Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / آر ٹی سی پر 314 کروڑ کا بوجھ ، سرویس میں اضافہ کی کوشش

آر ٹی سی پر 314 کروڑ کا بوجھ ، سرویس میں اضافہ کی کوشش

تلنگانہ میں بس کرایہ بہت کم ، وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔/22ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ ایم مہیندر ریڈی نے بتایا کہ ریاست میں آر ٹی سی بس کرایہ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ٹی رام موہن ریڈی اور دیگر ارکان کے سوال پر وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ 27جون 2016 کو بس کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے جو  دو سال 7 مہینے کے بعد کیا گیا۔ اس اضافہ کامقصد آر ٹی سی کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آر ٹی سی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور مینٹننس کے اخراجات میں اضافہ کے سبب یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق پلے ویلگو سرویسس کیلئے 30 کیلومیٹر تک ہر اسٹیج پر ایک روپیہ اور اس کے بعد ہر اسٹیج پر 2 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ دیگر تمام سرویسیس کیلئے 10 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بس کرایوں میں اضافہ سے عام آدمی کے متاثر ہونے کی شکایات درست نہیں ہیں۔ مہیندر ریڈی نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے 4 مرتبہ بس کرایوں میں اضافہ کیا تھا۔ تلنگانہ میں بس کرائے آندھرا پردیش، کرناٹک، مہاراشٹرا اور اڑیسہ سے کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی پر 314 کروڑ روپئے کا بوجھ ہے۔ سرویسیس میں اضافہ اور نئی بسوں کے ذریعہ نقصانات میں کمی کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مختلف سبسیڈی کے تحت آر ٹی سی کو 500کروڑ اور گریٹر میونسپل کارپوریشن نے 336 کروڑ روپئے ادا کئے ہیں۔  مہیندر ریڈی نے کہا کہ حکومت خدمات کو بہتر بناتے ہوئے آر ٹی سی کو نقصان سے اُبھار کر خود مکتفی اور منافع بخش ادارہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ارکان نے شکایت کی کہ خانگی بس سرویسیس، آٹو سرویس اور قدیم بسیں ادارہ کو نقصان کی اہم وجوہات ہیں۔ ارکان نے کہا کہ ارکان اسمبلی، طلباء، سرکاری ملازمین اور صحافیوں کو دیئے جانے والے بس پاسیس کی پابجائی حکومت کی جانب سے نہیں کی جاتی جس کے باعث آر ٹی سی کو نقصان ہورہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT