Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / آئی این ایکس میڈیا کیس : چدمبرم کے فرزند کی کمپنی کے احاطوں پر سی بی آئی کے دھاوے

آئی این ایکس میڈیا کیس : چدمبرم کے فرزند کی کمپنی کے احاطوں پر سی بی آئی کے دھاوے

لالو بے نامی اراضیات کیس ، انکم ٹیکس کے دہلی میں دھاوے ، 1000 کروڑ روپئے کی اراضیات کے حصول کا الزام

چینائی ؍ نئی دہلی 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی نے ایک ادارہ آئی این ایکس میڈیا کو 2007 ء کے دوران بیرونی سرمایہ کاری کی منظوری دینے کے عوض مبینہ فوائد کے حصول کے الزامات کی تحقیقات کے ضمن میں سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم اور ان کے فرزند کارتی سے مربوط متعدد مقامات پر آج دھاوے کئے۔ سرکاری ذرائع نے دہلی میں کہاکہ ممبئی، دہلی، چینائی اور گڑگاؤں میں یہ دھاوے کئے گئے۔ سی بی آئی نے آئی این ایکس میڈیا کو جو اس کے ڈائرکٹرس پیٹر مکرجی اور اندرانی مکرجی کی طرف سے چلایا جاتا تھا 2007 ء میں جب چدمبرم وزیر فینانس تھے، بیرونی سرمایہ کاری فروغ بورڈ کی طرف سے منظوری میں بے قاعدگیوں کے ضمن میں سی بی آئی نے گزشتہ روز ایک مقدمہ درج کیا تھا۔ سی بی آئی نے آئی این ایکس میڈیا کے خلاف اس کے ڈائرکٹرس اندرانی اور پیٹر مکرجی کے علاوہ کارتی چدمبرم چبس مینجمنٹ سرویسس (جو کارتی کی کمپنی ہے) ، ایڈوانٹیج اسٹریٹیجک کنسلٹنگ لمیٹیڈ اس کی ڈائرکٹر پدما وشواناتھن کے خلاف مقدمات درج کئے تھے۔ ان کے خلاف مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، غیر قانونی یا رشوت ستانی کے راستوں سے رقومات اور فوائد حاصل کرنا، سرکاری ملازم پر اثر و رسوخ کا استعمال اور مجرمانہ بے ضابطگی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔  کارتی نے جو کانگریس لیڈر بھی ہیں، کہاکہ اُنھوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے اور آئی این ایکس میڈیا کیس کے ضمن میں ان کے خلاف سی بی آئی کے دھاوے مرکزی حکومت نے سیاسی انتقام کے طور پر کئے ہیں۔ ڈی ایم کے کے کارگذار صدر ایم کے اسٹالن نے بھی مرکزی حکومت پر سی بی آئی جیسے اداروں کا غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو اور دوسروں سے مبینہ طور پر مربوط 1000 کروڑ روہپئے مالیتی بے نامی اراضیات کی موجودگی کے الزامات کے تحت محکمہ انکم ٹیکس نے آج دہلی اور متصلہ علاقوں کے تقریباً 22 مقامات پر دھاوے کرتے ہوئے ان کا سروے کیا۔

عہدیداروں نے کہاکہ آج صبح کی اولین ساعتوں سے دہلی، گڑگاؤں، ریواری اور چند دیگر مقامات پر محکمہ انکم ٹیکس کے حکام نے چند سرکردہ بزنسمین اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں کے احاطوں پر دھاوے کئے۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ پی سی گپتا اور چند دیگر بزنسمین کے احاطوں کی تلاشی لی گئی۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ ’’لالو پرساد اور ان کے خاندان کی اراضی معاملتوں میں ملوث چند افراد اور کاروباری شخصیات کے گھروں اور دفاتر کی تلاشی لی گئی۔ 1000 کروڑ روپئے مالیتی بے نامی معاملتوں اور ٹیکس نادہندگی کے الزامات پر یہ کارروائی کی گئی‘‘۔ انھوں نے کہاکہ محکمہ انکم ٹیکس کے 100 عہدیداروں اور پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم یہ دھاوے کررہی ہے۔ بی جے پی نے گزشتہ ہفتہ لالو پرساد، ان کی بیٹی اور رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی اور بہار میں ریاستی وزیر کے عہدوں پر فائز دو بیٹوں پر رشوت ستانی کے ذریعہ 1000 کروڑ روپئے مالیتی اراضی معاملتوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکز سے دہلی میں ایسی معاملتوں کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہاکہ یہ معاملتیں، ’سرکاری مہربانی اور فوائد کے عوض رشوت‘ سے تعلق رکھتی ہیں جو اُس وقت کی گئی تھیں جب لالو پرساد یادو وزیر ریلوے تھے۔ روی شنکر پرساد نے کہاکہ لالو کے افراد خاندان کی طرف سے چلائے جانے والے کاروباری اداروں پر مالکین کے پتہ کے طور پر لالو کی سرکاری رہائش گاہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بہار میں بھی ایسی کئی معاملتیں ہیں۔ روی شنکر پرساد نے کہاکہ ’’لالو کی سیاست دراصل لوٹ کھسوٹ کی سیاست بن گئی ہے جس میں کروڑوں روپئے مالیتی اراضیات پر ناجائز قبضے کئے گئے ہیں‘‘۔ دہلی کے بجواسان میں لالو پرساد اور ان کے ارکان خاندان نے بھی ایک ایسی ہی معاملت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT