Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / آتا ہے ابھی دیکھئے کیا کیا مرے آگے

آتا ہے ابھی دیکھئے کیا کیا مرے آگے

محمد مبشرالدین خرم
ہندوستان کے لئے اگر کوئی حقیقی بابائے قوم ہے تو وہ شہنشاہ جلال الدین اکبر ہے جنھوں نے اپنے دور حکومت میں ملکی مفادات کے خاطر سیکولرازم کے فروغ اور گنگا جمنی تہذیب کے لئے عملی اقدامات کئے جبکہ جسے آج ہندوستان بابائے قوم تصور کرتا ہے وہ گاندھی جی نے تو ملک میں فرقہ پرستی کے علاوہ ذات پات کی سیاست کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان کی تعمیر نو کے لئے ایک انقلاب کی ضرورت ہے اور اس انقلاب کی توقع نوجوان نسل سے ہی کی جاسکتی ہے۔ چونکہ نوجوان نسل میں اِس بات کا احساس ہے کہ ہمارے سماج میں رہنے والا ہر انسان، انسان ہی ہے جبکہ فی الحال ملک میں پھیلے فرقہ پرستی کے زہر نے اکثریتی و اقلیتی طبقہ کو ایک دوسرے سے کافی دور کردیا ہے۔ سیاستدانوں نے جو زہر پھیلایا اِس کی روایت 1857 ء سے شروع ہوئی جب جنگ آزادی کے لئے غدر کی شروعات ہوئی تو برطانوی سامراج نے ہندو اور مسلمان کو مذہب کی بنیادوں پر تقسیم کرتے ہوئے منافرت پھیلانی شروع کی تھی اور موجودہ سیاستدانوں نے اِس منافرت کی تمام حدوں کو پار کردیا ہے۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے روزنامہ سیاست کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اِن خیالات کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے اِس انٹرویو کے دوران کہاکہ ملک بالکلیہ طور پر تباہ ہوچکا ہے اور ملک کا کوئی نظام باقی نہیں رہا۔ ایسی صورتحال میں ملک کو بچانے کے لئے صرف ایک انقلاب ہی ذریعہ ہے جو اِس ملک کے نظام کو تبدیل کرے۔ اب اِس ملک کو کوئی اصلاحات یا ترامیم بچانے کے متحمل نہیں رہے۔ یہ ملک اُس عمارت کی طرح ہوچکا ہے جو بالکلیہ طور پر مخدوش ہے اور آہک پاشی یا داغ دوزی کے ذریعہ اسے بچایا نہیں جاسکتا بلکہ منہدم ہونا اِس کا مقدر بن چکا ہے۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بتایا کہ ملک کا پارلیمانی نظام تباہ ہوچکا ہے۔

گزشتہ 10 ، 15 برسوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جب کانگریس یا یو پی اے حکومت اقتدار میں رہی تو اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی نے پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیا اور اب جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا این ڈی اے اقتدار میں ہے تو اب کانگریس پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل پیدا کررہی ہے۔ ایسی صورت میں مسائل کا حل ناممکن ہوجاتا ہے اور یہ حالات گزشتہ 12 سال سے ہر کوئی دیکھتا آرہا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ملک کے پارلیمانی نظام سے عوام کا بھروسہ اُٹھتا جارہا ہے اور یہی صورتحال نظام عدلیہ کی بھی ہوچکی ہے۔ انصاف رسانی کے عمل میں ہونے والی تاخیر نے عدلیہ پر سے اعتماد کو ختم کرنا شروع کردیا ہے اور اُس پر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ نظام عدلیہ میں بھی رشوت ستانی کا عمل داخل ہوچکا ہے۔ اُنھوں نے نظام عدلیہ میں سیاسی مداخلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ کئی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہاکہ جب ملککی جمہوریت، عدلیہ اور بیوروکریسی پر سے عوام کو اعتماد ختم ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں صرف ایک انقلاب یا کرانتی کا ہی انتظار باقی رہ جاتا ہے۔ آج ملک کی یہ حالت ہے کہ اگر یونیسف کے ریکارڈس کا جائزہ لیا جائے تو عالمی سطح پر تغذیہ کی کمی کا شکار ہر تیسرا بچہ ہندوستانی ہے۔ اِس صورتحال نے ہندوستان میں تیزی سے انحطاط کا شکار ہورہی معیشت اور بڑھ رہی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب ملک کے حالات میں سدھار کا کوئی امکان نہیں ہے۔
جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے واضح طور پر کہاکہ چند ایک سیاستدانوں کو چھوڑ کر باقی سب سے نفرت کرتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اِس ملک کو سیاستداں نام کی دیمک ہی کھاچکی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ موجودہ حالات میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بہت جلد ایک ایسا دور آئے گا جس میں عوامی عدالتیں سیاستدانوں کو پھانسی کے فیصلے صادر کریں گی اور برسر عام اُنھیں پھانسی دی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ یقینا ایسے سیاستدانوں کو پھانسی دے دی جانی چاہئے جو عوام پر حکمرانی کے ذریعہ عوامی مفادات کی فکر سے عاری دولت بٹورنے اور سرمایہ دارانہ نظام کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔

کاٹجو نے کہاکہ جو سیاستداں ذات پات اور فرقہ پرستی کی سیاست کے ذریعہ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے خواہشمند ہیں وہ بہت جلد عوامی برہمی کا سامنا کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ فرقہ پرستی کے ذریعہ ملک کی ترقی ممکن نہیں ہوسکتی۔ اُنھوں نے نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وہ کہتے کچھ اور ہیں اور اُن کا عمل کچھ اور ہے۔ جسٹس کاٹجو نے استفسار کیاکہ کیا نریندر مودی کو اپنے اراکین پارلیمنٹ سادھوی پراچی یا یوگیہ آدتیہ ناتھ پر کنٹرول ہے؟ جب وہ ایسا نہیں کرسکتے تو اُن سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ اُنھوں نے سادھوی اور یوگی کو جھوٹے قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیاکہ حقیقی سادھو اور یوگی منافرت نہیں پھیلاتے اور نہ ہی اُنھیں کسی سے بیر ہوتا ہے۔ جسٹس کاٹجو نے انٹرویو کے دوران ملک کی موجودہ صورتحال کو افسوسناک بلکہ ملک کے مستقبل کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان ایک ایسے دوراہے پر پہونچ چکا ہے جہاں سے کوئی راستہ ترقی کی سمت گامزن نہیں ہوتا بلکہ ہر راستہ تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔

جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے محمد علی جناح کے ابتدائی جنگ آزادی کے دوران وطن پرست قائد ہونے کا ادعا کرتے ہوئے کہاکہ درحقیقت جناح کو گاندھی نے فرقہ پرست بنایا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ تاریخ کے اوراق اِس بات کے شاہد ہیں کہ جناح نے گاندھی کے طرز تخاطب اور اُن کی جانب سے فروغ دیئے جانے والے نظریات کی مخالفت کی تھی لیکن آج جو صورتحال ہے وہی صورتحال اُس وقت بھی پیدا ہوئی ہوگی۔ چونکہ آج مذہبی منافرت میں اقلیتی و اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کررہے ہیں۔ شاید اُسی طرح گاندھی جی کے نظریات کے برخلاف جناح نے اپنے نظریات کو فروغ دیتے ہوئے سبقت لیجانے کی کوشش کی تھی۔ اُنھوں نے پاکستان کو ایک فرضی مملکت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیاکہ جب جرمن کے درمیان کھڑی دیوار منہدم ہوسکتی ہے تو ہند ۔ پاک سرحد کیوں ختم نہیں ہوسکتی۔ جسٹس کاٹجو نے بتایا کہ جرمن کے علاوہ اٹلی وغیرہ میں بھی عوام نے سرحدوں کو ختم کرتے ہوئے اتحاد کو ترجیح دی تھی۔ وہ تاریخ ہند ۔ پاک کے لئے بھی دہرائی جاسکتی ہے جس کی بنیادی وجہ دونوں جانب کے عوام میں تہذیبی و لسانی یکجہتی اب بھی باقی ہے اور دونوں ہی ممالک کے عوام جنگی ماحول سے نفرت کرتے ہیں۔
جسٹس کاٹجو نے دادری واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ بلبھ گڑھ، دادری، مظفر نگر کے علاوہ دیگر فرقہ وارانہ طرز کے واقعات نے جو زہر پچھلے 15 ماہ کے دوران پیدا کیا ہے اُس زہر کے اثرات بہ آسانی زائل نہیں ہوں گے۔ ان اثرات سے نکلنے کے لئے عوام کو باشعور بنانا اور اُنھیں حقائق سے واقف کروانا ضروری ہے۔ اِسی لئے سماج کے دانشور طبقہ کو چاہئے کہ وہ ذات پات اور مذہب کی سیاست کا شکار ہوئے بغیر عوام کو صحیح راہ دکھائیں۔ چونکہ ملک کی بہتری و بقاء کا انحصار عوام کے بہتری پر ہی ہوتا ہے۔ اُنھوں نے اِس اظہار خیال کے دوران کبیر کے ایک دوحے کی پیروڈی کہی :

ایسی بانڑی بولئے جم کے جھگڑا ہووے
ہندو مسلم مر کٹیں ستا اپنی ہووے
مارکنڈے کاٹجو نے کہاکہ موجودہ ہندوستانی سیاستدانوں کی صورتحال یہی ہے۔ اِسی لئے عوام پر اب یہ ذمہ داری عائد ہوچکی ہے کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں۔ اِسی طرح ہندوستان میں فرقہ پرستی کے خاتمہ کے لئے جدوجہد کررہے ذمہ دار شہریوں کو بھی چاہئے کہ وہ حالات کو بدلنے کے لئے عوام میں تحریک پیدا کریں اور اُن کی ذہن سازی کا عمل شروع کریں۔ یقینا یہ ایک بہت مشکل اور وقت طلب عمل ہے لیکن ہمیں ماضی کی تحریکوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے تحریک کا آغاز تو کردینا چاہئے، کامیابی تاخیر سے ہی کیوں نہ ملے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے نہ صرف جذبات کا اظہار کافی ہے بلکہ یہ انقلاب خون بھی مانگ سکتا ہے۔
ہندوستان کی آزادی کے متعلق اُنھوں نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہاکہ 1947 ء درحقیقت امریکی سامراجی قوتوں کو ہندوستان میں داخل ہونے کی راہ ہموار کرنے کا عمل ہے۔ دوسری جنگ آزادی میں امریکہ نے صرف اِس لئے برطانوی سامراج کا ساتھ دیا کہ اُسے ہندوستان میں اپنے مفادات نظر آرہے تھے اور امریکہ نے ہندوستان میں اپنے مفادات خواہ وہ تجارتی مفادات ہوں یا کچھ اور، اُن کے حصول کے لئے برطانیہ سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ہندوستان پر سے اپنا قبضہ ختم کرے اور اِسی معاہدہ کے تحت دونوں مل کر ملک کو آج تک لوٹ رہے ہیں۔ پاکستان کی آزادی کا مقصد بھی ہتھیار کی تجارت کو فروغ دینا رہا۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہندوستان میں فرقہ پرستی کا بیج بونے والے برطانوی سامراج کے کئی شواہد ملک کے پارلیمنٹ میں ریکارڈ پر موجود ہیں کہ کس طرح برطانوی وائسرائے ہندو پنڈتوں اور مسلم علماء کو اُکساتے تھے اور اُنھیں کس طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہاکہ فرقہ پرستی کا وہ بیج آج ایک تناور درخت بن چکا ہے اور اِس درخت کو اُکھاڑ پھینکنا ہی اِس کا علاج ہے اور یہ علاج انقلابی عوام ہی کرسکتے ہیں۔ اُنھوں نے مختلف ممالک کے انقلابات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ جب کبھی جہاں کہیں انقلاب آیا تو خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوئی اور اِس ملک کو بھی خانہ جنگی کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں دنیا کے کسی بھی انقلاب کی تاریخ کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو وہ انقلاب ستیہ گرہ یا ہڑتال، دھرنے یا جلسے، جلوس یا ریالی سے نہیں آئے بلکہ عمومی طور پر انقلاب عسکری ہوتے ہیں۔
قومی ترانہ کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ رابندر ناتھ ٹیگور کے تحریر کردہ ترانہ کے متعلق ایک نظریہ ہے کہ یہ پانچویں وائسرائے کی آمد پر استقبال کے لئے لکھا گیا تھا لیکن تقریباً 25 برسوں بعد رابندر ناتھ ٹیگور نے اِس کی تردید کی مگر اِس نظریہ میں بڑی حد تک سچائی ہے۔ چونکہ رابندر ناتھ ٹیگور کو وہ انگریزوں کا پروردہ مانتے ہیں جنھوں نے ٹیگور کو نوبل انعام سے بھی نوازا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہندوستان پر کئی مسلم حکمرانوں نے بہتر حکمرانی کی ہے جن میں شہنشاہ جلال الدین اکبر، شیر میسور ٹیپو سلطان، نظام دکن سلطنت آصفیہ کی کئی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے رعایا کو خوش رکھنے اور اُن کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے تمام مذاہب کو اہمیت دی اور یہاں تک کیاکہ مسلم حکمراں ہونے کے باوجود کئی منادر کو سرکاری طور پر امداد فراہم کی۔ جسٹس کاٹجو نے ٹیپو سلطان کے مکتوبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ٹیپو سلطان اپنی ریاست میں رہنے والے پنڈتوں کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے اُن کی ریاست میں موجودگی کو خوش آئند قرار دیا تھا۔ اِسی طرح سلطنت آصفیہ میں بھی تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا رہا۔ شہنشاہ جلال الدین اکبر نے سیکولرازم و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کو فروغ دینے کے لئے عملی اقدامات کئے تھے۔

جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اُردو زبان سے اپنی اُلفت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اُردو زبان درحقیقت شمالی ہندوستان کی زبان رہی ہے لیکن اِس زبان کی پذیرائی جنوبی ہند میں ہی ممکن ہوپائی۔ اُنھوں نے بتایا کہ اِس زبان نے ایک ایسا دور بھی دیکھا کہ بڑے شاعر بھی اِس زبان میں شاعری سے گریز کرتے تھے لیکن مرزا غالب جیسے عظیم شاعر کو بھی اِسی زبان نے شہرہ آفاق شعراء کی فہرست میں شامل کیا۔ جبکہ غالب کا بھی یہ نظریہ تھا کہ وہ فارسی کو اہمیت دیتے اور فارسی میں شعر گوئی کو پسند کرتے تھے۔ جسٹس کاٹجو نے بتایا کہ ولی دکنی نے اُردو شاعری کو فروغ دیا اور اُردو شاعری آج محبت و اُلفت کی علامت بن چکی ہے۔ زبان کو بھی سیاستدانوں نے مذہب میں تقسیم کردیا اور ہندی کو ہندو، اردو کو مسلمانوں کی زبان میں تبدیل کردیا جس کا یہ المیہ ہے کہ آج ہندوستانی زبان تو ہر کوئی بولتا ہے لیکن ادیب ہی اردو کی چاشنی سے آشنا ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ جنوبی ہند کی سلطنتوں میں حکمراں طبقہ نے اُردو زبان کی کافی سرپرستی کی جس کے نتیجہ میں زبان کو زبردست ترقی حاصل ہوئی۔ اُنھوں نے ہندوستان کے موجودہ حالات کی عکاسی کرتے ہوئے غالب کا ایک شعر کہا اور اُس کی تشریح بھی کی۔
ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھئے کیا کیا مرے آگے
@infomubashir
[email protected]

TOPPOPULARRECENT