Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / اِس بے بس کندھے پر انسان نہیں ’’سسٹم کی لاش‘‘ ہے

اِس بے بس کندھے پر انسان نہیں ’’سسٹم کی لاش‘‘ ہے

محمد جسیم الدین نظامی
ریاست اڑیسہ سے دو دن کے اندر اندر سامنے آنے والی دو تصاویر نے نہ صرف انسانیت کودہلادیا ہے بلکہ سرکاری سٹم پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔یہ تصاویر جہاں ایک طرف انسانی بے بسی کی واضح ثبوت ہیں تووہیں دوسری طرف بلا شبہ یہ حکومتی بے حسی کا بھی مظہر ہے اور اقتدار واختیار رکھنے والے سیاستدانوں کی پیشانی پر بدنما داغ بھی ۔ یہ شرمناک اور غیر اخلاقی فعل ملک و قوم کیلئے باعثِ ندامت ہیں جن سے حکومت کا مسخ شدہ چہرہ بھی ظاہر ہوگیا ۔ ان واقعات نے  دنیا کا 7واں سب سے امیرترین ملک ہندوستان کو عالمی سطح پرایک بار پھر آشکار کردیا ،جہاں دولت کی غیرمساویانہ تقسیم اور غریبی وامیری کے فرق کے سبب ہندستانی سماج کو ہررو ز ایک نئے کرب و اضطراب کا سامناکرنا پڑتاہے۔پہلے منظر عام پرآنے والی تصویرمیں، اڑیسہ کے کالا ہانڈی کا ایک قبائلی شخص اپنی روتی اوربلکتی ہوئی بیٹی کے ساتھ مردہ بیوی کی لاش کندھے پر اٹھاکر  12 کیلو میٹر لے جاتا نظر آیا، کیونکہ اس کے پاس ایمبولنس کرنے کیلئے پیسے نہیں تھے، اور ہاسپٹل انتظامیہ نے کوئی انتظام کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔جبکہ دوسری تصویر میں ہاسپٹل ملازمین ایک خاتون کی لاش پر چڑھے نظر آ رہے ہیں، وہ اس کی ہڈیاں توڑتے ہیں، پھر لاش کو موڑ کر ایک پوٹلی بناتے ہیں، اس کے بعد بمبو سے پوٹلی لٹکا کر چل پڑتے ہیں۔ انسانی بے حسی کی یہ تصویریں کئی ایک سوالات پیدا کردئے ہیں۔ہندوستانی معاشرے میں انسانیت کا سوال، مرض اور مریضوں کے ساتھ اختیارکئے جانے والے رویّے کا سوال اور محکمہ جاتی غفلت اوربے حسی کا سوال۔انسان ہونے کے ناطے دوسرے انسان کی پریشانیو ں کے تئیں ہمدردی اوراسکا مداوا انسانیت کہلاتاہے۔ لیکن تیزی سے بدلتے ہندوستان میں جذبات و احساسات کہیں پیچھے چھوٹتے جا رہے ہیں۔ سماج اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے اور دوسروں کی تکلیفیں محض اضطراب پیدا کرتی ہیں اوروہ بھی ’’کچھ وقت کیلئے‘‘۔ جب تک دوسروں کی پریشانیاں ہمیںپریشان نہیں کریںگی تب تک اس کا اجتماعی حل تلاش کرنے کی ضرورت بھی پیدا نہیں ہوگی۔ حکومت کی جانب عوامی سہولیات میں اضافہ اور انہیں ہر شہری کے لئے فراہم کرنے کے بجائے اسے عام آدمی پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کس طرح پوری کریں ۔اگر پیسہ ہے تو ضروریات پوری ہوں گی، اگر نہیں تو اس بات کی بھی فکر نہیں ہے کہ اس سے سماج کو کتنا نقصان ہوگا۔اخباری اطلاعات کے مطابق،ڑیسہ کی کالا ہانڈی ملک کے غریب ترین اضلاع میں سے ایک ہے ۔وہیں کے سرکاری دواخانہ میں دینا مانجھی کی بیوی کی موت ٹی بی سے ہوئی۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ بیوی کی لاش کندھے پر لے جاتے ہوئے مانجھی کی تصویر ٹھیک اس دن شائع ہوئی ہے جس دن سائنس میگزین ’’ لیسیٹ ‘‘نے یہ خبر شائع کی ہے کہ ہندوستان میں ٹی بی کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ٹی بی اک متعدی بیماری ہے اور ٹی بی کی وجہ سے مرنے والے انسان کی لاش کو اس طرح لے جانے دینا ہاسپٹل انتظامیہ کی سنگین غلطی ہے۔دوسرا دلسوز واقعہ بھی اڑیسہ کے ہی علاقہ بالاسورکاہے جہاں 80 سالہ بیوہ عورت سلمانی بیہڑا کی بالاساسور ضلع میں چہارشنبہ کی صبح ریلوے اسٹیشن کے قریب مال گاڑی کے نیچے آ جانے سے موت ہو گئی۔ اسکی لاش کو سورو کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا۔حالانکہ ریلوے پولیس کو واقعہ کی اطلاع دے دی گئی تھی، پھر بھی متعلقہ ملازم قریب 12 گھنٹے بعد شام کو ہاسپٹل پہنچے ۔لاش کی پوسٹ مارٹم کیلئے بالاسور ضلع لے جانا ضروری تھا، مگر کوئی ایمبولینس موجود نہیں تھا۔ سوروکی جی آر پی اسسٹنٹ سب انسپکٹر پرتاپ رودر مشرا کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کو لاش ریلوے اسٹیشن لے جانے کو کہا تھا، تاکہ اسے ٹرین سے بالاسور بھیجا جا سکے مشرا کے مطابق، ٹرالی ڈرائیور نے3,500روپے کا مطالبہ کیا جبکہ ہم ایسے کام کیلئے ایک ہزار سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتے۔ میرے پاس سی ایچ سی کے چوتھے درجے کے ملازمین کی طرف سے لاش لے جانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ۔تاخیر ہونے کی وجہ سے،لاش سخت ہوگئی تھی جس کی وجہ سے لاش باندھنے میں پریشانی ہو رہی تھی اس لئے انہوں نے گھُٹنے کے پاس سے پاؤں کو توڑ دیا، اس کے بعد اسے پرانی چادر میں لپیٹ کر ایک بمبو سے باندھا اور دو کلومیٹر دور واقع ریلوے اسٹیشن لے گئے اس کے بعد لاش کو ٹرین سے لے جایا گیا ۔سلمانی کے بیٹے نے کہا کہ جب انہوں نے اپنے ماں کی لاش کے ساتھ اختیاکئے گئے سلوک کے بارے میں سنا تو وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا، انہیں تھوڑی اور انسانیت دکھانی چاہیے تھی ۔ آج کے معاشرے میں غریب روزانہ مرتا ہے اور روزانہ جیتا  ہے ۔ آج کے دور میں غریب’’ پیسہ کمانے‘‘ اور امیر’’ پیسہ سنبھالنے‘‘ میں مصروف ہے۔ہر ایک جماعت یہی کہتی ہے کہ غریبوں کے لئے کچھ کر و۔ مگریہ کبھی اپنے محلوں سے نکل کر غریبوں کی جھوپڑی کی طرف نہیںجاتے۔ اگریہ ایک باربھی وہاں جاکر دیکھیں تو احساسِ ندامت (اگر احساس زندہ ہوتو) انہیںضرور لڑکھڑا دے گا۔ کیونکہ وہاںغربت ہی ملے گی ، فاقے ہی ملیں گے، دودھ کی جگہ نونہالانِ وطن پانی پر گزارا کرتے ہوئے ملیں گے، تین وقت کی روٹی کی جگہ ایک وقت پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہوگا، سونے کے لئے آرام دہ بستر کے بدلے فرش اور ٹاٹ ہی دستیاب ہوگا۔مختصر یہ کہ زندگی کی سہولیات اس طبقے میں نام کو بھی نہیں ملے گا۔حالانکہ

حکومت وقت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو صحت،تعلیم،روزگار سمیت تمام سہولیات مہیا کرے۔مگر عوام کے ووٹوں سے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے والے عوام کو ہی فراموش کردیتے ہیں۔یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مرکزیحکومت نے گورنمنٹ ہیلتھ سیکٹر کے لیے قومی بجٹ کا محض 5% فیصد سے بھی کم مختص کر رکھا ہے۔ کوئی وزیر یا کوئی وی آئی پی کسی سرکاری دواخانے میںعلاج نہیں کرواتا بلکہ پروائیویٹ یا بیرون ممالک کوترجیح دی جاتی ہے۔ایسے میں سرکاری دواخانوںکی حالت یا صحت کے شعبے میںکیسے بہتر آئگی۔جب شہرکے سرکاری دواخانوںمیں ادویات نہیں،ٹیسٹوں کے نام پر پیسے بٹورے جا رہے ہیں ،ڈاکٹر وقت پر مریض کو نہیں دیکھتے تودیہی علاقوںکی حالت کیا گی؟۔ آج  عام آدمی تعلیم صحت اور روزگار کے مسائل سے دوچار ہے ،امیر اور غریب کیلئے الگ الگ قوانین ہیں۔امیروں کو زندگی کی تمام آسائشیں حاصل ہیں جبکہ غریب بنیادی ضروریات زندگی کے حصول کیلئے مارا مارا پھرتا ہے ،لیکن اس کی آہ و فریاد پر کوئی کان نہیں دھرتا۔ دوہرے معیار زندگی کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے اور بجاطور پر عام آدمی اپنی محرومیوں کا ذمہ دار مقتدر طبقہ کو سمجھتا ہے ، شاہانہ زندگی گزارنے والے وزیروں مشیروں کاتو سرکاری خزانے سے علاج ہوتا ہے جبکہ وہ لوگ جو دووقت کے کھانے کیلئے پریشان رہتے ہیں ان کیلئے علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کی طرف کسی کا دھیان نہیں۔ایک اطلاع یہ بھی ہے یہ اڑیسہ کی حکومت نے فروری میں غربیوں کے لیے ایک سکیم کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق ہاسپٹل سے لاشوں کو گھر تک گاڑی کے ذریعے پہنچانے کو یقینی بنانا تھا۔تاہم ریاست میںصحت سے متعلقہ سہولیات کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے نصف درجن سے زائد لاشوں کو سائیکلوں، ٹرالی رکشوں اور لکڑی کی چارپائیوں پر در دراز علاقوں تک منتقل کیا گیا ہے۔دراصل  دور دراز کے ایسے کئی علاقے ہیں جہاں سرکاری ہاسپٹل اکثر و بیشتر انتقال کرنے جانے والے مریضوں کی لاشوں کو ورثاء کے گھروں تک پہنچانے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ جسکے نتیجے میںپسماندگان اکثر اپنے خرچ پرلاش لے کر جانے کیلئے کسی ایمبولینس یا گاڑی کا بند و بست کرتے ہیں۔اگرماضی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگاکہ آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ملک نے مختلف شعبوں میں بھلے ہی کچھ ترقی کی ہو، مگر اس دوران امیری اورغریبی کے درمیان فرق میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اس کا اثر صحت کے شعبے میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے اب بھی دیہی علاقوں میں 70 فیصد بچے ہیموگلوبن کی کمی کا شکار ہیں دیہات میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں غذائی قلت اور اسہال جیسی بیماریاں عام ہیں۔دیہی علاقوں میں اب بھی نہ تو مطلوبہ تعداد میں ہیلتھ سنٹرس ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر اور ناہی تربیت یافتہ نرسیں۔ حکومت نے سب تک صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے ’’قومی دیہی ہیلتھ مشن اور نیشنل اربن ہیلتھ مشن‘‘ نامی دو منصوبے ضرور شروع کی ہیں، لیکن اب تک عام لوگوں تک اس کا فائدہ نہیں پہنچا ہے ۔تمام قانون بننے کے باوجود میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے والے بہت سے ڈاکٹر ملک میں کام کرنے کے بدلے بیرون ملک کا رخ کر لیتے ہیں۔قومی صحت مشن کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرجری، نسوانی ا مراض اور مرض اطفال جیسے امراض کے شعبوں میں 50 فیصد ڈاکٹروں کی کمی ہے ۔دیہی علاقوں میں تو یہ اعداد و شمار 82 فیصد تک ہے۔ حالیہ برسوں میں بیرون ملک جا کر پڑھنے والے ہندوستانیوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ چین کے بعد ہندوستان سے ہی سب سے زیادہ نوجوان پڑھنے کے لئے بیرون ملک جاتے ہیں۔ تجارتی تنظیم ایسوچیم کے مطابق، ہر سال تقریبا ً4 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی بیرون ملک تعلیم کیلئے جا رہے ہیں ان کا مقصد صرف بیرونی ملکوںسے ڈگری لینا ہی نہیں بلکہ ڈگری ملنے کے بعد بیرون ملک ہی بسنا ہوتا ہے ۔ جبکہ ہندوستان دنیا کے اہم ممالک کو سب سے زیادہ ڈاکٹروں کی فراہم کرتا ہے۔ انٹرنیشنل مائگریشناٹلس کے اعداد و شمار کے مطابق، بیرون ملک کام کرنے والے ہندوستانی ڈاکٹروں کی تعداد سال 2000 میں 56 ہزار تھی جو 2010 میں 55 فیصد بڑھ کر 86,680 ہو گئی ۔اک اندازے کے مطابق اب یہ اعداد و شمار ایک لاکھ سے زیادہ ہو گیا ہے۔ ان میں سے 60 فیصد اکیلے امریکہ میں ہی ہیں۔سرکاری اعداد و شمارکے مطابق، ملک میں فی 893 افراد پر محض ایک ڈاکٹر ہے ان میں ایلوپیتھی کے علاوہ آیور ویدک، یونانی اور ہومیوپیتھی کے ڈاکٹرس بھی شامل ہیں وزیر مملکت برائے صحت کا کہنا ہے کہ فی الحال ملک میں 9.59 ملین رجسٹرڈ ایلوپیتھی ڈاکٹرس ہیں باقی تین شعبوں کو ملا کر 6.77 لاکھ اور ڈاکٹرس ہیں مرکزی وزیر صحت نے راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ ملک بھر میں 14 لاکھ ڈاکٹروں کی کمی ہے اور ہر سال تقریبا 5500 ڈاکٹر ہی تیار ہو پاتے ہیں ۔ حالانکہ دنیا بھرمیں ہندوستان کی تیزرفتار ترقی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے مگرزمینی حقیقت کچھ اورہی کہانی بیان کرتی ہے ۔بہرحال ایسے واقعات کا انسداد ضروری ہے۔ کاش انسانیت جاگ جائے اور اپنی قوم اورملک کو مفاد پرست اوربے حس حکمرانوں سے نجات دلانے کا کچھ نہ کچھ حل تلاش کریں۔

TOPPOPULARRECENT