Thursday , April 27 2017
Home / مضامین / اُمید کی کرن

اُمید کی کرن

کے این واصف
سعودی عرب میں برسرکار خارجی باشندے جن میں سب سے بڑی تعداد ہندوستانی باشندوں کی ہے ، پچھلے کوئی تین سال سے ابتر معاشی حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور پچھلے ایک سال سے تو یہ حالات ناقابل بیان حد تک خراب ہوگئے ہیں۔ یہاں کے بازار ویران سے ہوگئے ، عام لوگوں کی قوت خرید دم توڑنے لگی اور کسی کو یہ نہیں معلوم ہورہا تھا کہ یہ حالات کب سدھریں گے کیونکہ اقتصادی ماہرین بھی اس سلسلے میں تقریباً چپ سادھے ہوئے تھے ۔ سعودی عرب میں سب سے بڑی سرگرمی تعمیراتی شعبہ میں تھی اور حکومت کے بیسیوں بڑے پراجکٹس جن پر بڑی بڑی تعمیراتی کمپنیوں نے کام کیا تھا ، ان پراجکٹس کے بلز کمپنیوں کو وصول نہیں ہوئے تھے ۔ نتیجتاً یہ بڑی کمپنیاں اپنے سب کنٹراکٹرز اور سپلائیرز کو ان کے بلز ادا نہ کرسکیں اور طویل عرصہ کی عدم ادائیگی کے سلسلے کی زنجیر نے مملکت کی ہزاروں کمپنیوں کو مالی مسائل میں جکڑ دیا ۔ دوسری طرف ان کمپنیوں میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا نہ ہوسکیں۔ قارئین کو یاد ہوکہ چند ہفتے قبل کوئی آٹھ ہزار سے زائد ہندوستانی کارکنان کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے پیدا ہوئے سنگین مسئلہ کوحل کرنے کیلئے وزارت خارجہ ہند نے نائب وزیر خارجہ ہند کو سعودی عرب روانہ کیا تھا جنہوں نے اس مسئلہ کو کسی حد تک حل کیا مگر ادائیگیاں ہنوز باقی ہیں۔

لیکن اب مملکت کی جانب سے اعلان جاری کیا گیا ہے کہ 2016 ء کے اختتام تک سرکاری خزانے پر نجی اداروں کے جو بقایا جات ادا کردیئے جائیں گے ۔ حکومت کے اس اعلان نے نجی کمپنیوں اور یہاں برسرکار خارجی باشندوں میں امید کی کرن جگائی ہے ۔ مملکت کے اس اعلان کی تفصیلات کچھ اس طرح تھیں۔ کہا گیا تھا کہ 2016 ء کے اختتام تک سرکاری خزانے پر سعودی عرب کے نجی اداروں کے بقایا جات ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ یہ فیصلہ اقتصادی وترقیاتی امور کونسل کے چیرمین ، نائب ولیعہد و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلیمان کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا ۔ کونسل نے سرکاری خزانے پر نجی اداروں کے بقایا جات نمٹانے کی فوری کارروائی کا اصولی فیصلہ کرلیا ۔ یہ بھی طئے کیا گیا کہ سال رواں 2016 ء کے ڈسمبر کے آخر تک تمام بقایا جات ادا کردیئے جائیں۔ اس موضوع پر تفصیل سے مذاکرات ہوئے۔ طریقہ کار پر غور و خوض کیا گیا ۔ ادائیگی کے سلسلے میں ترجیحات کا تعین زیر بحث آیا ۔ اس معاملے کو صاف شفاف انداز میں نمٹانے سے اتفاق رائے پایا گیا ۔ مقامی اخبارات میں شائع رپورٹوں میں بتایا گیا کہ بقایا جات کی ادائیگی کی کارروائی مکمل کرنے کیلئے آن لائین تفصیلات جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔

اس سلسلے میں اقتصادی تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کی بدولت سعودی اقتصادیات پر اعتبار بڑھے گا اور ترقیاتی عمل میں نجی اداروں کی شرکت کی اہمیت اجاگر ہوگی ۔ حتمی منظوری کیلئے معاملات خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو پیش کردیئے گئے ۔ یاد رہے کہ تیل آمدنی میں زبردست کمی کے باعث سرکاری خزانے سے نجی اداروں کے حقوق کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہے ۔ حکومت نے متعدد منصوبوں پر خرچ کے فیصلے پر نظر ثانی اور اخراجات کے سلسلے میں ترجیحات کی تنظیم نو کے فیصلے کئے تھے ۔ عملدر آمد میں رکاوٹیں بھی پیش آئیں جس سے تاخیر میں اضافہ ہوا ۔ اب اقتصادی و ترقیاتی امور کونسل نے تمام معاملات کو نمٹانے کیلئے متعدد حل ترتیب دیئے ہیں اور کونسل کے چیرمین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تمام حل اور مجوزہ تدابیر ایوان شاہی کو پیش کردیں۔ منظوری جاری ہوتے ہی بقایا جات کی ادائیگی شروع ہوجائے گی اور ڈسمبر 2016 ء کے اختتام تک تمام معاملات نمٹا دیئے جائیں گے ۔
بقایا جات کی ادائیگی اعلان شدہ تاریخ کے مطابق ہوجائے تو اگلے چند دنوں میں سعودی مارکٹ کے حالات نارمل ہونے لگیں گے ۔ خصوصاً ان تارکین وطن کو راحت حاصل ہوگی جو کئی کئی ماہ سے تنخواہ حاصل نہ ہونے کی وجہ سے پریشان تھے ، اپنے بچوں کی تعلیم تک کے سلسلے کو منقطع کر کے انہیں وطن واپس بھیج دیا تھا ، حد تو یہ کہ یہاں کی روز مرہ کی ضروریات کی تکمیل تک مسئلہ بنی ہوئی تھی ۔
یوم قومی تعلیم
مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کو ہندوستان میں ’’یوم قومی تعلیم‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اسی مناسبت سے ریاض میں جمعہ کی شب ہندوستانی بزم اردو ریاض نے بھی شاندار پیمانے پر یوم قومی تعلیم تقریب کا اہتمام کیا جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر حفظ الرحمن اعظمی فلاحی ، سکریٹری سفارت خانہ ہند ریاض تھے ۔ ہندوستان سے تشریف لائے میر احمد علی ، دمام سے مدعو کئے گئے نعیم جاوید اور محمد قیصر صدر تنظیم ہم ہندوستانی نے مولانا آزاد پر اظہار خیال کیا اور مولانا آزاد کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

محمد شہباز فاروقی کے ابتدائی کلمات کے بعد بزم اردو کے صدر آرکیٹکٹ عبدالرحمن سلیم نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حصول آزادی میں مولانا آزاد کی عظیم خدمات اور تعلیمی خدمات کا ملک میں کمہ حقہ چرچا یا ان کا ذکر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بزم اردو نے طئے کیا ہے کہ مولانا آزاد کے حو الے سے منعقد اس تقریب کو بزم سالانہ بنیاد پر منائی گئی تاکہ اس عظیم شخصیت کو خراج پیش کیا جائے اور ہمارے ذہنوں میں ان کی یاد اور کارناموں کا اعادہ ہو۔ سلیم نے مولانا کی زندگی کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہوا ایک معلومات آفرین سلائیڈ شو بھی پیش کیا۔
محمد قیصر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری بدبختی رہی کہ ہم نے ایک بڑے دانشور ، محسن قوم اور ایک عظیم سیاستداں مولانا ابوالکلام آزاد جیسی شخصیت کو بہت جلد فراموش کردیا ۔ وطن کیلئے نہ ان کی قربانیوں کو یاد رکھا گیا نہ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے ۔ قیصر نے کہا کہ جو قومیں اپنے رہبروں و محسنوں کو بھلا دیتی ہیں وہ خود وقت کے اندھیروں میں بھٹک جاتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مولانا آزاد نے ایک پرامن طریقہ سے آزادی حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ اس سلسلے میں انہوں نے بیرون ملک کے دورے کئے ، دنیا کے عظیم قائدین کے تجربوں سے استفادہ حاصل کیا ۔ قیصر نے کہا کہ مولانا آزاد نے کبھی اپنی سیاست کو سیکولر اصولوں سے الگ نہیں کیا ۔ یہ ان کا سیاسی تدبر تھا کہ انہوں نے ملک کے ہر طبقہ کو جدوجہد آزادی میں اپنے ساتھ رکھا ، ان کا اعتماد حاصل کیا ۔ قیصر نے کہا کہ اگر مولانا آزاد کی سیاسی رہنمائی اور قوم کو جو تجاویز ایک متحدہ ہندوستان کیلئے انہوں نے دیں تھیں وہ اگر مانی جاتی تو آج جنوب مشرقی ایشیاء کا یہ خطہ دنیا کی ایک عظیم طاقت ہوتا۔
قادرالکلام مقرر نعیم جاوید جنہیں اس تقریب سے خطاب کیلئے خصوصی طور پر دمام سے مدعو کیا گیا تھا ، نے کہا کہ مولانا آزاد کی زندگی ہندوستان میں ایک علم کے چراغ کی مانند تھی ۔ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک مولانا آزاد جنہوں نے تعلیم کی کوئی باضابطہ سند حاصل نہیں کی تھی لیکن ان کی بے پناہ صلاحیتوں کی بناء پر انہیں آزاد ہندوستان کا پہلا وزیر تعلیم مقرر کیا گیا اور انہوں نے اپنے دور وزارت میں جو تعلیمی منصوبے پیش کئے ، جو عصری اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کئے ، اس سے آج تک قوم مستفید ہورہی ہے ۔ نعیم جاوید نے کہا کہ آزاد کی فکر کے تانے بانے دنیا کے عظیم انقلابی قائدین سے ملتے تھے ۔ مولانا آزاد نے ہندوستان میں تعلیم نسواں پر سب سے پہلے زور دیا ۔ آزاد علم کو صرف روزگار حاصل کرنے کا وسیلہ بنانے کے بھی مخالف تھے ۔ آزاد نے قوم کو حصول آزادی کی راہ دکھائی ۔ نعیم نے کہا کہ اسے ہندوستانی قوم کی بدقسمتی کہا جاسکتا ہے کہ ہم مولانا آزاد کی لکھی نادر تحریریں اور مولانا آزاد پر لکھے گئے ہزاروں صفحات جو ریختہ ویب سائیٹ اور انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں نہیں پڑ ھتے جبکہ یہ ہمارے لئے ایک مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
ریاض میں مولانا ابوالکلام آزاد پر سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے شخص کے طور پر پہچان والے میر احمد علی نے کہا کہ آزاد کہا کرتے تھے کہ ہندوستان میں صرف مسلمان ہی باہر سے نہیں آئے تھے بلکہ ’’آرین نسل‘‘ کے لوگ بھی ہندوستان میں باہر سے آ بسے ہیں۔ احمد علی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ یہی آرین نسل آج مسلمانوں کے ساتھ غیر ملکیوں کا سا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوںکے کہا کہ مسلمان اور غلامی یکجا نہیں ہوسکتے اور مولانا آزاد کی تحریک آزادی ہند میں حصہ لینے کی یہی بنیاد تھی ۔ مولانا آزاد کی پالیسی ہر مکتب خیال اور طبقہ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرلینا اور ہر ا یک کو ساتھ چلنا تھی ، اسی لئے آزاد کی زندگی میں ان کے مخالفین نہیں رکھنے کے برابر تھے ۔ احمد علی نے کہا کہ آزاد کا مشن خواندگی پھیلانا اور قوم کو تعلیم یافتہ بنانا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ شعور انسانیت سے عاری تعلیم یافتہ شخص ایک ترقی یافتہ حیوان کے مانند ہے۔

مولانا آزاد کے مداح اور تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر حفیظ الرحمن اعظمی نے کہاکہ مولانا آزاد اس بات کے حامی تھے کہ آزاد ہندوستان ملک کے رہنے والوں کا ہونا چاہئے ، کسی خاص طبقہ یا فرقے کا نہیں۔ وہ قومی اتحاد کے قائل تھے ۔ ان کی نظر میں اتحاد کے بغیر آزادی بے معنی شئے تھی ۔ انہوں 1912 ء میں لکھی ایک تحریر میں مسلمانوں کو ملک کے غیر مسلموں کے ساتھ عہد محبت باندھنے کا مشورہ دیا تھا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابوالکلام آزاد ہی حقیقت میں مولانا کہلانے کے اہل تھے اپنے علم کے اعتبار سے ۔ ڈاکٹر حفظ الرحمن نے مولانا آزاد کی تحریروں کے بہت سے اقتباسات پڑھ کر سنائے جس سے سامعین کے علم میں ایسی باتیں آئین جن سے بہت کم لوگ واقف تھے ۔ حفظ الرحمن نے مشورہ دیا کہ لوگ آزاد کی تحریروں کو پڑھیں، اس سے ان پر علم و ادراک کے باب کھلیں گے۔
آخر میں صدر ہندوستانی بزم اردو ریاض نے مہمان مقرر نعیم جاوید اور مہمان خصوصی ڈاکٹر حفظ الرحمن کو یادگاری تحفے پیش کئے ۔ تقی الدین میر نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ محمد شہباز فاروقی کے ہدیہ تشکر پر اس محفل کا اختتام عمل میں آیا ۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT