Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / اُتر پردیش کے انتخابات میں نوٹ بندی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا

اُتر پردیش کے انتخابات میں نوٹ بندی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا

اپنے آپ کو فقیر کہنے والے نریندر مودی نے عوام کو بھکاری بنادیا۔ مایاوتی کا الزام

لکھنؤ۔/6ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے آپ کو فقیر کہنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کا مضحکہ اڑاتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی سربراہ مایاوتی نے آج کہا کہ نوٹ بندی کے فیصلہ کرنے والے فقیر نہیں بنے ہیں بلکہ ملک کے عوام بھکاری بن گئے ہیں جس کا خمیازہ اتر پردیش کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست کی شکل میں بھگتنا پڑیگا۔گوکہ نریندر مودی ہنوز فقیر نہیں بنے ہیں لیکن ملک کے 90فیصد عوام یقینا بھکاری بن جائیں گے۔ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی61ویں برسی کے موقع پر پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ نوٹ بندی کے فیصلہ نے عام آدمی کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ واضح رہے کہ مرادآباد میں ہفتہ کے دن بی جے پی پریورتن ریالی سے مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کی مخالفت پر مایاوتی اور دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ میرے مخالفین میرا کیا بگاڑ لیں گے میں تو فقیر آدمی ہوں جھولا لیکر چلے جاؤں گا ، جس پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صدر بی ایس پی نے کہا کہ مودی جی تو بہت مالدار ہیں پھر کیونکر فقیر بن سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کرنسی نوٹوں کی منسوخـی کے فیصلہ سے عوام کی سخت مشکلات درپیش ہیں جو کہ اتر پردیش کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ دیں گے بلکہ پارٹی کو چوتھے مقام پر پہنچا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بینک سے اپنی رقومات نکالنے کیلئے مارے مارے پھرنا پڑ رہا ہے اور یہ الزام عائد کیا کہ نریندر مودی جمہوریت میں تاناشاہی کررہے ہیں۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ بہوجن سماج پارٹی، بلیک منی اور کرپشن کے خلاف نہیں ہے مایاوتی نے کہاکہ ان کا اعتراض نوٹ بندی سے قبل مناسب منصوبہ بندی نہ کرنے پر ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے گھناؤنے عزائم کے خلاف عوام کو خبردار کرتے ہوئے

انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس سے ساز باز کرکے بی جے پی ہندوتوا کے خطوط پر سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش میں ہے کیونکہ انہیں ڈاکٹر امبیڈکر کے وضع کردہ سیکولر دستور پر ایقان نہیں ہے۔ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں پسماندہ طبقات کو راغب کرنے کیلئے مایاوتی نے وی پی سنگھ کے دور حکومت میں منڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کا سہرا اپنے سر باندھ لیا لیکن بی جے پی کو یہ برداشت نہیں ہوا اور اسوقت کی حکومت کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلی۔ بی ایس پی کی سربراہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی دراصل گجرات میں اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن 1994 سے قبل کے تناظر میں پسماندہ طبقات کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے او بی سی کی فہرست میں اپنا نام شامل کرلیا اور یہ ریمارک کیا کہ ’’ او بی سی کے ووٹ کی خاطر مودی نے اپنا چولا ہی بدل دیا ‘‘ اور یہ الزام عائد کیا کہ مودی نے پسماندہ طبقات کے حقوق سلب کرتے ہوئے انہیں فریب دیا۔ مسلمانوں کو ہمنوا بنانے کے لئے مایاوتی نے کہا کہ مسلمانوں کو آج جو بھی حقوق حاصل ہیں وہ ڈاکٹر امبیڈکر کی مرہون منت ہے جنھوں نے ایک سیکولر دستور مدون کیا ہے لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کو یہ پسند نہیں ہے اور اب بی جے پی۔ آر ایس ایس سیکولر دستور تبدیل کرکے ہندوتوا اور ذات پات کا قدیم نظام بحال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ زعفرانی طاقتوں نے بابری مسجد کی شہادت کیلئے 6 ڈسمبر 1992 کا انتخاب کیا تاکہ یہ واضح پیام دیا جاسکے کہ امبیڈکر کے وضع کردہ دستور پر وہ ایقان نہیں رکھتے۔ ستم بالائے ستم ، بی جے پی اور آر ایس ایس نہیں چاہتے کہ ہندوؤں کے سوا دوسرا فرقہ باوقار زندگی گذارے اور نہ ہی ان کے مذہبی مقامات محفوظ رہیں۔

 

’ببوا‘کو خواب میں بھی نظر آ رہے ہیں ہاتھی: مایاوتی
لکھنؤ 6 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ببوا‘کو خواب میں بھی ہاتھی نظر آنے لگے ہیں۔محترمہ مایاوتی نے آج یہاں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی 60 ویں برسی پر منعقد خراج عقیدت اجلاس میں کہا کہ ریاست میں چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ببوا (اکھلیش یادو) کو خواب میں ابھی سے ہاتھی نظر آنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ببواکی سمجھ میں آ گیا ہے کہ انتخابات کے بعد بی ایس پی مکمل اکثریت سے حکومت بنائے گی۔بی ایس پی صدر نے کہا کہ کسی پارک کا افتتاح کرنا ہو یا سنگ بنیاد ببوا کو ہاتھی کی یاد ضرور آتی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT