Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / آر ایس ایس کے نظریات ’اسٹارٹ اپ مشن‘ میں رکاوٹ

آر ایس ایس کے نظریات ’اسٹارٹ اپ مشن‘ میں رکاوٹ

Mumbai: Congress Vice-President Rahul Gandhi with party leader Sanjay Nirupam during the inauguration of an auditorium named after Murli Deora at the Mumbai Pradesh Congress Committee office in Mumbai on Friday. PTI Photo by Shashank Parade(PTI1_15_2016_000276B)

معاشی محاذ پر کامیابی کیلئے صبروتحمل ناگزیر ۔ عوام کی زمرہ بندی پر کانگریس کا ایقان نہیں۔ راہول گاندھی کا ادعا

ممبئی 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ مرکزی حکومت نے ملک میں غیر ملکی صنعتکاروں کو راغب کرنے کیلئے ’اسٹارٹ۔ اپ انڈیا‘ مشن شروع کیا ہے، نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عدم رواداری کے ماحول میں اسٹارٹ اپ مشن کارگر ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ آر ایس ایس کا ہندوستان کے بارے میں سخت گیر نظریہ ہے جبکہ اسٹارٹ اپ مشن کیلئے متضاد خیالات اور افکار کی آزادی مطلوب ہوتی ہے۔ سب اربن ویلے پریڈ میں مینجمنٹ طلبہ سے گفتگو کے دوران راہول نے کہاکہ عالمی تقاضوں پر حکمران جماعت بالخصوص آر ایس ایس کو واضح نقطہ نظر (آئیڈیا) رکھنا چاہئے لیکن ان کے پاس جو ویژن ہے میرے خیال میں یہ انتہائی سخت اور غیر لچکدار ویژن ہے جبکہ ہمارے ملک کو لچکدار اظہار خیال اور نظریات کی آزادی کی ضرورت ہے۔

تاہم کانگریس لیڈر نے بتایا کہ اس اعلان میں گہرا تضاد پایا جاتا ہے گوکہ میں اسٹارٹ اپ چاہتا ہوں لیکن مخالف نظریات اور خیالات کو برداشت نہیں کروں گا۔ انھوں نے وزیراعظم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ میں صبر و تحمل کا مادہ نہیں ہے تو معاشی محاذ پر یکسر ناکام ہوجاؤ گے۔ انھوں نے بتایا کہ اسٹارٹ اپ کیلئے نظریات اور تخیلات کی آزادی کی ضرورت ہے۔ ’’اگر میں (کسی خاتون سے یہ) کہوں کہ تم ایک خاتون ہو، آپ کا مقام صرف باورچی خانہ ہے، جس کے باعث آپ کی آزادی پر قدغن لگ سکتا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ بی جے پی عوام کو تقسیم در تقسیم کررہی ہے۔ اور زمرہ بندی اس طرح کی جارہی ہے کہ ان کیلئے ہندو الگ، مسلم الگ، خواتین الگ اور مرد حضرات الگ ہیں۔ لیکن ہم کوئی بھید بھاؤ نہیں کرتے ، یہی ہم میں اور ان میں بنیادی فرق ہے۔ اس موقع پر راہول نے طلبہ سے کہاکہ وہ عوام، اشیاء اور صنعتوں پر کوئی لیبل نہ لگائیں۔ مزید برآں راہول نے بتایا کہ کانگریس پارلیمنٹ میں محصول اشیاء کے صارفین اور خدمات بل کی تائید کرسکتی ہے اور حکومت پارٹی کی شرائط کو قبول کرے گی تو صرف 15 منٹ میں منظور ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس مسئلہ پر حکومت کے ساتھ مفاہمت ممکن ہے بشرطیکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے آمادہ ہو۔ جی ایس ٹی بل کی منظوری میں رکاوٹوں پر انھوں نے کہاکہ دراصل کانگریس نے ہی جی ایس ٹی کو متعارف کروایا تھا لیکن اس وقت بی جے پی نے 7 سال تک روک دیا تھا اور اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ارون جیٹلی اور چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے نریندر مودی نے جی ایس ٹی کی مخالفت کی تھی اور جیٹلی نے یہ اعتراف کیا تھا کہ پارلیمنٹ میں خلل اندازی بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور اب کانگریس اس کی تقلید کررہی ہے۔

ممبئی میں راہول گاندھی کی پدیاترا
ممبئی، 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج برقی شرحوں میں اضافہ کے مسئلہ پر سب اربن باندرہ سے دھاروی تک پدیاترا کی جس میں لوگ جوق درجوق شریک ہوتے گئے۔ راہول گاندھی سکیوریٹی عملہ کے گھیرے میں پیدل چلتے گئے جس کے دوران ان کے حامیوں نے کانگریس زندہ باد کے نعرے بلند کئے۔ اس موقع پر صدر پردیش کانگریس سنجے نروپم اور سابق ایم پی پریہ دت دیگر پارٹی قائدین موجود تھے۔ پدیاترا کے آغاز سے قبل راہول گاندھی نے ویلے پارلے میں واقع بزنس اسکول کے مینجمنٹ طلباء سے تبادلہ خیال کیا جہاں پر انھوں نے جی ایس ٹی بل اور پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ پر نریندر مودی حکومت کے ردعمل پر اظہار خیال کیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پدیاترا کے دوران سادہ لباس میں پولیس عملہ کو متعین کیا گیا اور ٹریفک کا رُخ بھی تبدیل کردیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT