Monday , September 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آخر تنخواہوں کا وعدہ کب پورا ہوگا؟ ائمہ و مؤذنین کا حکومت سے استفسار ، پڑوسی ریاستوں میں مشاہرے جاری

آخر تنخواہوں کا وعدہ کب پورا ہوگا؟ ائمہ و مؤذنین کا حکومت سے استفسار ، پڑوسی ریاستوں میں مشاہرے جاری

٭ کیا قناعت پسندی کا صلہ یہی ہے
٭ اعزازی معاوضہ دینا حکومت کیلئے مشکل نہیں
٭ وقف کی آمدنی کو صحیح رخ دینے کی ضرورت
ناگرکرنول۔/18نومبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے میں شامل ریاست تلنگانہ کے ائمہ ومؤذنین کو حکومت کی جانب سے اعزازی مشاہرے فراہم کرنے کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے وعدہ پرحکومت کی تشکیل کے 17ماہ بعد بھی عدم عمل آوری کے سبب ائمہ و مؤذنین میں کافی تشویش پائی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم ائمہ و مؤذنین ناگرکرنول کے ذمہ داران مولانا الحاج محمد عبدالحق نقشبندی نظامی ، مولوی الحاج شیخ یعقوب بن عثمان باوزیر نقشبندی القادری ، مولانا حافظ شاکر پاشاہ نقشبندی القادری ، مولانا حافظ عبدالمنیب نظامی، حافظ محمد علی، حافظ محمد علی، حافظ محمد منظور احمد، حافظ محمد عبدالعلیم نے کیا۔ اخباری نمائندوں کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ ریاست آندھرا پردیش کے انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے کے مطابق چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابونائیڈو نے ان کی ریاست کے ائمہ کو 5000/- اور مؤذنین کو 3000/- روپئے بطور مشاہرہ فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے اور پڑوسی ریاست کرناٹک حکومت نے بھی اپنے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے ائمہ و مؤذنین کو ماہانہ ایک بھاری رقم بطور مشاہرہ جاری کررہی ہے۔ جبکہ ریاست تلنگانہ میں اس سال رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے ائمہ و مؤذنین کے مشاہروں کی اجرائی کی ایک ہلچل پیدا کرتے ہوئے بعد عیدالفطر کے حکومت نے اس معاملہ میں پھر سے خاموشی اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اس گرانی کے دور میں جبکہ اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے سے جہاں عام آدمی تو کجا خاطر خواہ ذریعہ آمدنی رکھنے والا انسان بھی انتہائی پریشان حال ہونے کے باوجود انتہائی کم تنخواہوں میں ائمہ و مؤذنین قناعت کی زندگی گذاررہے ہیں اس کا صلہ وعدہ فراموشی ہے۔ ان حالات میں ٹی آر ایس کی جانب سے اپنے انتخابی مہم کے دوران ائمہ و موذنین کو اعزازی مشاہرے فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ائمہ مؤذنین کو خوش کیا تھا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ معاملہ بھی کوڑے دان کی نذر ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ائمہ و مؤذنین کو حکومت سے مستقل تنخواہیں جاری کرنا ہو تو حکومت کو مشکل ہوگا لیکن ٹی آر ایس کے وعدہ کے مطابق تنخواہ نہیں بلکہ اعزازی مشاہرہ ہے جس کو جاری کرنا حکومت کے لئے کوئی مشکل امر نہیں ہے لیکن پھر بھی حکومت کی خاموشی معنیٰ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا وعدہ فراموشی کا یہی رویہ رہا تو پھر مسلمانوں کا حکومت سے بھروسہ یکسر اُٹھ جائے گا۔ انہوں  نے کہا کہ ویسے ریاست میں وقف کی آمدنی بھی کافی ہے اور اس آمدنی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کی مخصوص ملکیت کو تباہ کیا جارہا ہے۔ اگر حکومت اپنی توجہ کو مبذول کرتے ہوئے وقف کی آمدنی کو صحیح رخ دے تو اس آمدنی سے نہ صرف ائمہ و مؤذنین کو ماہانہ مشاہرہ جاری کیا جاسکتا ہے بلکہ مسلمانوں کے مختلف مالی مسائل کا حل بھی ممکن ہے۔ لیکن پھر بھی مسلمانوں کے مسائل سے غفلت و لاپرواہی برتتے ہوئے حکومت مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کو وفا کرنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ہر معاملے میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست آندھرا پردیش سے سخت مسابقت کرتے ہیں لیکن آج حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے ائمہ و مؤذنین کو مشاہرے دیئے جانے کے معاملے میں کیوں مسابقت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو سنگاپور بنانے میں مصروف چیف منسٹر کو ریاست تلنگانہ کے ایک ایک فرد کی غربت کا پہلے جائزہ لینا چاہیئے۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت سے انتخابی مہم کے دوران کئے گئے اپنے وعدہ کو نبھاتے ہوئے فوری طور پر ریاست آندھرا پردیش کی طرز پر ریاست تلنگانہ کے ائمہ کو 5000/- اور مؤذنین کو 4000/- روپئے بطور مشاہرہ فوری جاری کریں۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت کی جانب سے ریاست بھر کے ائمہ و مؤذنین کو بھی ڈبل بیڈ رومس مکانات کی تعمیر کرتے ہوئے فراہم کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT