Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / اُمت مسلمہ اور ہماری ذمہ داریاں

اُمت مسلمہ اور ہماری ذمہ داریاں

آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’میرا اور تمہارا معاملہ ایسا ہے کہ پروانے ہیں کہ آگ میں جلنے کو دوڑ رہے ہیں اور میں تم سب کو کمر سے پکڑکر آگ سے بچانے کی کوشش کررہا ہوں ۔ چونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے بعد یہ نبیوں والی ذمہ داری ہم پر ڈالی گئی ہے لہذا اس ذمہ داری کو محسوس کرنا ہوگااور ہم کو بھی اُمت مسلمہ کی نجات کی فکر کرنی ہوگی ۔ اس دنیا میں ۶ ارب انسان ہیں جس میں سے سوا ارب مسلمان اور پونے پانچ ارب کافر ہیں۔ ان سوا ارب مسلمانوں کے بارے میں بعد تحقیق یہ پتہ چلا کہ ان میں سے ۱۵ سے ۲۰ فیصد لوگ ہی نماز پڑھتے ہیں اور بقیہ ۸۰ فیصد بے نمازی ہیں ۔ اب یہ کتنی بڑی فکر کی بات ہے کہ اربوں انسان غفلت کی زندگی گذار رہے ہیں ، ان کا آخرت میں کیا ہوگا ۔ حدیث مبارکہ کی کتابوں میں آتا ہے کہ تمام انبیاء مل کر بھی ایک کافر کو جہنم کی آگ سے بچا نہیں سکتے ۔ لہذا ہم کو کافروں ،مشرکوں اور خود مسلمانوں میں جو اسلامی تعلیمات سے دور زندگی گذار رہے ہیں ان کی فکر کرنا ہوگا کیونکہ یہ اُمت تو لوگوں کا تعلق اللہ سے جوڑنے کے لئے بھیجی گئی ہے ۔ لہذا ہم کو اُمت کی اصلاح کی فکر کرنی ہے اور دعوت کے کام کا شوق اپنے اندر پیدا کرنا ہے ۔ اس کام سے اﷲ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں اور یہی کام آخرت میں نجات اور بلندی درجات کا ذریعہ بنے گا ۔ اگر اس راہ میں مصائب و مشکلات آئیں تو وہ بھی باعث نجات ہے ۔ غرض اس راہ کی مشقتیں آخرت کی راحتیں بنیں گی ۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : ’’ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں علم ہو o  اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے o

TOPPOPULARRECENT