Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / اُسامہ کے مسئلہ پر ملاعمر اور پرویز مشرف کے درمیان اختلافات کا انکشاف

اُسامہ کے مسئلہ پر ملاعمر اور پرویز مشرف کے درمیان اختلافات کا انکشاف

’ہمارا اچھا دوست ‘ ہمارے بدترین دشمن کا بہترین دوست بن رہا ہے ، پاکستان پر امریکہ کا ریمارک
واشنگٹن۔ 5 سپٹمبر۔(سیاست ڈاٹ کام)  مرحوم طالبان رہنما ملا عمر نے مشرف حکومت سے کہا تھا کہ اگر اسے طالبان کی پالیسیاں پسند نہیں تو وہ بے شک قندھار پر بمباری کر دے۔یہ کہنا ہے امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک خفیہ مراسلے کا۔مراسلے میں بتایا گیا کہ چیف ایگزیکٹیو جنرل پرویز مشرف نے یہ بات 26 مارچ، 2000 اسلام آباد میں ایک ملاقات کے دوران امریکی انڈر سیکریٹری سٹیٹ تھامس پکرنگ کو بتائی تھی۔ملاقات میں جنرل مشرف نے ڈی جی آئی ایس آئی محمود کے حالیہ دورہ قندھار کا حوالہ دیتے ہوئے پکرنگ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ طالبان سے نمٹنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مشرف کے مطابق ،ملا عمر نے محمود سے کہا کہ وہ معذرت خواہ ہیں کہ طالبان کی پالیسیاں پاکستان کیلئے مشکلات کا سبب بن رہی ہیں اور یہ کہ اگر اسلام آباد کو ان کی پالیسیاں پسند نہیں تو وہ اپنے ہتھیاروں کے ساتھ آئے اور قندھار پر بمباری کر دے۔جب مشرف نے امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست رابطوں پر زور دیا تو پکرنگ نے انہیں بتایا کہ امریکہ مختلف مقامات پر مختلف اوقات میں طالبان کے ساتھ واشنگٹن، نیو یارک اور اسلام آباد میں براہ راست بات چیت کرتا رہا ہے۔

پکرنگ نے کہا ’’یہ حقیقت امریکہ کیلئے خاص تشویش کا باعث ہے کہ پاکستان طالبان کے سب سے بڑا حامی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارا اچھا دوست ہمارے سب سے بدترین دشمن کا بہترین دوست ہے‘‘۔پکرنگ کے مطابق، یہ ہمارے تعلقات پر ایسا پھوڑا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید خراب ہوتا جائے گا۔پکرنگ نے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ آخر کیوں مشرف ٹھوس نتائج یقینی بنائے بغیر قندھار نہیں جانا چاہتے۔تاہم، یہ ان (مشرف) کیلئے ضروری ہے کہ وہ سمجھیں کہ اسامہ بن لادن کا مسئلہ پاک۔امریکہ تعلقات کو کھا رہا ہے۔اس پر مشرف نے جواب دیا کہ وہ امریکی تشویش سے پوری طرح آگاہ ہیں اور یہ کہ وہ ذاتی طور پر تین بڑے مسائل پر طالبان کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔پہلا مسئلہ دہشت گردی کے تربیتی کیمپ اور افغان سرزمین پر طالبان کی جانب سے پاکستانی دہشت گردوں اور مجرموں کو ٹھکانے فراہم کرنا۔ دوسرا مسئلہ امن اور تیسرا اسامہ بن لادن ہے۔مشر ف نے پکرنگ کو بتایا کہ اسامہ بن لادن کے مسئلہ پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔سابق چیف ایگزیکٹیو نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں دورے پرآئے طالبان کے وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔مشرف کے مطابق، وزیر نے اس مسئلہ پر معمولی لچک دکھاتے ہوئے بن لادن کے خلاف شواہد پر غور کیلئے سعودی عرب ، پاکستان اور ممکنہ طور پر او ائی سی پر مشمل ایک علما کونسل بنانے کے امکان کا اشارہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT