Thursday , August 17 2017
Home / اضلاع کی خبریں / آرمور میں اقلیتی اقامتی اسکول کے داخلوں کی قرعہ اندازی کا بائیکاٹ

آرمور میں اقلیتی اقامتی اسکول کے داخلوں کی قرعہ اندازی کا بائیکاٹ

طلبہ کی تعداد میں تخفیف کرنے پر اولیائے طلباء میں برہمی
آرمور 31 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آرمور کے اولیائے طلباء کی جانب سے سرکاری مائناریٹی اقامتی اسکول کے طلباء کی قرعہ اندازی پروگرام کا بائیکاٹ کیا گیا۔ تفصیلات کے بموجب تلنگانہ حکومت نے مائناریٹی اقامتی اسکولس قائم کرنے کا اعلان کیا جس کی باضابطہ طور پر بیانرس، پوسٹرس اور پمفلٹس اور اخبارات کے ذریعہ تشہیر کی گئی اور اس کے لئے بجٹ مختص کیا گیا اور اس اسکول کے لئے پنجم، ششم، ہشتم ان تین جماعتوں کے لئے فی کس 80 طلباء کے حساب سے جملہ 240 نشستیں مختص کی گئیں۔ اس طرح اس مائناریٹی اقامتی اسکول کے لئے طلباء کو نشستیں مختص کرنے کے لئے قرعہ اندازی پروگرام کا انعقاد آرمور سعیدآباد فنکشن ہال اُردو گھر میں منعقد ہوا۔ یہ پروگرام مائناریٹی ویلفیر آفیسر نظام آباد کشن کی نگرانی میں تھا۔ اس موقع پر تحصیلدار آرمور، مرکزی کمیٹی انجمن تنظیم المسلمین آرمور، میونسپل چیرمین آرمور سوائی سنگھ ببلو اور دیگر نے کے سی آر حکومت کی جانب سے مائنریٹیز کے لئے ریاست میں 70 اقامتی اسکولس کی منظوری کے اعلان اور اس کے قیام کی ستائش کی۔ اس کے بعد مائناریٹی ویلفیر عہدیدار مسٹر کشن کے جیسے ہی یہ اعلان کیاکہ آرمور میں مائناریٹی اقامتی اسکول کے لئے بلڈنگ کا صحیح طور پر نہ ملنے کی وجہ حکومت نے آرمور اقامتی اسکول بوائز کے لئے 240 نشستوں کو کم کرتے ہوئے صرف 120 نشستوں پر ہی قرعہ اندازی کرتے ہوئے 120 طلباء کو ہی داخلہ دیا جائے گا جس پر اولیائے طلباء نے شدید احتجاج کیا اور مائناریٹی عہدیدار کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی ان کی ایک نہیں سنی۔ کیوں کہ 120 نشستوں کو کم کیا جارہا ہے جس پر اولیائے طلباء نے اس قرعہ اندازی پروگرام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں کو ایک درخواست پیش کی اور 240  طلباء کے داخلہ پر ہی قرعہ اندازی کی جائے ورنہ اس کا بائیکاٹ کیا جاتا رہے گا۔ اس موقع پر اولیائے طلباء نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ ریاستی حکومت 240 طلباء کے لئے احکامات جاری کئے اور اس کے لئے پوسٹرس، پمفلٹ اور دیگر ذرائع سے تشہیر کی گئی اور یہاں ضلع نظام آباد کے مختلف علاقوں آرمور وغیرہ میں آن لائن درخواستوں کی کمی پر آن لائن داخلہ کی تاریخ میں توسیع کی گئی۔ اُنھوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیاکہ جلد 240 نشستوں کے ساتھ آرمور اقامتی اسکول کے لئے داخلہ کا پروگرام بنایا جائے اس کے لئے اسکول کی عمارت کو بنیاد نہ بنایا جائے کیوں کہ دو ماہ ہوچکے ہیں یہاں عمارت کا تعین صحیح طور پر نہیں کیا گیا۔ اس کی ذمہ داری حکومت اور عہدیداروں پر ہے۔ اس طرح اولیائے طلباء مائناریٹی ویلفیر عہدیدار کو درخواست حوالے کرتے ہوئے پروگرام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔ اس پروگرام میں مائناریٹی عہدیداروں کشن کے علاوہ اس اقامتی اسکول کے پرنسپال عبدالمنان صدر انجمن تنظیم المسلمین مرکزی کمیٹی آرمور محمد اشفاق، تحصیلدار آرمور سریدھر، میونسپل چیرمین آرمور سوائی سنگھ ببلو، میونسپل کوآپشن ممبر محمد عبدالعظیم اور دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT