Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / اِنسداد دہشت گردی پر ہند۔ برطانیہ تعاون میں اضافہ پر زور

اِنسداد دہشت گردی پر ہند۔ برطانیہ تعاون میں اضافہ پر زور

معاشی ترقی میں دونوں ممالک کلیدی پارٹنر بن سکتے ہیں ، پرنب مکرجی کا اظہار خیال ، وزیراعظم برطانیہ تھریسامے کی ملاقات
نئی دہلی۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور برطانیہ کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔ دہشت گردی عالمی امن اور یکجہتی کے لئے ایک بڑی لعنت بن چکی ہے۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے دورہ کنندہ وزیراعظم برطانیہ تھریسامے سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔ تھریسامے نے کل رات صدرجمہوریہ سے ملاقات کی تھی۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ ہندوستان اپنی ترقی اور معیشت میں برطانیہ کو ایک کلیدی پارٹنر کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ ہندوستان اس بات کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ زیادہ سے زیادہ برطانوی کمپنیاں ہمارے قومی پروگرامس جیسے میک اِن انڈیا، اِسکل انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا وغیرہ میں شراکت دار بن سکے۔ راشٹرپتی بھون کے ترجمان نے ایک بیان میں صدرجمہوریہ کے حوالے سے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن اور یکجہتی کے لئے ایک بڑی لعنت بن چکی ہے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس کی کوئی علاقائی یا نظریاتی حد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور برطانیہ کو انسداد دہشت گردی کے معاملے میں مزید تعاون کرنا چاہئے۔ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کے خلاف مقابلے میں عزم و استقلال کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ صدرجمہوریہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گڈس اور سرویسیس کے شعبہ میں باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے کافی مواقع پائے جاتے ہیں۔ دونوں ممالک باہمی تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دے سکتے ہیں جبکہ سال 2015-16ء کے دوران ہندوستان اور برطانیہ کے مابین باہمی تجارت 14 بلین ڈالرس رہی۔ تھریسامے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ انہوں نے برطانیہ کے یوروپی یونین سے اخراج کے بعد پہلے باہمی دورہ کیلئے ہندوستان کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کئی بین الاقوامی مسائل پر یکساں نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اور مالیاتی روابط پہلے سے کافی مستحکم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دفاعی اور بین الاقوامی سلامتی پارٹنرشپ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ عوام سے عوام کا رابطہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان اس بات کا خیرمقدم کرتا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مستقل نشست کی امیدواری کیلئے اسے برطانیہ کی تائید حاصل ہے۔ تھریسامے نے صدرجمہوریہ کے ظاہر کردہ احساسات پر طمانیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا یہ دورہ باہمی روابط کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں اس کی دلچسپی کا مظہر ہے۔ ترجمان نے وزیراعظم برطانیہ کے حوالے سے بتایا کہ باہمی سرمایہ کاری اور تجارت کے معاملے میں اس وقت کافی مواقع پائے جاتے ہیں۔ برطانیہ چاہتا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ باہمی پارٹنرشپ کو کلیدی اہمیت حاصل رہے اور اس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے۔وزیراعظم برطانیہ تھریسامے نے قبل ازیں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی اور ان کے اس دورہ کو دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات میں اضافہ کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔مودی سے مختلف اُمور پر انہوں نے تبادلہ خیال کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT