح کی کاروائیاں عام ہوتی جا رہی ہیں جو کہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے خلاف بھیانک جرائم کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ 2013مظفر نگر فسادات کے ساتھ ہی یہ ماحول پیدا کردیا گیا تھا اور اب مغربی اترپردیش میں یہ سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT