Monday , September 25 2017
Home / دنیا / اِسلام پسند قیدیوں کیلئے برطانوی جیلوں میں علیحدہ یونٹ

اِسلام پسند قیدیوں کیلئے برطانوی جیلوں میں علیحدہ یونٹ

جیلوں کے کتب خانوں سے انتہا پسندی پر مبنی کتابیں ہٹانے کا عزم
لندن۔ 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ کی وزیر انصاف لز ٹرس جیلوں میں مخصوص سیل تیار کروائیں گی جس میں ایسے اسلام پسند قیدیوں کو رکھا جائے گا جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ دوسروں کو مذہبی شدت پسندی کی جانب مائل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے جیلوں میں مسلمانوں کی مذہبی انتظامیہ کی جانچ پڑتال کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے اور جیلوں کے کتب خانوں سے انتہا پسندی پر مبنی کتابیں ہٹانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ان اقدام کا اعلان اس رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جیلوں میں ’شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے مسائل سے لاپرواہی برتی جاتی ہے۔‘لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے بدنام اسلامی قیدی ہیرو بن سکتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے بعض خطرناک ترین قیدی جیل کے اندر یکجا ہو جائیں گے۔جیلوں میں انتہا پسندی کے تجزیے پر مبنی رپورٹ کے سربراہ اور جیل کے سابق گورنر ایئن ایچیسن نے کہا کہ جیلوں میں شدت پسند نظریات کو چیلنج کرنے میں ادارے کی سطح پر ’بزدلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے‘ اور عملے کو یہ ڈر رہتا ہے کہیں انھیں نسل پرست نہ قرار دیا جائے۔یہ رپورٹ پیر کو شائع ہو رہی ہے لیکن سکیورٹی اسباب کے باعث اس کا صرف خلاصہ ہی شائع کیا جائے گا۔انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ سخت مذہبی قسم کے لوگ جمعہ کی نماز کیلئے عملہ سے چھٹی حاصل کرنے کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تجاویز میں تشدد پر آمادہ انتہا پسند قیدیوں کو دوسرے قیدیوں سے علیحدہ کر کے ’بے دست و پا  بنا دینا‘ بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ سخت سکیورٹی والی جیلوں میں مخصوص یونٹ تیار کئے جائیں اور ایسے لوگوں کو باقی جیلوں سے بالکل علیحدہ کر دیا جائے۔ مسٹر ایچیسن نے کہا کہ ان کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں اصلاحی خدمات انجام دینے والا ادارہ نیشنل اوفینڈر مینجمنٹ سروس ’اسلامی شدت پسندی کے واضح خطرات کو سمجھنے اور اس کا تدارک کرنے میں بڑی حد تک غیر موثر رہا ہے۔‘ انھوں نے بی بی سی کے نام ایک ای ۔میل میں لکھا ہے کہ جیل کے عملے، قیدیوں اور وسیع تر معاشرے کو بچانے کیلئے اس میں تبدیلی آنی چاہئے اور اس ضمن میں ہم نے درجنوں سفارشات پیش کی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT