Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / آدتیہ ناتھ کو مذہبی رسومات کی انجام دہی کیلئے آزاد چھوڑ دیا گیا

آدتیہ ناتھ کو مذہبی رسومات کی انجام دہی کیلئے آزاد چھوڑ دیا گیا

یوپی جیسی بڑی ریاست پر حکمرانی کرنا مٹھ پر حکمرانی کی طرح آسان نہیں : سامنا کا اداریہ
ممبئی 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کو پھر ایک مرتبہ سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیوسینا نے آج کہاکہ اترپردیش کے نئے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کو محض اپنی مذہبی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے بہتر حکمرانی کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے۔ شیوسینا نے جو مرکز اور مہاراشٹرا میں بی جے پی کی ایک جونیر حلیف جماعت ہونے کے باوجود اس زعفرانی جماعت سے متصادم ہے، مزید کہاکہ ’’اترپردیش جیسی کسی بڑی ریاست کے انتظام اتنی آسانی سے نہیں چلائے جاسکتے جیسے کسی مندر کے انتظامات چلائے جاسکتے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت مہاراشٹرا کی علاقائی جماعت 2014 ء کے اسمبلی انتخابات کے بعد اُس کو ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ دینے سے بی جے پی کے انکار پر چراغ پا ہے۔ اس نے یوپی میں دو ڈپٹی چیف منسٹروں کے تقرر کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ’’آدتیہ ناتھ کو ان کی مذہبی ذمہ داریوں کی تکمیل کا موقع دینے کے لئے یہ تقررات کئے گئے ہیں‘‘۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان مرہٹی روزنامہ ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں لکھا کہ ’’اترپرپردیش میں دو ڈپٹی چیف منسٹرس مقرر کئے گئے۔ جبکہ مہاراشٹرا کے لئے بی جے پی کہتی ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر کا تقرر اس کی پالیسی کے خلاف ہے۔ جموں و کشمیر میں اُنھوں (بی جے پی) نے محض ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ کے لئے محبوبہ مفتی سے مفاہمت کی ہے‘‘۔ سامنا نے اپنے اداریہ میں مزید لکھا کہ ’’یوپی میں دو ڈپٹی چیف منسٹرس مقرر کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ کو مذہبی فرائض کی انجام دہی کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا۔ آدتیہ ناتھ کو چاہئے کہ وہ محض مذہبی رسوم انجام دینے کے بجائے ترقی اور بہتر حکمرانی کی فراہمی پر توجہ مرکوز کریں۔ اترپردیش جیسی ایک بڑی ریاست پر حکمرانی کرنا کسی مندر کا انتظام چلانا جیسا آسان نہیں ہوتا‘‘۔ ’سامنا‘ نے سخت تیور اپناتے ہوئے مزید لکھاکہ ’’یوگی آدتیہ ناتھ کے بحیثیت چیف منسٹر تقرر سے رام مندر کی تعمیر کا عمل تیز ہوگا اور ہندوتوا عناصر کو ایک نئی توانائی حاصل ہوگی لیکن روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی اہم ہے۔ یوگی کو اس مقصد کے لئے بھی سخت محنت کرنا ہوگا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT