Wednesday , April 26 2017
Home / شہر کی خبریں / اُردو زبان کے تحفظ سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں

اُردو زبان کے تحفظ سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں

انگلش میڈیم اقلیتی اقامتی اسکولس ،لیکن اردو میڈیم مدارس تیزی سے زوال پذیر، ہزاروں جائیدادیں مخلوعہ
حیدرآباد ۔ 8 ۔  فروری (سیاست نیوز) حکومت اقلیتوںکی تعلیمی ترقی کیلئے 200 اقامتی اسکولوں کے قیام کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن دوسری طرف اردو میڈیم مدارس کی زبوں حالی، اردو اساتذہ کے تقررات اور اردو میڈیم مدارس کو بند ہونے سے روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ حکومت کو اگر مسلمانوں کی تعلیمی ترقی سے حقیقی معنوں میں دلچسپی ہے تو اسے چاہئے کہ مسلمانوںکی مادری زبان کا نہ صرف تحفظ کرے بلکہ مادری زبان میں تعلیم کے انتظام کو یقینی بنائے۔ پہلے مرحلہ میں 71 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے اور یہ تمام انگلش میڈیم کے اسکولس ہیں جبکہ دوسرے مرحلہ میں 130 اسکولوں کے قیام کی تیاری کی جارہی ہے ۔ ان اسکولوں میں تعلیم کا آغاز پانچویں جماعت سے ہورہا ہے اور ساتویں تک کلاسس رکھی جائیں گی ۔ اسکولوں میں داخلے اردو میڈیم کے طلبہ کو دیئے جارہے ہیں اور انگلش میڈیم تعلیم کا دعویٰ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلی تا پانچویں جماعت تک اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم اچانک کس طرح انگریزی میں نصاب کو سمجھ پائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال قائم کئے گئے 71 اقامتی اسکولس میں طلبہ کا معیار حوصلہ افزاء نہیں دیکھا گیا۔ حکومت نے اسکولوں کیلئے کنٹراکٹ کی بنیاد پر ایک سال کیلئے عارضی تقررات کئے جس میں اردو اور تلگو میڈیم اساتذہ کا بھی تقرر کیا گیا۔ تلگو اور اردو میڈیم کے اساتذہ کس طرح پانچویں جماعت کو انگریزی میں تعلیم دے سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ طلبہ کو پہلے سال انگریزی میں مہارت پیدا کرنے پر توجہ دی گئی اور حقیقی تعلیم کا دوسرے سال سے آغاز ہوگا۔ اقلیتوں کیلئے انگلش میڈیم اقامتی اسکولس کا قیام یقیناً خوش آئند ہے لیکن ہونا یہ چاہئے تھا کہ اقامتی اسکولس پانچویں جماعت کے بجائے پہلی جماعت سے شروع کئے جاتے تاکہ اقلیتی طلبہ آغاز سے ہی انگریزی پر عبور حاصل کرتے اور آگے چل کر دیگر کارپوریٹ اسکولوں کے طلبہ سے مسابقت کرپاتے۔

درمیان سے اچانک پانچویں جماعت میں انگریزی کو متعارف کرنے سے طلبہ کو خانگی انگلش میڈیم اسکولوں کے معیار پر پہنچانا مشکل ہوگا۔ سرکاری عہدیدار خود بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پانچویں سے انگریزی میں تعلیم کے سبب طلبہ کو دشواری ہورہی ہے ۔ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو تجویز پیش کریں کہ کم از کم اقلیتوں کیلئے قائم کئے جانے والے اقامتی اسکولس پہلی جماعت سے شروع ہوں۔ ٹی آر ایس حکومت انگلش میڈیم اقامتی اسکولس کے ذریعہ خود کو اقلیتوں کی ہمدرد ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ حکومت کو مسلمانوں کی مادری زبان کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انگریزی اقامتی اسکولس پر ساری توجہ مرکوز کرنا اور اردو کو نظر انداز کرنا دراصل اردو زبان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں حکومت نے اردو میڈیم سرکاری مدارس کی حالت بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ کئی اردو میڈیم اسکولوں کو طلبہ کی کمی کا بہانہ بناکر دور دراز کے اسکولوں میں ضم کردیا گیا یا پھر انہیں بند کردیا گیا۔ گزشتہ تین برسوں میں حکومت کی سطح پر ایک بھی اردو میڈیم اسکول قائم نہیں کیا گیا ۔ اتنا ہی نہیں سرکاری اردو میڈیم مدارس میں طلبہ کے داخلوں کیلئے کوئی مہم نہیں چلائی گئی ۔

جس طرح انگلش میڈیم اقامتی اسکولس کیلئے چلائی جارہی ہے ۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ جس طرح اقامتی اسکولس کیلئے علحدہ سوسائٹی قائم کرتے ہوئے کئی سو کروڑ روپئے مختص کئے گئے ، اسی طرح اردو زبان اور اس کے مدارس کے تحفظ کیلئے علحدہ سوسائٹی قائم کی جاتی۔ چیف منسٹر اور دیگر وزراء اردو زبان سے محبت کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں اور اردو کو تلنگانہ کی شناخت قرار دیا جاتا ہے لیکن زبان کی ترقی کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ سرکاری سطح پر اردو میں بعض کلچرل پروگرام کا انعقاد اردو زبان کی خدمت تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اردو زبان کو روزگار سے جوڑنے کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن اردو زبان میں پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات کے انعقاد کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر محکمہ جاتی امتحانات اردو میں لکھنے کا صرف تیقن دیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر نے نیٹ امتحان کے اردو میں انعقاد کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کیا تھا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

تلنگانہ حکومت جو خود کو اردو دوست حکومت قرار دیتی ہے ، اس کے دعوے کی سچائی کا جائزہ لیں تو ریاست میں 8 تا 10 ہزار اردو میڈیم اساتذہ کی جائیدادیں کئی برسوں سے مخلوعہ ہیں جن پر تقررات نہیں کئے گئے ۔ سرکاری اردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ اردو میڈیم اساتذہ کی تنظیموں کے مطابق صرف حیدرآباد میں گزشتہ دو برسوں کے دوران اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کی حالت دگرگوں ہوچکی ہے ۔ ان اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کے علاوہ طلبہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ صاف پینے کا پانی تک میسر نہیں اور طلبہ و طالبات کیلئے ٹائلٹس کا کوئی انتظام نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں 1591 سرکاری اردو میڈیم اسکولس ہیں ۔ ڈی ایس سی 2012 ء میں اردو میڈیم کی سیکنڈری گریڈ ٹیچر کی 1076 اور اسکول اسسٹنٹ کی 346 جائیدادوں کو نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ تلنگانہ حکومت نے اردو ڈائیٹ کے انعقاد کا وعدہ کیا ہے لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کریم نگر میں 425 اردو میڈیم اساتذہ کی جائیدادوں کے منجملہ صرف 57 پر اساتذہ موجود ہیں۔ رنگا ریڈی میں 442 میں 178 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ کھمم کی 45 میں 14 اور نلگنڈہ کی 156 موجودہ جائیدادوں میں 40 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT