Thursday , September 21 2017
Home / سیاسیات / آر ایس ایس سے مربوط ملزمین کو بی جے پی کا تحفظ

آر ایس ایس سے مربوط ملزمین کو بی جے پی کا تحفظ

کرنل پروہت کی ضمانت منظور ہونے پر کانگریس کا شدید ردعمل ، ہندوؤں کو بدنام کیا جارہا ہے : بی جے پی
نئی دہلی ۔21 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) 2008 ء کے سلسلہ وار مالیگاؤں دھماکوں کے کلیدی ملزم لیفٹننٹ سری کانت پروہت کو آج سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور کئے جانے کے بعدکانگریس اور بی جے پی میں لفظی جنگ شروع ہوگئی ۔ کانگریس نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ آر ایس ایس سے مربوط تمام ملازمین کو بچا رہی ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی نے فوج کے وقار کو مجروح کرنے کی سازش اور ہندو فرقہ کو بدنام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی نے کہا کہ دہشت گردی کی سیاست پر ان دونوں کو معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ پارٹی ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے اپوزیشن جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وہ ہندو طبقہ بالخصوص اور ہندوستانی عوام کو بالعموم بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ کانگریس ترجمان منیش تیواری نے کرنل پروہت کو ضمانت منظور کئے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکمراں بی جے پی پر آر ایس ایس سے مربوط تمام ملزمین کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اپوزیشن جماعت نے نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی ( این آئی اے ) کے سربراہ شردکمار کی معیاد میں دو مرتبہ توسیع دیئے جانے پر بھی سوال اُٹھایا اور اُمید ظاہر کی کہ مالیگاؤں سلسلہ وار دھماکوں کے مقدمہ میں ’کسی خوف یا تائید ‘کے بغیر انصاف کیا جائے گا۔ کانگریس کے لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’کرنل پروہت کو ضمانت مل گئی ۔ اس کی توقع بھی تھی کیونکہ بی جے پی حکومت بم دھماکوں کے تمام مقدمات میں آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو بچارہی ہے ‘‘ ۔ انھوں نے ایک اور ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’’آر ایس ایس سے مربوط ) ملازمین کی برات کو یقینی بنانے کیلئے این آئی اے کے سربراہ کی میعاد میں دو مرتبہ توسیع دی گئی ۔ انھیں اب مزید انعام دیتے ہوئے وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد مناسب عہدہ بھی دیا جائے گا‘‘ ۔ اے آئی سی سی میں شعبۂ مواصلات کے انچارج رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ پروہت کو ضمانت ملنے سے نہ تو اُس کے قصوروار اور نہ ہی بے قصوری کا اظہار ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ مقدمہ ہنوز زیرتصفیہ ہے۔ رندیپ سرجیوالا نے سوال کیا کہ ’’(نریندر) مودی حکومت کو ہندوستان بھر میں آخر کس لئے ایک موزوں اور اہل افسر دستیاب نہ ہوسکا جو این آئی اے کی قیادت کرسکے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ اس ( این آئی اے) کے موجودہ سربراہ کی میعاد میں دو مرتبہ توسیع کی گئی ہے‘‘ ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم مخلصانہ اُمید کرتے ہیں کہ قانون اپنا کام کریگا اور انصاف کیا جائیگا اور اس مقدمہ میں کسی خوف و تائید کے بغیر پہل کی جائے گی ‘‘ ۔ تاہم مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہاکہ جو بھی انصاف کا مستحق ہے اس کو ضرور انصاف ملے گا ‘‘ ۔ رجیجو نے ہند۔تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کی ایک تقریب کے موقع پر اخباری نمائندوں سے کہاکہ ’’اس کے بارے میں سازش ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ کانگریس کو یہ مسئلہ اُٹھانے کی عادت ہوگئی ہے ۔ ہم اس میں مداخلت کیوں کریں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو بہت پہلے شروع ہوچکا ہے ۔یہ عدلیہ کا عمل ہے ۔ ہم اس میں مداخلت کیوں کریں‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ ’’جو بھی مستحق ہے اس کو انصاف ضرور ملے گا ۔ میرے کچھ کہنے سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی‘‘ ۔ رجیجو نے کہاکہ وہ اس مسئلہ پر ڈگ وجئے سنگھ کی طرف سے دیئے گئے بیانات پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے ۔ مملکتی وزیر نے کہاکہ ’’انھیں ( ڈگ وجئے سنگھ کو ) یہ سب کچھ کہتے رہنے کی عادت ہوگئی ہے اس پر میں کیوں کسی ردعمل کا اظہار کروں‘‘ ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے لیفٹننٹ کرنل پروہت کو 2008 کے مالیگاؤں سلسلہ وار دھماکے کے مقدمہ میں ضمانت منظور کی ہے ۔ جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس اے ایم سپرے پر مشتمل بنچ نے پروہت کی ضمانت منظور کی ۔ قبل ازیں بمبئی ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کے کلیدی ملزم پروہت کو ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا ۔ تاہم سپریم کورٹ نے آج پروہت کی ضمانت منظور کرتے ہوئے چند شرائط بھی عائد کیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT