Monday , June 26 2017
Home / مضامین / اٹھئے کہ، بس اب لذت خواب سحرگئی …

اٹھئے کہ، بس اب لذت خواب سحرگئی …

آرایس ایس کی حکمت عملی اور مسلم رہنماؤں کا متذبذب رویہ

محمد جسیم الدین نظامی
سینر صحافی ،شرد گپتا نے اپنے تجربے اورمشاہدے کی بنیادپر، بی بی سی کو دئے گئے انٹرو یو میں کہا ’’ مسلم رائے دہندگان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ مغربی اتر پردیش میں جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے، وہاں انتخابات سے قبل کے ’’آخری 72 گھنٹے‘‘ بہت اہم ہوتے ہیں… اور وہ’’ آخر‘‘ میں طے کرتے ہیں کہ بی جے پی کو شکست دینے کی پوزیشن میں کون سی پارٹی ہے اور پھر وہ اس کے حق میں ووٹ کرتے ہیں‘‘…دوسری طرف ثقافتی تنظیم کا دعوی کرنے والی آرایس ایس اپنے سیاسی ونگ بی جے پی کی کامیابی کیلئے کتنے گھنٹے، کتنے مہینے اورکتنے سال سے اپنی حکمت عملی پر شب ورز مصروف عمل ہے.. اس حوالے سے بھی ایک رپور ٹ  پڑھ لیجئے جو ’’یوپی پتریکا ڈاٹ کام‘‘ پہ پچھلے ماہ شائع ہوئی ہے…رپور ٹ کے مطابق،آر ایس ایس نے 2014میں یوپی لو ک سبھا انتخابات میںکامیابی کے بعدہی یوپی اسمبلی انتخابات2017میں بی جے پی کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تیار کی تھی..اس دوران اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ بہار اسمبلی میں کی جانے والی غلطیوںکا اعادہ نہ ہوسکے۔اسی حکمت عملی کے تسلسل کے طورپر جنوری 2017میں دو مرحلوں میں ایک خاص مہم چلائی گئی ،پہلے مرحلے کے تحت  9تا19جنوری آرایس ایس کارکنان گھرگھرجاکر ارکان خاندان کی ساری تفصیلات حاصل کی..  20جنوری کے بعد لوگوںسے گھل مل کربی جے پی کے حق ووٹنگ کرنے کیلئے راغب کیا گیا… دوسرے مرحلے میں آرایس ایس نے، تمام پولنگ بوتھ پراپنے ارکان کو ووٹنگ لسٹ کے ساتھ تعینات کرنے، دوپہر 2 بجے کے بعدووٹر لسٹ کے ساتھ ووٹنگ نہ کرنے والوںکے گھرجاکر ووٹنگ کیلئے مجبورکرنے کا فیصلہ کیا ۔اپنی اس حکمت عملی کوکامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے روزانہ مختلف مقامات پراجلاس منعقعد کئے جارہے ہیں، جس میںآر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں ،وشو ہندو پریشد ،بجرنگ دل،اے بی وی پی،کسان سنگھ،مزدور سنگھ،سیوا بھارتی وغیرہ سے تعلق رکھنے والے حصہ لے رہے ہیں‘‘…..طویل حکمت عملی کی مختصر رپورٹ اور مسٹر شرد گپتا کے خیالات پڑھنے کے بعد آپکے لئے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ یوپی کے انتخابی جنگ میں کو نسا فریق کتنا سنجیدہ اور کتنی تیار ی کے ساتھ میدان میں اترا ہے ؟.. واضح رہے کہ آسام اسمبلی انتخابات میںبھی آر ایس ایس نے یہی حکمت عملی اختیار کی تھی… اب ایک ایسے وقت جب رائے دہی کا سلسلہ مرحلہ وار جاری ہے، بعض مذ ہبی رہنماؤں کی جانب سے ’’انفرادی‘‘ سطح پربی ایس پی کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی جارہی ہے…مسئلہ یہ نہیں کہ مذکورہ پارٹی کے حق میں اپیل کرنا صحیح ہے یا غلط… سوال یہ ہے کہ انفرادی سطح پرکیوں؟ ’’اجتماعی طورپر‘‘ اور وقت سے پہلے ایسا کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟..اس وقت یہاں تقریباً 10ِ مسلم سیاسی جماعتیں انتخابی معرکہ میں برسر پیکار ہیں ..جس میں  ایم آئی ایم کے علاوہ، ویلفیر پارٹی ، پاپولر فرنٹ کی ایس ڈی پی آئی ،قومی ایکتا دل ، پیس پارٹی ، راشٹریہ علماء کو نسل ، اتحاد ملت پارٹی ، انڈین نیشنل لیگ، پرچم پارٹی اور مسلم مجلس وغیرہ شامل ہیں…ظاہر ہے ان تمام جماعتوںاورانکے حامیوںنے اپنے اپنے حق میں ووٹنگ کیلئے مہم چلائی ہے…اورایک ہی حلقے سے اپنے اپنے امیدوار بھی ٹہرائے ہیں…ایسے میں تذبذب کے شکار مسلم ووٹر س اپنے مذہبی ،ملی اورسماجی قائدین کی طرف ٹک ٹکی لگائے دیکھ رہے ہیں کہ ..  وہ پکاررہے ہیں ،خدارا ہماری مدد کیجئے کہ.. ’’انفرادی فائدے‘‘ کی اس ہوڑ میں یہ سوچ کرکہ ،سب تواپنے ہیں… سب کی جھولی میں تھوڑ ی تھوڑ ی ڈال دی جائے..یا ’’ملی مفاد‘‘ کی جنگ تصو ر کرتے ہوئے کسی ایک ہی پارٹی کے حق میں فیصلہ صادرکیاجائے؟.. یہ سوال اسلئے بھی شدت اختیارکرچکاہے،

چونکہ سیاسی تجزیہ نگاروںکے مطابق،یوپی کی 403 حلقوںمیں سے 130 اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹوں کا کردار فیصلہ کن ثابت ہوسکتاہے ..جبکہ 50سے زائدایسے حلقہ جات ہیں جہاں انہیں حالات کا رخ موڑنے کے قابل قرار دیاگیا ہے… سرکاری اعدا دو شمار کے مطابقء 15 سیٹوں پر 10 سے 20% مسلم آبادی رہتی ہے جبکہ 76 سیٹوں پر 20 سے  30% اور 79 سیٹوں پر 30%سے زائد مسلمان آباد ہیں.. یعنی 180 سیٹوں پر وہ براہ راست یا با لواسطہ طور پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں.. یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتیں مسلم ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے’’بہروپئے ‘‘ کا روپ اختیارکرلیتی ہیں…مگرالمیہ یہ ہے کہ ان بہروپیوں کو پہچاننے میں ہمارے قائدین وقت سے پہلے مددہی نہیںکرپاتے..وہ وقت سے پہلے کھل کر کوئی’’ واضح موقف ‘‘ اختیار نہیںکرسکے کہ،’ ’ ووٹ تقسیم ‘‘ہونے کے خوف سے کیا مسلمان ایس پی کانگریس اتحاد کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لے ؟ جو مسلم مسائل پرابھی بھی سیدھے منہ بات کرنے تیارنہیں. .!  یا پھر سیاست میں زیادہ مسلم نمائندگی دینے کی کوشش کرنے والی بی ایس پی کے گود میں بیٹھ جائے جنکے کھاتے میں مسلمانوںکے تئیں ایک بھی کارنامہ درج نہیں.. !  یاپھر ’’جو ہوگا دیکھاجائگا‘‘ کی بنیاد پر مسلم جماعتوں کی طرف سے کھڑے کئے جارہے امیدواروںپر’’ داؤ‘‘ آزمانا بہترہوگا؟.. کیونکہ غیر مسلم سیکولر جماعتوں کو توہم پچھلے70سال سے آزماہی رہے ہیں… ا بتدا ء میں تو یہی محسو س ہواکہ کانگریس ایس پی اتحاد مسلمانوں کیلئے ایک بہتر متبادل ہوگا…مگر موجود ہ الیکشن کیلئے ان کے جو منشور جاری کئے گئے ہیں وہ مسلمانوںکے حساس اوربنیادی مسائل پر مکمل طور پر خاموش ہے.. اکھلیش یادویہ سمجھنے لگے ہیں کہ ایس پی ،کانگریس کے ساتھ آجانے کے بعدمسلمان بی جے پی کے خوف سے انہی کے پالے میںگرنے والے ہیں… ایسے میںکیا اکھلیش کوسخت پیغام دینے کی ضرورت ہے یا  نہیں؟…

مسلمانوں کی اکثریت نے 2012میں ایس پی کو ووٹ دیا تھا اورانہی کی بدولت ایس پی اقتدار حاصل کرسکی تھی،جسمیں 43مسلم ارکان اسمبلی شامل تھے.. . مگراسکے باوجود سال2013سے 2016 یعنی محض چارسال کے دوران یوپی کے باشندوں کو چھوٹے بڑے 700فسادات کا سامنا کرنا پڑا … المناک پہلویہ کہ فسادات میں ملوث ’’ایک بھی فرد‘‘کو آج تک نہ’’ مجرم‘‘ ثابت کیا جاسکا اورناہی کسی’’ ایک فرد‘‘کو سزادلائی جاسکی… حالانکہ 403 ارکان والی اسمبلی میں69مسلم ارکان موجود تھے… جن میں سے 43ارکان کا تعلق سماج وادی سے ہی تھا… تاہم انہوں نے ثابت کردیا کہ انہیں صرف ہمارے ووٹوںسے غر ض ہے ، ہمارے مسائل کی یکسوئی میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں… مگر مسلمانوں کے ’’سیاسی خیرات‘‘ سے اقتدار کی کرسی خریدنے والے ’’بے حس سیاست دانوں‘‘کی اِک بھیڑ ..ایک بارپھر اپنی جھولی پھیلائے ہمار ے سامنے کھڑی ہے …اورہم کشمکش میں مبتلاء ہیں .. ہمیں یہ نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ ان میں سے مستحق  کون  ہے اور کون دھوکے باز؟… کشمکش کا یہ وہ ماحول اورمنظر ہے جو پہلی بار نہیں..ہربار ہمارے سامنے سراپا سوال بن کر کھڑا ہوجاتاہے…جس کا جواب عملی طور دینے کوئی تیار نہیں … اتحاد اتحاد کاراگ الاپنے والے بھی اس سمت میں کوئی عملی اقدامات سے گریزاں نظر آتے ہیں… ایک طرف آرایس ایس ہے جو، 1925 میںمقرر کئے گئے اپنے اہداف کی طرف ہزاروں مخالفت کے باوجو مسلسل رواں دواں ہے… اور ایک ہم ہیں، انکے عروج کے دور میں بھی ’’ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ‘‘ ہیں … غالباً 2004 کی بات ہے،جب لوک سبھا انتحابات کے وقت مسلمانوںکی بعض جماعتوں نے الیکشن سے چند ماہ پہلے اپنے مسائل پرمشتمل ایک منشورمطالبات کی شکل میں سیکولرجماعتوںکے حوالے کیا تھا اوریہ واضح کردیا تھ کہ جو انکے مطالبات کی تکمیل کرے گا،مسلم رائے دہندے انہی کے حق میں راء دہی کرینگے.. سیاسی اثرات کے اعتبار سے یہ نہایت دانش مندانہ اقدام تھا…مگر اس طریقہ کارکوکیوںمسدود کردیاگیا ؟اسکی وجوہات کیا تھیں ،اس پرکوئی بات کرنے تیار نہیں…راقم الحروف نے جب اس حوالے سے حیدرآباد کے چند دانشوروں سے بات کی توان کا کہنا تھاکہ.. ’’ہمیں سنگھ پریوار کی پا لیسیوں کو رات دن کوسنے کے بجائے … ایک ایسی سیاسی مشاورتی کونسل قائم کرتے ہوئے پھر سے مذکورہ طریقہ کارکی شروعات کرنی چاہئے ،جس  میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے طرز پر ہرمسلک اورہرعلاقے کے ملی ،سماجی اور غیرسیاسی قائدین کوشامل کیا جائے جو تمام سیاسی جماعتوںکے کارناموںکا جائزہ لیکر صرف سیاسی اورسماجی مسائل پرملت کی رہنمائی کا کام انجام دیں ‘‘…بظاہر یہ خیال اک دیوانے کا خواب سا لگتاہے… ایک مشکل ترین امر نظر آتا ہے .. مگر ناممکن نہیں ہے …بس ضرورت ہے جراء ت کے ساتھ پہلی اینٹ رکھنے کی ۔تکمیل عمارت کیلئے کارواںاپنے آپ سامنے آئگا،کیوںکہ اب….
وہ بادئہ شبانہ کی سرمستیاں کہاں
اٹھئے کہ،بس لذت خواب سحر گئی
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT