Sunday , September 24 2017
Home / سیاسیات / آرڈیننس کیخلاف کانگریس کا عدالت سے رجوع ہونے کا اعلان

آرڈیننس کیخلاف کانگریس کا عدالت سے رجوع ہونے کا اعلان

کانگریس اور بی جے پی اپنے تائیدی ارکان کو متحد رکھنے پریشان ، سی پی ایم کا سپریم کورٹ سے مطالبہ

نئی دہلی ؍ دہرہ دون ۔ 31 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر کپل سبل نے آج کہاکہ اگر حکومت اتراکھنڈ میں یکم اپریل سے قبل مجازی اخراجات کے لئے آرڈیننس جاری کردے تو کانگریس عدالت سے رجوع ہوگی۔ اتراکھنڈ میں اس وقت صدر راج نافذ ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کا کوئی بھی آرڈیننس غیرمعمولی اور غیر دستوری ہوگا۔ انھوں نے مرکز پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ وہ پارلیمانی جمہوریت اور دستور کے مغائر کام کررہی ہے۔ دستوری تقاضوں اور جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھا گیا ہے۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی پر شدید تنقید کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل نے یہ ریمارک کیاکہ میں ارون جیٹلی کو یہ مبارکباد دیتا ہوں کہ یہ پہلا کام ہے جس کا سہرا وہ اپنے سر لیں گے۔ مرکزی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا اسمبلی میں بجٹ منظور کرانا ہے یا نہیں۔ اس بات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس بجٹ پہلے ہی اتراکھنڈ اسمبلی سے منظور کیا جاچکا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اسپیکر نے اس بجٹ کا اعلان کیا تھا۔ اب اس کے خلاف کسی بھی عدالت کے سامنے کوئی درخواست نہیں ہے اور نہ ہی کسی نے عدالت میں درخواست داخل کی ہے۔ بی جے پی اور مرکز پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیاکہ یہ لوگ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بجٹ کسی بھی طریقہ سے منظور کرلیا جاسکتا ہے اور یہ باور کروایا جارہا ہے کہ اتراکھنڈ اسمبلی میں بجٹ منظور نہیں ہوا ہے۔ یہ لوگ دستور کے نام پر حلف لے کر اس کے تقدس کو پامال کررہے ہیں۔ انھیں ڈر ہے کہ اگر ان لوگوں میں اس معاملہ پر پارلیمنٹ میں بل پیش کیا تو پھر انھیں شکست ہوجائے گی۔ انھوں نے کہاکہ بجٹ سیشن کے دوران حکومت اس طرح کے مسئلہ پر آرڈیننس جاری کرنے سے قاصر ہے۔ مرکزی حکومت پر جمہوریت کا قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس نے کہاکہ اتراکھنڈ میں صدر راج کا نفاذ جمہوریت کا قتل ہے۔ پارلیمانی اُمور کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ ریاست میں ایک ایسی صورتحال پیدا کردی گئی ہے کہ جہاں مسلسل دستوری بحران پیدا کردیا گیا ہے۔ ریاست نے اب تک تصرف بل منظور نہیں کیا ہے۔ اگر تصرف بل منظور نہیں کیا گیا تو ریاست کے ملازمین کو اپریل سے تنخواہیں نہیں ملیں گی۔ ریاست کی ترقی مفقود ہوجائے گی۔ سی پی آئی ایم نے آج مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کو اتراکھنڈ میں ’’کسی تاخیر کے بغیر‘‘ صدر راج کے نفاذ کے کارآمد ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کرنا چاہئے اور بائیں بازو کی طاقتوں پر زور دیا کہ دستور کی دفعہ 356 برخاست کرنے کیلئے آواز اٹھائی جائے۔ پارٹی کے سابق جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے کہا کہ ہائیکورٹ کے مقدمہ کا نتیجہ کچھ بھی نکلے یہ بہتر ہوگا کہ سپریم کورٹ بلاتاخیر اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں صدر راج کے نفاذ کے کارگر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اعلان کرے۔ ان کا یہ تبصرہ پارٹی کے ترجمان پیپلز ڈیموکریسی کے آئندہ اداریہ میں شائع کیا گیا ہے۔

دہرہ دون سے موصولہ اطلاع کے بموجب اتراکھنڈ میں سیاسی غیریقینی صورتحال برقرار رہنے کے پیش نظر ہائیکورٹ میں ایوان میں اکثریت کا ثبوت دینے کی آئندہ تاریخ 7 اپریل مقرر کردینے سے کانگریس اور بی جے پی دونوں پریشان ہیں کیونکہ انہیں اپنے ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ رکھنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ انہیں مزید ایک ہفتہ تک اپنے ارکان اسمبلی کو اپنی تائید میں برقرار رکھنا ہوگا حالانکہ مرکزی حکومت نے ایک درخواست پیش کرتے ہوئے ہائیکورٹ سے اپنے عبوری حکم پر نظرثانی کرنے کی درخواست کی ہے کہ مقدمہ کی سماعت کا آغاز 6 اپریل سے ہوگا۔ دونوں پارٹیوں کے مرکزی قائدین اپنے ارکان کو اپنے ساتھ رکھنے کے چیلنج سے پریشان ہیں۔ بی جے پی کے شیام جاجو اور کیلاش وجئے ورگیہ اور کانگریس کے امبیکا سونی اور سنجئے کپور کل دہرہ دون پہنچ گئے۔ سونی اور کپور پارٹی ارکان اسمبلی اور قائدین کے ساتھ تفصیلی اجلاس منعقد کرنے کے بعد دہلی واپس ہوگئے۔ ان کے ساتھ ریاست کے معذول چیف منسٹر ہریش راوت اور صدر اتراکھنڈ کانگریس کشور اپادھیائے نامعلوم مقام کیلئے روانہ ہوگئے جہاں ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی شہر کے مضافات میں کسی نامعلوم جگہ ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہیں تاکہ مخالف پارٹیاں انہیں اپنی تائید کی ترغیب نہ دے سکیں۔ تبدیل شدہ سیاسی صورتحال میں جو ریاست میں پیدا ہوگئی ہے، ہر رکن اسمبلی کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اتراکھنڈ اسمبلی کی جملہ نشستوں کی تعداد 70 ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں دن رات اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اپنے حریف کے قلعہ میں دراڑ پیدا کی جائے۔ 9 باغی کانگریسی ارکان اسمبلی کی بغاوت کے بعد کانگریس کے پاس صرف 27 ارکان اسمبلی باقی رہ گئے ہیں۔ اسے مزید 6 ارکان اسمبلی کی جن کا تعلق پروگریسیو ڈیموکریٹک فرنٹ سے ہے، تائید حاصل ہے۔ اس طرح اس کے ارکان کی جملہ تعداد 33 ہوجاتی ہے جبکہ سادہ اکثریت کیلئے کسی بھی سیاسی گروپ کو 36 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کرنا ضروری ہے۔
اتراکھنڈ ہائیکورٹ میں مقدمہ کی سماعت کا آغاز کل سے ہوگا جس میں نااہلیت اور معطلی کے بارے میں درخواستوں پر غور کیا جائے گا۔
بی جے پی کو امید ہیکہ تقریباً مزید 6 کانگریسی ارکان جو پارٹی کے نامور قائد ست پال مہاراج کے مؤید ہیں۔ عنقریب بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے کیونکہ ست پال مہاراج اب بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT