Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / آئی ٹی کے شہر حیدرآباد میں استفادہ کنندگان میں کمی

آئی ٹی کے شہر حیدرآباد میں استفادہ کنندگان میں کمی

آن لائن کورسیس کی تعلیم پر بھی منفی اثر، ملک کے بڑے شہروں کے سروے میں انکشاف
حیدرآباد 6 ستمبر (سیاست نیوز) عالمی سطح پر حیدرآباد کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز کی حیثیت سے شناخت حاصل ہونے کے باوجود شہریوں میں ٹیکنالوجی سے استفادہ کا رجحان کم پایا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں منظر عام پر لائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق شہر حیدرآباد کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی اہمیت حاصل ہونے کے باوجود شہری آن لائن طرز تعلیم کو اختیار کرنے سے اب بھی گریز کرتے ہیں جس کی وجہ کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ حیدرآباد میں اب بھی آن لائن طرز تعلیم کا چلن نہ ہونے کی بنیاد آن لائن کورسیس کے متعلق عدم اطمینان کی کیفیت ہے۔ دنیا بھر میں مختلف کورسیس جوکہ آن لائن چلائے جارہے ہیں اور اُن کے سرٹیفکٹس کو بھی عالمی سطح پر قبول کیا جانے لگا ہے اُس کے باوجود حیدرآبادی نوجوانوں میں آن لائن طرز تعلیم کو اختیار کرنے کے رجحان میں کمی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوجوان انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال بڑی حد تک صرف سماجی رابطہ کے لئے کررہے ہیں۔ ہندوستان کے 6 بڑے شہروں ممبئی، دہلی، چینائی، پونے، حیدرآباد اور بنگلور میں کروائے گئے سروے میں ہوئے انکشافات کے مطابق حیدرآباد میں صرف 8 فیصد لوگ ایسے ہیں جو ڈیجیٹل لرننگ پراسیس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ حیدرآباد کے کئی اسکولس جوکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے اپنے طلبہ کو آراستہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ ڈیجیٹل کلاس رومس کی جانب راغب ہوتے جارہے ہیں۔ ڈیجیٹل کلاس روم طلبہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ اُنھیں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کا اہم عنصر ثابت ہورہا ہے لیکن نوجوان جو آن لائن کورسیس میں داخلہ لے رہے ہیں اُن میں حیدرآبادی نوجوانوں کی کم تعداد حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ممبئی میں 30 فیصد نوجوان ایسے ہیں جو آن لائن کورسیس کے ذریعہ سلسلہ تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ بنگلور میں بھی تقریباً 28 فیصد نوجوان آن لائن طرز تعلیم کے ذریعہ مختلف سرٹیفکٹ کورسیس کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ نئی دہلی میں 19 فیصد نوجوان اس طرح کے کورسیس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ مجموعی اعتبار سے اگر جائزہ لیا جائے تو ملک بھر میں جنوبی ہند کی ریاستوں میں جملہ 37 فیصد نوجوان آن لائن کورسیس میں داخلے حاصل کرتے ہوئے اس طرز تعلیم کو اختیار کئے ہوئے ہیں جس میں بنگلور اور چینائی کا بڑا حصہ موجود ہے جبکہ حیدرآباد کے نوجوان اس میں صرف 8 فیصد تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT