Monday , September 25 2017
Home / اداریہ / آلودگی کا شکار شہر

آلودگی کا شکار شہر

ہمارے عالمِ وحشت کی خستگی توبہ
چمن میں پھول بھی جی بھر کے مسکرا نہ سکے
آلودگی کا شکار شہر
دارالحکومت دہلی کی شان آن و بان ہی منفرد تھی۔ یہاں کی روزمرہ زندگی میں صفائی اور پاکی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ سڑکیں روز صاف کی جاتی تھیں۔ یہاں رہنے والے عوام حکمرانوں کے درمیان خود کو طبی، معاشی، سماجی اور دیگر کئی امور سے محفوظ سمجھتے لیکن دلی کو آج آلودگی نے بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سیاسی آلودگی، فضائی آلودگی، صوتی آلودگی اور دیگر کئی آلودگیوں کے ساتھ دارالحکومت دہلی آج سارے ملک کے عوام کے لئے توجہ و تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سارے ملک پر حکومت کرنے والی حکمراں طاقت بھی اس مرکزی شہر میں سانس لیتی ہے مگر وہ شہری آلودگی سے بے خبر رہ کر اب تک لاپرواہی و تساہلی کا جو مظاہرہ کیا ہے اس کا نتیجہ ہے کہ سارا شہر ایک بے ہنگم اور گنجان علاقہ میں تبدیل ہوگیا۔ اس قومی وقار کے حامل شہر کے عوام کس سے دادرسی چاہیں اور کس سے منصفی چاہیں کا سوال افسوسناک طور پر حکمرانوں کی حویلیوں کی چوکھٹ سے ٹکرا رہا ہے۔ دہلی حکومت نے عام آدمی پارٹی کی زیر قیادت ایک عبوری اسکیم بناتے ہوئے آلودگی کی سطح کو کم کرنے کا جائزہ لیا ہے۔ چیف منسٹر اروند کجریوال نے اپنی رہائش گاہ پر ایک ہنگامی کابینی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی مضرت رساں رخ کو کم کرنے کے لئے موثر اقدامات پر توجہ دی گئی۔ شہر کی سڑکوں کو موٹر گاڑیوں سے پاک کردیا جائے تو آلودگی کی مضرت رساں سطح کم ہوگی مگر یہ مسئلہ کا قطعی حل نہیں ہوسکتا۔ آلودگی کا مسئلہ اس وقت صرف دارالحکومت دہلی کا ہی نہیں ہے بلکہ ملک کے ہر بڑے شہر میں موٹر گاڑیوں، کارخانوں، چھوٹی چھوٹی گھریلو صنعتوں میں اضافہ سے آلودگی کی فضاء بڑھتی جارہی ہے۔ آلودگی پر قابو کے لئے جب تک حکومت کوئی ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ بناکر اس پر عمل نہیں کرے گی عوام کی حفظان صحت کا مسئلہ سنگین ہوتا جائے گا۔ مرکز برائے سائنس و ماحولیات نے کہر، دھواں، دھول اور آلودگی پر قابو پانے دہلی حکومت کی اسکیمات اور ہنگامی اقدامات کرنے کے اعلانات کا خیر مقدم کیا ہے۔ غیر معمولی طور پر دہلی کو عملاً گیاس چیمبرس تبدیل ہوجانے کا طنزیہ ریمارک کیا جانا وہاں کی ابتر فضائی آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ آلودگی کو ختم یا کم کرنے کے لئے سخت اقدامات کریں۔ عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو موثر بنایا جائے تو آلودگی سے بچا جاسکتا ہے۔ طویل مدتی ایکشن پلان ہی آلودہ ماحول کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آئندہ 5 دن تک کسی بھی قسم کی تعمیرات اور انہدامی کاموں کو روک دینے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح 10 دن کے لئے ڈیزل سے چلنے والے جنریٹرس پر بھی پابندی رہے گی۔ شہر وں میں آلودگی اور سانس لینے میں دشواری پیدا کرنے والی فضاء کا اصل ذریعہ موٹر گاڑیوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں ہے۔ سڑکوں سے موٹر گاڑیوں کو ہٹا دینے یا کم کرنے سے آلودگی کو کچھ وقت کے لئے دور کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ مسئلہ کا مستقل حل نہیں ہے۔ ہندوستان کے دیگر شہروں خاص کر میٹرو پولیٹن شہروں میں جیسے چینائی، بنگلور، ممبئی اور حیدرآباد میں موٹر گاڑیوں کی بڑھتی تعداد آلودگی کا باعث بن رہی ہے۔ حکمراں جماعت اور اپوزیشن نے اس مسئلہ کو بھی سیاسی رنگ دینے سے گریز نہیں کیا ہے۔ یہ مسئلہ شہریوں کے حفظان صحت سے مربوط ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تلنگانہ ریاست ہو یا دہلی کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا رول غیر ذمہ دارانہ ہے۔ حکومتوں کا اہم رول عوام کو خواب دکھانا اور خواب دیکھنے جیسے مشاغل میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔ خواب دیکھنے کا سبز باغ بھی دکھایا جاتا ہے۔ اس لئے ملک کا ہر بڑا شہر آج سنگین حد تک آلودگی سے متاثر ہے۔ یہ خواب دیکھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ اس ملک کے عوام مختلف مسائل اور امراض کا شکار ہیں۔ پروپگنڈہ مہم کا سہارا لینے والی بی جے پی حکومت خواب دیکھنے کے عمل کو خود فریبی کے نام سے موسوم کرسکتی ہے۔ یہ حکومت نہ کسی ذمہ داری کو محسوس کررہی ہے اور نہ عوام کے ووٹوں کو کوئی اہمیت دے رہی ہے پھر آنے والے 2019 ء کے عام انتخابات ہی اس حکمراں اور حکمراں پارٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT