Monday , August 21 2017
Home / مضامین / آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

مودی حکومت کے 18 ماہ…صرف وعدے ہی وعدے
ورلڈ ٹور سے گھر واپسی کی ضرورت

رشیدالدین
نریندر مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے 18 ماہ مکمل ہوگئے۔ عوام نے بڑی امیدوں اور توقعات کے ساتھ نریندر مودی کو اقتدار پر فائز کیا۔ عوام نے ان نعروں اور وعدوں پر بھروسہ کیا جو مودی نے انتخابی مہم کے دوران کئے تھے۔ ہندوستانی عوام کی خوبی کہیں یا کمزوری کہ وہ اپنی سادگی اور بھولے پن کے سبب آسانی سے کسی کے بھی جھانسہ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح عوام نے نریندر مودی پر بھروسہ کرلیا کہ حقیقی معنوں میں اچھے دن واپس آئیں گے اور ہر گھر میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ عوام نے بی جے پی کو لوک سبھا میں بھاری اکثریت دی لیکن اس کے عوض 18ماہ گزرنے کے باوجود انہیں صرف مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ جس طرح ہر حکومت کو کارکردگی کے مظاہرہ کے ذریعہ وقت دیا جاتا ہے اسی طرح نریندر مودی حکومت کو بھی بھرپور موقع دیا گیا لیکن صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید ابتر ہوگئی۔ اچھے دن کا انتظار کرنے والوں کو برے دنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عام طور پر کوئی بھی حکومت اپنی میعاد کے آخری ایام میں مقبولیت کھونے لگتی ہے لیکن نریندر مودی حکومت واضح اکثریت کے باوجود انتہائی کم عرصہ میں غیر مقبول ہوگئی اور عوام اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ یہ محض نعروں اور وعدوں سے چلنے والی حکومت ہے۔ 18ماہ کے دوران نریندر مودی کوئی ایسا کام پیش کرنے کے موقف میں نہیں جسے کارنامہ کہا جاسکے۔ ہاں مودی نے کم عرصہ میں 35 سے زائد ممالک کے دورہ کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ کسی ملک کے سربراہ مملکت نے 18ماہ میں اتنے ممالک کا شائد ہی دورہ کیا ہو۔ انتخابی مہم کے دوران ملک کے کونے کونے میں وعدوں کے پٹارے کے ساتھ گھومنے والے مودی نے 18 ماہ میں وزیراعظم کی حیثیت سے ملک کی تمام ریاستوں کا دورہ بھی نہیں کیا لیکن وہ ورلڈ ٹور پر نکل پڑے ہیں۔ بی جے پی قائدین کو شائد آنے والے دنوں میں مودی کیلئے گھر واپسی مہم کا آغاز کرنا پڑے گا۔ مودی کیلئے دیش صرف ٹرانزٹ ہالٹ اور باقی دنیا اصل دیش دکھائی دے رہی ہے۔ بہار میں پارٹی کی شکست کا  غم بھلانے کیلئے برطانیہ اور ترکی کے دورہ کی تھکن ابھی دور نہیں ہوئی تھی کہ وہ ملیشیا اور سنگا پور کے دورہ پر روانہ ہوگئے۔ اگر بیرونی دوروں کا سلسلہ اسی طرح برق رفتاری سے جاری رہا تو عجب نہیں کہ دنیا کے نقشہ پر بعض نئے ممالک کا اضافہ ہوجائے گا

جو مودی کی کھوج کا نتیجہ ہوں گے ۔ ان حالات میں بی جے پی کو ایک مستقل کارگزار وزیراعظم کی تلاش کرنی پڑے گی، جو مودی کے غیاب میں ذمہ داری نبھاسکے۔ ہمیشہ اپنی غریب زندگی کی دہائی دینے والے وزیراعظم کیونکر لاکھوں کروڑوں روپئے اپنے دوروں پر خرچ کر رہے ہیں جو کہ عوام کی امانت ہیں۔ بیرونی دوروں پر اب تک کے خرچ کا حساب کریں تو غریبوں کے لئے ایک نئی اسکیم کے برابر ہوگا۔ اس قدر بیرونی دوروں سے فرد واحد کی تشکیل اور تسکین کے سوا ملک اور عوام کو کیا فائدہ ہوا۔ جس طرح داخلی سطح  پر مودی عوام کی توقعات پر کھرے نہیں اترسکے، ٹھیک اسی طرح خارجی محاذ پر بھی ان کا کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے ۔ بڑے ممالک سے تعلقات میں بہتری کی باتیں محض رسمی ہیں کیونکہ یہی ممالک سلامتی کونسل میں ہندوستان کو مستقل رکنیت کے مخالف ہیں۔ پڑوسی ممالک میں سوائے بنگلہ دیش کے کسی سے ہندوستان کے تعلقات بہتر نہیں ۔ نیپال ، مالدیپ حتیٰ کہ سری لنکا سے بھی تعلقات کو استوار نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان کا معاملہ تو کسی تبصرہ کا محتاج نہیں۔ ملک کے داخلی امور میں دوسرے ممالک کی مداخلت کی مخالفت کرنے والا ہندوستان اب نیپال میں مخالف دستور احتجاجیوں کی درپردہ تائید کر رہا ہے ۔ غذائی اجناس کی ناکہ بندی کردی گئی تاکہ بحران پیدا کرتے ہوئے نیپالی حکومت کو جھکایا جاسکے ۔ حلف برداری میں نواز شریف کو مدعو کرنے والے نریندر مودی بیرونی دورہ کے موقع پر تو ملاقات یا پھر دور سے دوستی کا ہاتھ ہلا رہے ہیں لیکن سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے میں وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ جب کسی ملک کے تعلقات پڑوسیوں سے بہتر نہ ہوں تو دور دراز کے ممالک کی دوستی کس فائدہ کی۔ دوست بھلے ہی تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن پڑوسیوں کو بدلا نہیں جاسکتا۔ اب وقت آچکا ہے کہ وزیراعظم اپنے ورلڈ ٹور کے بجائے اندرون ملک دورہ کرتے ہوئے عوامی مسائل پر توجہ دیں۔ جب تک اندرون ملک کارکردگی بہتر نہیں ہوگی، بیرون ملک امیج بہتر نہیں ہوسکتا۔ جس طرح گزشتہ دنوں لندن میں مودی کو صحافیوں کے تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑا ، کسی اور ملک میں بھی ایسے سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔
رہا سوال اندرون ملک کارکردگی کا تو سب سے پہلے نفرت اور عدم رواداری کا مسئلہ ابھی بھی چیلنج بنا ہوا ہے ۔ وزیراعظم جو مرد آہن کہے جاتے تھے ، وہ سماج کو بانٹنے والوں پر کنٹرول میں ناکام ہوچکے ہیں ۔

گھر واپسی ، لو جہاد سے لیکر بیف کی سیاست نے ملک کے سیکولر کردار کو نہ صرف مجروح کیا بلکہ دنیا بھر میں ہندوستان کی بدنامی کا سامان کیا ہے۔ کیا اچھے دن یہی ہیں کہ ملک کی مذہبی اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوں، کیا اسی کو اچھے دن کہیں گے کہ غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں۔ غریبوں سے دال ، پیاز حتیٰ کہ ٹماٹر کو بھی چھین لیا گیا ۔ بڑھتی مہنگائی نے غریب کو تو کہیں کا نہیں رکھا ساتھ میں متوسط طبقہ کو غریبی کی سطح تک پہنچادیا ۔ بڑھتی مہنگائی سے عوام بدحال ہیں لیکن نریندر مودی کو کسی طرح کرسی بچانے کی فکر ہے ۔ وزیراعظم یہ نہ بھولیں کہ جن غریبوں نے مسند اقتدار پر فائز کیا ، وہ اقتدار سے ہٹانا بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے ہنگامی منصوبہ تیار کرنے کے بجائے وزیراعظم بیرون ملک ہندوستانیوں سے خطاب کی تیاری میں ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی نے دہلی اور بہار کے نتائج سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس کا نعرہ محض مذاق بن چکا ہے لیکن مودی نے اس نعرہ میں ’’سب کو انصاف‘‘ کا اضافہ کردیا۔ ان زبانی نعروں سے کام نہیں چلے گا اور نہ ہی ملک ترقی کی سمت گامزن ہوگا۔ نہ ہی وکاس ہے اور نہ ہی انصاف ۔ کالے دھن کی واپسی اور ہر شہری کو 15 لاکھ روپئے کا وعدہ کیا پورا ہوگیا ؟ 4 کروڑ روزگار کی فراہمی کیا مکمل ہوگئی؟ کسی نے کیا خوب تجزیہ کیا ہے کہ دادری ، دلت اور دال بی جے پی کو زوال سے دوچار کردیں گے ۔ بہار میں انتخابی فائدہ کیلئے ایک لاکھ 25 ہزار کروڑ کے پیکیج کا اعلان کیا گیا جبکہ کشمیر میں حلیف پی ڈی پی کو خوش کرنے 80 ہزار کروڑ کے پیکیج کا اعلان ہوا۔ کیا سرکاری خزانہ صرف چند ریاستوں کیلئے مخصوص ہے؟ دیگر پسماندہ  ریاستوں بشمول تلنگانہ اور آندھراپردیش کے لئے پیکیج کیوں نہیں ؟ اب جبکہ آسام ، اترپردیش ، مغربی بنگال اور کیرالا میں انتخابات قریب ہیں ، شائد وزیراعظم وہاں کیلئے بھی پیکیج کا اعلان کریں گے۔ وزیراعظم نے کمپیوٹر میں مہارت کا مظاہرہ کرنے والے راجستھان کے اسکول ٹیچر عمران خان کی ستائش کی لیکن انہیں گجرات کے ان ہزاروں عمران کا خیال نہیں آیا جو آج تک انصاف کو ترس رہے ہیں۔ ہزاروں لٹے پٹے خاندانوں کے عمران بنیادی ، تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں اور گجرات حکومت ان پر توجہ کرنے تیار نہیں ۔ مسلم نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اعتراف اور ان کی قدر کرنا اچھی علامت ہے لیکن وزیراعظم اپنے ماضی پر بھی نظر ڈالیں۔ 2002 ء سے ان کی آبائی ریاست گجرات میں کئی عمران اپنی صلاحیتوں کے مظاہرہ کیلئے تیار ہیں  لیکن حکومت نے آج ان کی سرپرستی نہیں کی۔ کیا یہی سب کا وکاس اور سب کے ساتھ مساوی انصاف ہے۔ ملک میں اگر نفرت اور عدم رواداری کی یہی ذہنیت رہی تو پھر کس طرح حولدار عبدالحمید ، مولانا ابوالکلام آزاد اور اے پی جے عبدالکلام تیار ہوں گے ۔

نریندر مودی مسلمانوں کے ساتھ وہی کر رہے ہیں جو سابق حکمرانوں نے کیا تھا۔ صرف تعریف سے پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی پسماندگی دور ہوگی۔ گجرات کی موجودہ حکومت کو 2002 ء فسادات کے متاثرین کی بازآبادکاری کے اعداد و شمار جاری کرنے چاہئیں ۔ بہار کے نتائج کے ساتھ ہی  ملک میں عدم رواداری ، اشتعال انگیز بیانات کے ساتھ ساتھ ایوارڈ واپسی کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ دونوں محاذوں پر سناٹا چھا گیا۔ اس مہم کے پس پردہ کھیل کو ملک کے عوام سمجھ چکے ہیں۔ اشتعال انگیزی اور اس کی مخالفت میں مہم کا شائد ریاستوں کے چناؤ کے وقت دوبارہ آغاز ہو۔ مذہبی اقلیتوں پر حملے اور ان کے خلاف اشتعال انگیزی کو جیسے سرکاری سرپرستی حاصل ہوچکی ہے ۔ ظاہر ہے کہ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کا حکومت پر کنٹرول ہے اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے منصوبہ میں تعاون کرنا نریندر مودی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ اور بیرونی دوروں کے موقع پر رواداری اور مذہبی آزادی کی دہائی دیتے ہیں لیکن نفرت کے پرچارکوں میں سے ایک کے خلاف بھی وہ کارروائی نہیں کرسکتے۔ ان مسائل پر وزیراعظم کی خاموشی ایک معمہ بن چکی ہے ۔ انہوں نے آج تک حساس مسائل پر نہ ہی کوئی ٹوئیٹ کیا اور نہ ہی من کی بات کی۔ نریندر مودی ایک دن بھی مکمل اختیارات کے ساتھ وزیراعظم دکھائی نہیں دیئے بلکہ آر ایس ایس کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ بی جے پی اور نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران ڈاکٹر منموہن سنگھ کو کمزور اور بے بس وزیراعظم کی حیثیت سے مذاق کا موضوع بنایا تھا لیکن آج مودی آر ایس ایس کے ہاتھوں منموہن سنگھ سے زیادہ کمزور اور بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ اب تو پارٹی میں ان کے خلاف بغاوت کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ ہندوستان ہمہ لسانی، ہمہ مذہبی اور ہمہ تہذیب کا گہوارہ ہے اور ملک کے عوام کی اکثریت رواداری پر یقین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر نفرت کے ماحول میں بھی عوام نے صورتحال کو بگڑنے نہیں دیا۔ مسلمانوں کے خلاف مظالم پر دوسرے طبقات نے کھل کر احتجاج کیا۔ رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے اس ملک میں برسر اقتدار گوشوں سے اشتعال انگیزی مناسب نہیں۔ ملک کی عوام نے بارہا اس بات کا ثبوت دیدیا ہے کہ وہ عدم رواداری اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ نریندر مودی کے 18 ماہ کی کارکردگی پر کرشن بہاری نور کا یہ شعر صادق آتا ہے  ؎
چاہے سونے کے فریم میں جڑدو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

TOPPOPULARRECENT