Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / اُتر پردیش کے انتخابات میں مسلم ووٹوں کی تقسیم در تقسیم کی سازش

اُتر پردیش کے انتخابات میں مسلم ووٹوں کی تقسیم در تقسیم کی سازش

بی جے پی کے خلاف جذبات بھڑکانے سے فرقہ وارانہ بنیاد پر صف بندی کا خطرہ
استعمال ہونے والے مسلم چہروں کا انتخاب ہوگیا
لکھنؤ۔25اکٹوبر (سیاست نیوز) اتر پردیش انتخابات ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کے قوی امکانات ہیں اور ان انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لئے ملک میںبرسراقتدار جماعت کی جانب سے کی جانے والی سازشوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کیلئے یہ انتخابات کتنی اہمیت کے حامل ہیں۔ اترپردیش جہاں اقلیتی ووٹ خاصی تعداد میں ہیں اور ان کے ساتھ دلت و محروم طبقات کے ووٹ کا بھی خاطر خواہ فیصد موجود ہے جس کے سبب اترپردیش میں دلت۔مسلم اتحاد کو کافی اہمیت حاصل ہے اور فرقہ پرست طاقتیں دلت۔مسلم اتحاد کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان ووٹوں کو منقسم کرتے ہوئے ریاست میں فرقہ پرست ووٹوں کو یکجا کیا جا سکے۔ اترپردیش کے علاقہ میں وزیراعظم نریندر مودی کو طلاق ثلاثہ کے عمل سے متاثرہ مسلم بہنوں کی یاد آرہی ہے اور رحم مادر میں ہلاک کی جانے والی لڑکیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔ ان حوالوں اور تقاریر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی ہندو اور مسلم کا نام لیتے ہوئے خواتین کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اترپردیش میں فرقہ پرستی کی ہوا کو تیز کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سماج وادی پارٹی میں پھوٹ ڈالنے اور بہوجن سماج پارٹی کو خائف کرنے کیلئے سی بی آئی کا استعمال اور راہول گاندھی کی کردار کشی کے ذریعہ کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی اترپردیش میں ہر سیاسی جماعت کو اہمیت دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ سیکولر ووٹ ان سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہو جائے اور مابقی رائے دہندے مذہب کے خطوط پر منقسم ہوجائیں۔ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کو اقتدار حاصل ہو یا نہ ہو اتر پردیش یا ملک کے عوام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اسی طرح بہوجن سماج پارٹی کو نشستیں ملیں یا نہ ملیں اس کا اثر ملک پر نہیں پڑے گا لیکن

اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی مل جاتی ہے تو اس کے منفی اثرات ملک پر مرتب ہوں گے اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے غیر معروف آلہء کاروں کو اترپردیش میں سرگرم کرتے ہوئے یہ توقع کی تھی کہ یہ آلہء کار اترپردیش کے مذہبی حلقوں میں اپنی شناخت بناتے ہوئے انہیں مسلکی خطوط پر منقسم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن ان کی یہ کوششیں شمالی ہند کے علماء کی سیاسی بصیرت کے آگے ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ کسی نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے مددگار ثابت ہونے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے جس کے سبب وہ اپنے طور پر انتخابی مہم کا آغاز کر چکے ہیں لیکن انہیں وہ حمایت حاصل نہیں ہو رہی ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی بہار اسمبلی انتخابات میں مذہبی تنظیموں نے ’ووٹ کٹوا‘ کے متعلق جو موقف اختیار کیا تھا وہی موقف اترپردیش میں بھی اختیار کیا جانے لگا ہے جو کہ نہ صرف ووٹ کٹوا کیلئے تکلیف کا باعث ہے بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اس مسئلہ پر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ سی بی آئی تحقیقات کے آغاز کی دھمکی کے ساتھ سماج وادی پارٹی میں تو پھوٹ ڈال دی گئی لیکن سمجھا جاتا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھی سی بی آئی سے خوفزدہ کرتے ہوئے ان کی سیاسی جماعتوں کے راز حاصل کئے جا رہے ہیں۔

اترپردیش میں اب تک سیکولر ووٹوں کے تین حصوں میں تقسیم ہونے کے خدشات ہوا کرتے تھے اور مسلم ووٹ بہوجن سماج پارٹی یا سماج وادی پارٹی کے حق میں جایا کرتے تھے لیکن اس مرتبہ مسلم ووٹ کسی ایک سیاسی جماعت کی جانب نہیں جائیں گے بلکہ وہ کانگریس ‘ بی ایس پی اور ایس پی کے علاوہ مجلس میں تقسیم ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ان خدشات کو بھانپتے ہوئے شمالی ہند کی کسی با اثر تنظیم یا دارالعلوم دیوبند یا ندوہ نے تاحال اترپردیش میں مجلس کے قدم رکھنے کا خیر مقدم نہیں کیا ہے کیونکہ وہ بہار کے حالات سے اچھی طرح واقف ہونے کے ساتھ امارت شریعہ بہار و اڑیسہ کے موقف کے متعلق سنجیدہ غور کر رہے ہیں۔ کانگریس‘ بی ایس پی اور ایس پی میں ووٹ کی تقسیم کے خدشات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ بی ایس پی یا ایس پی مابعد انتخابات کانگریس سے اتحاد کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرلے گی لیکن ایس ممکن ہی نہ ہونے پائے اس کیلئے سماج وادی پارٹی میں دو گروہ بناتے ہوئے اس میں ایک گروہ کو مالی مدد کرتے ہوئے انتخابی میدان میں اتارنے کی کوشش کی جا سکتی ہے

تاکہ سیکولر ووٹ صرف ایس پی ‘ بی ایس پی یا کانگریس میں منقسم نہ ہوں بلکہ 4سیکولر سیاسی جماعتوں میں میں تقسیم ہوں اور مسلم ووٹ مذہبی بنیاد پر الگ تھلگ ہو جائیں تاکہ ان حالات کا راست فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہو سکے۔ان حالات میں اتر پردیش کی سیاست میں مذہبی شخصیات کا انتہائی اہم رول تصور کیا جار ہا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک بھر سے چند نام نہاد علماء و مشائخین کو مسلم چہروں کے طور پر حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو بظاہر بی جے پی کے خلاف مہم چلائیں گے لیکن ان کی یہ مہم بی جے پی کے مددگاروں کے حق میں ہو گی اس سلسلہ میں راشٹریہ مسلم منچ اور حکومت میں شامل بعض اہم وزراء سے ان مسلم چہروں کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ان کی ہر حرکت پر نظریں رکھی جانے لگی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT