Monday , July 24 2017
Home / سیاسیات / آدھار اسکیم میں خامیاں، اپوزیشن کی نشاندہی

آدھار اسکیم میں خامیاں، اپوزیشن کی نشاندہی

نئی دہلی 10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آدھار اسکیم میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپوزیشن نے آج راجیہ سبھا میں کہاکہ یہ غیر مصدقہ مواد پر مبنی ہے اور سپریم کورٹ حکمنامہ کی خلاف ورزی ہورہی ہے کہ اِسے ایسی اسکیمات کے لئے لازمی نہ بنایا جائے جو سبسیڈیز سے مربوط نہیں ہے۔ اپوزیشن نے آدھار کے ڈاٹا کی صداقت اور اس کی رازداری سے متعلق مسائل پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی کہ آدھار سسٹم کو استفادہ کنندگان کو سبسیڈی کی ادائیگی سے بچنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور دعویٰ کیاکہ حکومت نے اس طرح زبردست بچت کرلی ہے۔ ایوان بالا میں آدھار پر مختصر مباحث کی شروعات سے عین قبل وزیر آئی ٹی و قانون روی شنکر پرشاد نے کہاکہ حکومت نے جن دھن کھاتوں کو آدھار کارڈ سے مربوط کرتے ہوئے تقریباً 50 ہزار کروڑ روپئے کی ایل پی جی سبسیڈی بچائی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ایک ادارہ نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ ہندوستان کی اس غیر معمولی تکنیکی اختراعی اسکیم کی دنیا بھرکو تقلید کرنا چاہئے۔ بلاشبہ اُنھوں (یوپی اے) حکومت نے اِس کی شروعات کی لیکن اِس میں بہتری کے بعد اب ثمرات ظاہر ہورہے ہیں اور اِس کے فوائد کو مثبت تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ مباحث شروع کرتے ہوئے آزاد رکن راجیو چندرشیکھر نے جعلی آدھار کارڈس کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی اور کہاکہ اِس وجہ سے ڈاٹا کی صداقت اور رازداری جیسے مسائل اُبھر آئے ہیں اور اِس کارڈ کو لازمی قرار دیتے ہوئے رعایتوں سے عوام کو دور کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ آدھار سسٹم کے خلاف نہیں بلکہ اِس سے درپیش جوکھم اور اِس کے مسائل کو حکومت حل کرے۔ حکومت کو ہٹ دھرمی کا موقف اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ جعلی آدھار کارڈس کے بارے میں چندرشیکھر نے کہاکہ حکومت کو 2016 ء میں قانون متعارف کرانے سے قبل بنائے گئے 100 کروڑ غیر مصدقہ کارڈس ورثے میں ملے۔ کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے حکومت پر تنقید کی کہ سپریم کورٹ احکام کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT