Wednesday , April 26 2017
Home / شہر کی خبریں / اُردو شعراء کو زبان و ادب کی خدمت کو ترجیح دینے کا مشورہ

اُردو شعراء کو زبان و ادب کی خدمت کو ترجیح دینے کا مشورہ

شعراء کے ساتھ یادگار ادبی شام، کنور رنجیت چوہان ، قیصر خالد، پدم شری مجتبیٰ حسین و دیگر کا خطاب

حیدرآباد 10 اپریل (سیاست نیوز) انجمن ترقی پسند مصنفین ریاست تلنگانہ حیدرآباد کے زیراہتمام نامور اردو شعراء کنور رنجیت چوہان بانی و جنرل سکریٹری جشن ادب دہلی اور جناب قیصر خالد (آئی پی ایس) انسپکٹر جنرل پولیس ممبئی و صدرنشین جشن ادب کے ساتھ ایک یادگار ادبی شام آج میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فاؤنڈری میں بصدارت پروفیسر بیگ احساس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شاعر جناب رنجیت چوہان نے کہاکہ ملک بھر میں اردومشاعروں کا معیار رفتہ رفتہ گھٹتا جارہا ہے۔ حالانکہ مشاعرہ لٹریچر کا حصہ ہے لیکن لٹریچر نہیں ہے۔ دوسری طرف ہندی کے شعراء ہندی کے کلام کو اُردو کا نام دیتے ہیں جس سے شاعری کا معیار کمزور پڑرہا ہے۔ دہلی میں اسی طرز عمل سے اُردو کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان حالات کے تناظر میں جشن ادب اور پاسبان ادب جیسی تنظیمیں قائم کی گئیں تاکہ اُردو کو سیاسی استحصال سے بچایا جاسکے۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان کے مقابلہ میں پاکستان میں ادبی ذوق زیادہ پایا جاتا ہے۔ جناب قیصر خالد (آئی پی ایس) نے کہاکہ اُردو زبان ہماری شناخت اور پہچان ہے۔ لیکن ہم اُردو اور ہندی کے بجائے اپنی روز مرہ زندگی میں انگریزی کو اہمیت دینے لگے ہیں۔ زبان اور تہذیب کے ساتھ یہ رجحان غداری کے مترادف ہوگا۔ جس قوم کا زوال ہوتا ہے تو وہ اپنی تہذیب و زبان سے دوری اختیار کرتی ہے۔ انھوں نے اردو شعراء سے کہاکہ وہ زبان و ادب کی خدمت کو اولین ترجیح دیں۔ جناب قیصر خالد نے کہاکہ آج کا ادبی منظر نامہ نہایت گھناؤنا ہوتا جارہا ہے۔ ہماری شاعری اور نثر میں جو گراوٹ پیدا ہورہی ہے وہ دراصل کاروباری انداز فکر کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے صحت مند اور تعمیری ادب کو موجودہ حالات میں ناگزیر قرار دیا۔ ابتداء میں نامور مزاح نگار پدم شری جناب مجتبیٰ حسین نے افتتاحی و تعارف کلمات میں کہاکہ رنجیت چوہان اور قیصر خالد نے جشن ادب کے ذریعہ زبان و ادب کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ رنجیت چوہان پیشہ کے اعتبار سے انجینئر جبکہ قیصر خالد محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں لیکن اپنی گونا گوں مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود اُنھوں نے سماج میں اُردو زبان کو زندہ جاوید اور مقبول بنانے کے لئے ایک مؤثر اور متحرک مشن پر گامزن ہیں۔ جس سے یقینا اُردو کی موجودہ نسلوں کو زبان اور اُس کے ادب سے جوڑنے میں آسانی ہوگی۔ جناب عابد صدیقی نائب صدر انجمن ترقی پسند مصنفین نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور سامعین کا خیرمقدم کیا۔ پروفیسر بیگ احساس نے اپنی صدارتی تقریر میں مہمان شعراء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کی شاعری میں لہجہ کی تازگی اور تخیل کی بلند پردازی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ریختہ کے بعد جشن ادب و پاسبان ادب کے ذریعہ رنجیت چوہان اور قیصر خالد اُردو کے بزرگ اور نامور ادیبوں و شاعروں کو نہ صرف متعارف کروارہے ہیں بلکہ اُنھیں اعزازات پیش کرکے اُن کے ادبی خدمات کا اعتراف کررہے ہیں۔ جناب بیگ احساس نے کہاکہ جشن ادب کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ باصلاحیت تخلیق کاروں کو متعارف کروائیں خاص طور پر وہ اپنی سرگرمیوں کو حیدرآباد میں وسعت دے سکتے ہیں۔ اُنھوں نے اس موقع پر جناب مجتبیٰ حسین سے اظہار تشکر کیا۔ اُن کی دلچسپی اور کوششوں کے باعث اُردو کے پرستاروں کو ملک کے دو نامور شعراء کے خیالات اور اُن کے کلام کو سننے کا موقع فراہم ہوا ہے۔ جناب رنجیت چوہان نے سامعین کی فرمائش پر اپنا خوبصورت اور فکر انگیز کلام پیش کیا۔ جناب قیصر خالد نے اپنا کلام پیش کرکے خوب داد حاصل کی۔ چنانچہ اُن کے ایک مصرعے ’’رسوا ہوں اپنے گھر میں اُردو بن کر‘‘ پر اُنھیں داد و تحسین سے نوازا گیا۔ جناب عابد صدیقی نے شکریہ ادا کیا۔ اس تقریب میں محترمہ لکشمی دیوی راج، محترمہ قمر جمالی، جناب ایس اے رؤف، محبوب خان اصغر، سید امتیاز الدین، تجمل اظہر، ڈاکٹر فاروق شکیل، احمد صدیقی مکیش اور باذوق مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT