Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اُردو زبان کا عالمی سطح پر فروغ، تحریک آزادی کے طرز پر اُردو کا احیاء خوش آئند

اُردو زبان کا عالمی سطح پر فروغ، تحریک آزادی کے طرز پر اُردو کا احیاء خوش آئند

شاہ عالم خان کل ہند مشاعرہ، نواب محبوب عالم خان کا خطاب، لتا حیاء، قیصر خالد کے کلام سے خوب داد و تحسین
حیدرآباد 9 اپریل (سیاست نیوز) انوارالعلوم کالج (ملے پلی) کے احاطہ میں انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کی جانب سے پہلا نواب شاہ عالم خان کل ہند مشاعرہ منعقد ہوا جس میں مرد و خواتین، طلباء و طالبات مشاعرہ میں شریک تھے۔ نواب محبوب عالم خان اعزازی معتمد انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن نے شعراء اور شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس بات کا اعلان کیاکہ ہر سال کی طرح اسی طرح کا عظیم الشان کل ہند مشاعرہ منعقد کیا جاتا رہے گا۔ انھوں نے اردو زبان کو مقبولیت اور فروغ حاصل ہورہا ہے کہا کہ اس زبان میں بلا کی چاشنی و لذت ہے جسے آج غیر اُردو داں حضرات نہ صرف ملک اور بیرون میں بھی محسوس اور پسند کررہے ہیں۔ انھوں نے ملک کی آزادی میں اس زبان نے جس طرح کا کردار ادا کیا اُس سے واقف کروایا اور کہاکہ مجاہدین آزادی نے انگریزی سامراجیت کو اس ملک سے نکال پھینکنے میں کامیاب ہوئے اور اُردو زبان نے اُس وقت ’’زندہ باد‘‘ کا نعرہ دے کر جدوجہد آزادی میں مزید جوش و ولولہ پیدا کیا۔ اس زبان میں دیا گیا زندہ باد کا نعرہ جب فلک شگاف طور پر لگایا گیا تو مجاہدین آزادی میں ایک نئی جہت پیدا ہوئی۔ انھوں نے انوارالعلوم کالج کے مختلف تعلیمی شعبہ جات جو عرصہ دراز سے کام کررہے ہیں، روشنی ڈالی اور کہاکہ طلباء و طالبات کو نئی ٹیکنالوجی سے مربوط کرنے کے لئے نت نئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور یہاں کے طلباء ملک اور بیرون ممالک میں اپنی صلاحیت و قابلیت کا لوہا منوارہے ہیں۔ خیرمقدمی کلمات کے ساتھ ہی جناب محبوب عالم خان نے ملک کے شاعرہ محترمہ لتا حیاء کو آواز دی جنھوں نے حمد باری تعالیٰ سے مشاعرہ کا آغاز کیا اور سامعین کے اصرار پر انھوں نے ’’اُردو‘‘ پر نظم سناکر داد حاصل کی۔ اس مشاعرہ کی صدارت پروفیسر مظفر حنفی نے کی۔ جناب واصف فاروقی نے بڑی عمدگی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ شاعر جناب فاروق شکیل کا یہ شعر پسند کیا گیا ’’زندگی سے کوئی دلچسپی نہ تھی ہم کو مگر ۔ حادثہ سے بچ گئے تو زندگی اچھی لگی‘‘۔ ان کے بعد عرفان لکھنوی، ڈاکٹر عالم اعظمی نے داد حاصل کی۔ ناظم مشاعرہ واصف فاروقی نے موضوعاتی شاعری کی اور اُن کا یہ شعر پسند کیا گیا۔ ’’بھروسہ جن کو اپنے دست بازو پر نہیں ہوتا ۔ وہی ملاح کشتی اور پتوارے بدلتا ہے‘‘۔ حالات حاضرہ پر ان کے رکیک اور قوم و ملت کو ایک نئی جہت کی طرف آمادہ کررہے تھے۔ انھوں نے بہت سارے اشعار سنائے جسے سامعین نے پسند کیا۔ نوجوان شاعر رنجیت چوہان نے موضوعاتی شاعری کی اور مشاعرہ کا رنگ بدلنے کے لئے ناظم مشاعرہ نے طنز و مزاح اور مزاحیہ شاعر جناب وحید پاشاہ قادری کو مائیک پر بلوایا۔ انھوں نے حالات حاضرہ پر بڑے طنز کئے اور کچھ دکنی گیت سنائے اور کہاکہ ملک یوروپی سامراجیت کا شکار ہورہا ہے، شدید طنز کئے۔ سامعین نے ان کا مشہور گیت ’’تم چائے والے ہو‘‘ سنانے کی فرمائش کی۔ مہمان شاعر رام پرکاش بیخود، شارق کیفی، ظفر حنفی، سحر (اعظم گڑھ) کے بعد دوبارہ لتا حیاء کو سامعین نے سنا۔ انھوں نے دکنی زبان میں مزاحیہ اشعار سنائے جس پر زبردست داد و انھیں ملی۔ دکنی زبان کی شاعری کے ذریعہ لتا حیاء نے والدین کی خدمت، بیٹیاں اور دیگر موضوع پر بھی شاعری کی۔ ڈاکٹر نسیم نکہت کے اشعار کو سامعین نے پسند کیا اور جب وہ ماں کے موضوع پر اشعار سنارہی تھیں تو ایک خاتون نے اُن کے قریب پہنچ کر اشکبار آنکھوں سے مبارکباد دی۔ ڈاکٹر نشتر مارہروی نے طنز و مزاح سے مشاعرہ میں ایک رنگ پیدا کیا۔ اُنھوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی رشوت خوری پر بھی بڑے طنز کئے۔ شیش شکلا، عرفان لکھنوی، ڈاکٹر عالم اعظمی، عبدالاحد ساز، شارق کیفی، ظفر حنفی، راجیش ریڈی، قیصر خالد، منیش شکلا اور نوجوان شاعر جناب قیصر خالد (آئی پی ایس) نے کلام سنایا۔ جناب قیصر خالد کی نظم ’’سرحد‘‘ کو پسند کیا گیا۔ اس طرح مشاعرہ کا اختتام 3.30 بجے شب ہوا۔ منتظمین کی جانب سے شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT