Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / اُتر پردیش اور کرناٹک میں حکمران جماعتوں کو زبردست دھکا

اُتر پردیش اور کرناٹک میں حکمران جماعتوں کو زبردست دھکا

… (  ملک کی 8ریاستوں میں اسمبلی کے ضمنی انتخابات  )…
مظفر نگر میں بی جے پی ، دیوبند میں کانگریس اور بیکاپور میں ایس پی کو کامیابی، مجلس امیدوار کی ضمانت ضبط
نئی دہلی ۔ 16 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں نے آج اسمبلی ضمنی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ۔ 8 ریاستوں میں 12 نشستوں کے منجملہ 7 پر انہیں کامیابی ملی جبکہ اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی اور کرناٹک میں کانگریس کو دھکا پہنچا۔ بی جے پی نے اُتر پردیش میں فرقہ وارانہ نوعیت سے حساس مظفر نگر اسمبلی حلقہ میں بی جے پی فتح یاب ہوگئی۔ اس ریاست میں حکمراں جماعت کو 3میں سے 2نشستیں کھودینا پڑا۔دیوبند حلقہ سے کانگریس امیدوار نے کامیابی حاصل کی جبکہ بیکاپور سے سماج وادی پارٹی کامیابی حاصل کرپائی۔ حیدرآباد کی ایک مقامی جماعت نے اس حلقہ سے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا جس کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ مجلس کے اس امیدوار کو 360 ووٹ حاصل ہوئے۔ یہ واحد اسمبلی نشست ہے جہاں پر سماج وادی پارٹی اپنا قبضہ برقرار رکھ پائی ۔ مظفر نگر سے بی جے پی کے کپل دیو اگروال نے سماج وادی پارٹی کے گورو سروپ کو 7352 ووٹوں سے ہرادیا۔ یہ مقابلہ زعفرانی جماعت کیلئے کافی اہم تصور کیا جارہا تھا کیونکہ یہاں 2013 ء میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سے ہندوتوا کے مسائل پر مسلسل مہم جاری ہے۔

دیوبند میں کانگریس نے سماج وادی پارٹی کو ہرادیا اور اس کے امیدوار معاویہ علی نے کامیابی حاصل کی۔ بیکا پور (فیض آباد) کی نشست سے سماج وادی پارٹی امیدوار آنند سین یادو نے آر ایل ڈی امیدوار منا سنگھ چوان کو ہرایا۔ اسی طرح کرناٹک میں بھی حکمراں کانگریس کو دھکا پہنچا جہاں پر اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں 3میں سے 2 نشستیں اس کے ہاتھ سے نکل گئیں۔ حکمران آر جے ڈی۔ جے ڈی یو۔ کانگریس اتحاد نے بہار میں 3ماہ قبل منعقدہ اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی پشیمانی اُٹھانی پڑی جہاں پر کانگریس امیدوار کو ہرلکھی حلقہ اسمبلی میں بی جے پی کی حلیف جماعت آر ایل ایس بی نے شکست دے دی۔ دیگر 5ریاستوں میں حکمران جماعتیں بی جے پی، شیوسینا، اکالی دل، ٹی آر ایس اور سی پی ایم نے بالترتیب مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، پنجاب، تلنگانہ اور تریپورہ میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں واحد نشستوں پر قبضہ کرلیا۔ ملک گیر سطح پر 8ریاستوں میں 12 حلقوں میں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے تھے جس کے نتاجء کا اعلان آج کردیا گیا۔ اگرچیکہ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات 2018ء میں منعقد ہوں گے لیکن اپوزیشن بی جے پی نے دوبہ دو مقابلہ میں حکمراں کانگریس سے بہتر مظاہرہ کیا ہے

جس نے بنگلور میں ہیبل سیٹ دوبارہ حاصل کرلی ہے۔ لیکن دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے سے دیوادرگا اور بیدر کی نشستیں چھین لیں۔ کرناٹک کے نتائج چیف منسٹر سدا رامیا کیلئے ایک جھٹکہ تصور کیا جارہا ہے جبکہ حکمراں کانگریس نے بی جے پی کو شکست دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ کرناٹک میں حکمراں کانگریس کو ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑی۔ جہاں پر سابق وزیر ریلوے سی کے جعفر شریف کے پوترے سی کے رحمن شریف کو بی جے پی امیدوار وائی اے نارائن سوامی نے حلقہ اسمبلی ہیبل میں 19,149 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دے دی۔ شریف کو آخری لمحات میں چیف منسٹر کی خواہش کے برخلاف پارٹی ٹکٹ دیا گیا تھا جبکہ وہ ایک ایم ایل سی بھارتی سریش کو ٹکٹ دینے کے حق میں تھے۔ تاہم بیدر حلقہ میں کانگریس امیدوار رحیم خاں نے 22,721 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے اپنے قریبی حریف اور بی جے پی امیدوار پرکاش کھنڈرے کو ڈھیر کردیا۔ علاوہ ازیں دیوادرگا حلقہ میں بی جے پی کے شیوانا گوڈنے کانگریس امیدوار راج شیکھر نائیک کو 16,871 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دے دی۔ دیگر چار ریاستوں میں حکمراں جماعتوں بی جے پی اور اس کی حلیفوں شیوسینا و اکالی دل کے علاوہ ٹی آر ایس اور سی پی آئی (ایم) نے بھی بالترتیب مہاراشٹرا ، پنجاب ، تلنگانہ اور تریپورہ میں واحد اسمبلی نشست کیلئے ہوئے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔ بہار میں حکمراں عظیم تر اتحاد کو آج اس وقت دھکا پہنچا جبکہ آر ایل ایس پی امیدوار سدن شو شیکھر نے کانگریس کے حریف امیدوار محمد شبیر کو 18650 ووٹوں سے ہرایا۔ مدھیہ پردیش میں مائیہراسمبلی نشست پر کانگریس کو دھکا پہنچا اور بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔ اسمبلی ضمنی انتخابات کے نتائج بی جے پی کو اخلاقی طور پر حوصلہ دیتے ہیں کیونکہ اسے حال ہی میں بہار میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آئندہ سال یو پی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT