Monday , September 25 2017
Home / مضامین / اٹھ گیا ناوک فگن مارے گا دل پہ تیر کون

اٹھ گیا ناوک فگن مارے گا دل پہ تیر کون

مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر
آہ ! منبر رسول کے تقدس کا نگہبان گیا

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت اسد برجریدۂ عالم دوام ما
(حافظ)
جامعہ نظامیہ کے فارغ التحصیل عالم دین حافظ محمد عبدالسلیم نیویارک امریکہ میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ، خوش الحانی کے سبب مقامی کمیونٹی میں معروف ہیں ۔ تین دن قبل ان کا فون آیا ، اطلاع دی کہ حضرت مصباح القرآء  ،نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ حضرت عبداللہ قریشی الازہری دواخانہ میں زیر علاج ہیں ۔ وہ حضرت قبلہ کی صحت سے متعلق بہت بے چین و بے قرار تھے ، میں نے ان کو تسلی دی کہ میری قریبی حضرات سے بات چیت ہوگئی ہے حضرت قبلہ کی صحت بہتر ہے ، پریشانی کی بات نہیں ۔ 6 دسمبر کو بعد نماز عشاء میں نے انہیں پیغام دیا کہ الحمدللہ حضرت قبلہ دواخانہ سے ڈسچارج ہوگئے ہیں ۔ رات دیر گئے تقریباً گیارہ بجے ان کا دوبارہ پیغام ملا ، نہایت خوشی سے انھوں نے حضرت قبلہ کی گھر واپسی پر خدا کا شکر ادا کیا ۔ رات تین بجے مسلسل پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ غربت و پردیس میں درمیانی شب کسی کا فون یا پیغام ملنے پر بڑی پریشانی ہوتی ہے لیکن حضرت قبلہ کی صحت سے متعلق قریبی حضرات تسلی بخش اطلاعات سے دل کافی مطمئن و پرسکون تھا ۔ اچانک حضرت قبلہ کے شاگرد رشید کا المناک پیغام ملا ’’حضرت قبلہ اس دنیا میں نہ رہے‘‘ ، میرے ہوش اڑ گئے ، سکتہ طاری ہوگیا ، اچانک سانحہ ارتحال کی خبر نے لرزہ براندام کردیا ۔ حضرت قبلہ کے اچانک سانحہ ارتحال کی خبر نے قلب و دماغ کو ماؤف کردیا ۔ قلب پر ایسی چوٹ لگی جسکا اظہار ناقابل بیان ہے ۔ معلوم نہیں کہ یہ مشفق استاذ ، مربی گرامی اور شیخ کامل کی جدائی کا صدمہ تھا یا پھر اس قاری قرآن کی وفات حسرت آیات کا غم تھا جس کو داود علیہ الصلوۃ والسلام کی حسن صوت کا حصہ وافر نصیب ہوا تھا اور جسکی روشنی سے قرأت قرآن کے ہزار ہا چراغ روشن ہوئے تھے ، جن کی عربی دانی سے متاثر ہو کر ہزارہا عنادل علم دین کو عربی میں تحریر و تقریر کا حوصلہ ملا تھا ۔ وہ درحقیقت مثالی خطیب ذیشان کی جدائی کا غم تھا ، جن کی شان خطابت سے عرب کے جید علماء متاثر ہوا کرتے ، وہ خطباء عرب کی صف میں اپنا انفرادی مقام رکھتے ۔ وہ ایک ایسی ہستی کی موت کا صدمہ تھا جو روحانی انحطاط ، اخلاقی تنزلی اور پست ہمتی کے دور میں اخلاقی عظمت و سطوت کا بلند قامت پہاڑ تھا ، روحانیت کے بلند مقام پر فائز و متمکن تھا وہ ایک بلند پایہ ہستی کی وفات کا صدمہ تھا جس نے اپنے علمی وقار و دبدبہ کو تاحیات بلند رکھا ، جس کی پیشانی بلند کسی قدآور کے روبرو خمیدہ نہیں ہوئی ۔ وہ بلاشبہ اس وارث نبی کا سانحہ ارتحال کا صدمہ تھا جو منبر رسول کی عظمت و تقدس کا محافظ و نگہبان تھا ۔ جب دہلی کے تاریخی منبر و محراب ذاتی و سیاسی اغراض و اہداف کے لئے استعمال ہوتے ایسے پرآشوب دور میں اس مرد باہمت نے تاریخی مکہ مسجد کے منبر و محراب کی عظمت و سطوت کی پاسداری کی ۔ باوجود یکہ تاریخی مکہ مسجد راست حکومت کے زیر انتظام ہے اور آپ کے مستقل میعاد عرصہ ہائے دراز قبل ختم ہوچکی تھی ۔ ہر تین سال کے بعد توسیع و تجدید کی ضرورت درکار ہوتی ۔ خدا رحمت نازل فرمائے اس بلند ہستی پر جن کے قدموں کو ہم نے حکومت یا سیاست کی دہلیز پر نہیں دیکھا  ،منبر و محراب سے قلبی و جذباتی لگاؤ کے باوصف سیاسی زعماء و قوم اور حکومتی عہدیداروں سے کوئی اغراض پر مبنی مراسم نہیں تھے بلکہ بلالحاظ تمام زعماء قوم کے دلوں میں آپ کی عظمت و تعظیم راسخ تھی ۔ نہ جانے کتنی بار حضرت قبلہ کی میعاد میں غیر متوقع توسیع ہوتی رہی ۔ اللہ تعالی نے آپ کو ایسی خداداد آواز سے سرفراز فرمایا تھا کہ مکہ مسجد میں جمعہ کی نماز میں جب آپ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران معانی و مفاہیم کے سمندر میں غرق ہو کر سیاق وسباق کے مطابق اپنی آواز کو بلند فرماتے تو اسی سال کی عمر میں بھی یوں محسوس ہوتا کہ کوئی انیس یا اکیس سال کا نوجوان تلاوت کررہا ہے ۔ آپ خوش الحانی میں دکن کے شیخ عبدالباسط ، محمد عبدالصمد تھے ۔ آپ کا لحن دیگر قراء زمانہ سے منفرد تھا ، خاص طور پر عام نمازوں میں تلاوت قرآن کا انداز تمام قراء سے ممتاز تھا ۔ بخدا ! ایسی قرأت ہم نے آج تک کسی سے نہیں سنی ۔ شاید آپ کے ہزار ہا طلبہ میں کوئی ہو جو آپ کی نماز میں پڑھی جانے والی اسلوب قرأت کی کماحقہ نقل کرسکتا ہو ۔ ایک مرتبہ جب میں نے اس انفرادیت کا حضرت قبلہ سے تذکرہ کیا تو فرمانے لگے ’’قرآن کے معانی میں ڈوب کر تلاوت کرتا ہوں اور مکہ مسجد میں جمعہ کی نماز میں نہ جانے کتنے اہل دل ہوتے ہیں جن کی برکت سے یہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے‘‘ ۔ عربی خطابت میں آپ کا مقام بہت بلند تھا ، شمالی ہند کا پتہ نہیں ، جنوبی ہند میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ عربی خطابت میں حضرت سحبان وائل ضرب المثل ہیں جو کہ محضر می ہیں یعنی زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام کو پانے والے عظیم خطیب ہیں ۔ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ علیہ نے ان سے تقریر کی خواہش کی تو ظہر سے عصر تک بلا تکان تقریر کی ، نہ کھانسا نہ کھنکارا نہ کلمات کو دہرایا ،نہ زبان کہیں لڑکھڑائی ۔ حضرت امیر معاویہؓ نے ’’خطیب العرب‘‘ کا لقب دیا تو انہوں نے جواب میں کہا نہیں بلکہ ’’خطیب العرب و العجم والانس و الجن‘‘ ان گنہگار آنکھوں نے دکن کی سرزمین پر حضرت قبلہ جیسا عربی زبان کا کوئی خطیب نہیں دیکھا ۔ اگر آپ کو ’’سحبان دکن‘‘ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں بلکہ عین حقیقت کے مطابق ہے ۔

آپ مکہ مسجد میں قائم ’’مدرستہ الحفاظ‘‘ کے فارغ ہیں  ۔آپ ان ذہین طلباء میں سے ایک ہیں جن کی ایک جماعت بنا کر حضرت مولانا مفتی محمد ولی اللہ قادری نے عربی زبان کی بنیادی اساسی تعلیم مختصر مدت میں دے کر جامعہ نظامیہ اور دیگر جامعات و مدارس کے امتحانات کے لئے تیار کیا تھا ۔ آپ نے جامعہ نظامیہ میں تعلیم کے ساتھ ناگپور اور علی گڑھ یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیئے ۔ قسمت نے یاوری کی اور عربی زبان کے اس شیدائی کو 1965 میں عالم اسلام کی عظیم یونیورسٹی جامعہ الازہر مصر میں داخلہ ملا ۔ آپ 1973 تک جامعہ الازہر میں زیر تعلیم رہے اور ایم اے کی تکمیل کی اور اجلہء اساتذہ کرام سے استفادہ کیا ۔ یہی وہ زمانہ تھا جس میں آپ کی پنہاں خداداد صلاحیتوں کو سنوارنے اور نکھرنے کا بھرپور موقع ملا ۔ مصر سے واپسی کے بعد آپ نے 1974ء میں آصف ثامن مکرم جاہ بہادر کی سرپرستی میں مکرم جاہ دارالقرأت و التجوید کا قیام عمل میں لایا اور اس ادارہ کی خوب آبیاری کی اور تاحیات قرأت کی مشق کو جاری رکھا حتی کہ وصال کے دن بھی بعد فجر حسب معمول طلباء کو مشق کروائی ۔ آپ کی عربی زبان و ادب میں غیر معمولی صلاحیتوں کی بناء پر 1977-78 میں راست نائب شیخ الادب کے عہدہ پر تقرر عمل میں آیا ۔ پھر آپ شیخ الادب بعد ازاں شیخ التفسیر بھی رہے ۔ تاحیات نائب شیخ الجامعہ کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے ۔ اور آپ نے حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کے عرس کے موقع پر منعقدہ جلسہ تقسیم اسناد و عطائے خلعت میں بحیثیت نائب شیخ الجامعہ تعلیمی رپورٹ ایسے بانکپن سے پیش فرماتے کہ جسکی مثال نہیں ۔ آپ کو جامعہ نظامیہ سے غیر معمولی لگاؤ تھا  ۔آپ فرماتے ’’میں مکہ مسجد کا خطیب ہوں ، مجھے اس پر فخر نہیں ، جامعہ نظامیہ سے وابستہ ہوں اس پر مجھے فخر ہے‘‘ ۔

اس فقیر کو عالم دوم سے کامل دوم تک پانچ سال استفادہ کرنے کا بھرپور موقع ملا ۔ تفسیر بیضاوی سنن نسائی دیوان متنبی ، مقامات حریری ، ترجمتین وغیرہ درسی کتب پڑھنے کا شرف حاصل رہا ۔ وہ ادب کے شہسوار تھے ۔ عربی ادب کے ساتھ اردو ادب پر بڑی قدرت تھی ۔ اس خوش اسلوبی سے اشعار کا ترجمہ فرماتے کہ پیچیدہ اشعار کی ترکیب و تحلیل خود بخود واضح ہوجاتی اور ترجمہ اس قدر سلیس اور دلنشیں ہوتاکہ بخدا مزید تشریح کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ آپ کی تدریس کا کمال یہ تھا کہ وہ درسی کتابوں سے محظوظ ہوتے ہوئے پڑھاتے ۔ گویا دوران درس حضرت قبلہ پر ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی اور جھومتے ہوئے محظوظ ہوتے ہوئے  پڑھاتے ۔ کتاب کی عبارت ابتداء خود ایسے دلآویز اسلوب انداز میں پڑھتے کہ طلباء کی تمام تر توجہ حضرت قبلہ کو سماعت کرنے پر منعطف ہوجاتی ۔ درس کے دوران تمام طلباء پر نشاط و جولانی چھائی ہوئی رہتی ۔ طلباء کو عربی اشعار یاد دلاتے ۔ عربی اخبارات کے مطالعہ کی تلقین کرتے ۔ عربی اخبارات کا باضابطہ مطالعہ فرماتے ۔ درس کے دوران غیر متعلقہ گفتگو کو قطعاً پسند نہ فرماتے ۔ طلبہ جماعت میں پہنچتے ہی نہایت مستعدی سے درس دیتے ۔ محنتی طلباء کی ہمت افزائی فرماتے ۔ ترجمتین کے گھنٹے میں اگر کوئی طالب علم محبت کرتا اور اچھی تعبیرات لکھ کر لاتا تو بہت خوش ہوتے ۔ تمام طلباء سے کام لیتے ۔ طلبا کو عبارت خوانی اور ترجمہ کی مشق کرواتے ۔ کتاب پڑھانے کے بعد طلباء سے ترجمہ کرواتے ۔ عربی اشعار اور عربی متون پڑھنے کا ایسا دلکش اور وجد آفریں اسلوب تھا کہ طبیعت میں خود بخود حضرت کی نقل کرنے اور بار بار حضرت کے اسلوب و طریقہ میں اشعار و عبارات کو دہرانے کی رغبت پیدا ہوتی ۔ جس کے نتیجہ میں مجھے دیوان متنبی کے بیشتر اشعار اور مقامات حریری کی عبارتوں کی عمارتیں یاد ہوگئی تھیں ۔ اور یہی ذوق عربی اشعار کو نظم کرنے میں بڑا کارآمد ثابت ہوا ۔ میری جماعت میں حسن اتفاق سے مولانا حافظ مفتی محمد ولی اللہ قادری شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ کے برادر کلاں حضرت حافظ خیراللہ صاحب کے پوتے ، حفاظ گھرانے کے چشم و چراغ مولانا حافظ و قاری محمد لطیف احمد قادری نائب شیخ الفقہ ، نیز مولانا حافظ و قاری محمد مبین اقبال صاحب مصحح دائرۃ المعارف العثمانیہ شریک تھے ۔ نیز ہماری جماعت میں دیگر ذہین طلباء تھے ۔ حضرت قبلہ کے ترجمتین کے گھنٹے میں ہر طالب علم اردو عبارتوں کو عربی کی مختلف تعبیرات میں ڈھال کر پیش کرتا ۔ ہر طالب علم کا ترجمہ مختلف ہوتا اور تعبیرات عمدہ ہوتیں ۔ حضرت قبلہ کی اس جماعت پر خصوصی نوازشات تھیں ۔ خود ستائی نہیں بلکہ طالب علمی کی ایک نہ بھولی جانے والی یادوں میں سے ایک یادگار ہے کہ حضرت قبلہ نے فرمایا تھا ’’بیس سال کے عرصہ میں میں نے ایسی جماعت نہیں دیکھی‘‘ ۔

ہمارے طالب علمی کے زمانہ میں طلباء کی عربی زبان میں تحریری و تقریری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے ’’المنتدی‘‘ کے قیام عمل میں لایا گیا ۔ ایک مرتبہ منتدی میں طلباء کے مظاہرہ کے بعد حضرت شیخ الحدیث نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ۔ بعد ازاں حضرت مصباح القرء نائب شیخ الجامعہ نے اپنے تاثرات کے دوران حضرت شیخ الحدیث کی رائے کے خلاف اظہار فرمایا اور اس معاملہ میں کچھ سختی اختیار کی اور اپنی رائے کو نہایت تاکید کے ساتھ پیش کیا ۔ اور تمام طلباء نے حضرت مصباح القرأ کا شیخ الحدیث کی رائے کے مقابل میں اپنی رائے کو نہایت تاکید کے ساتھ بیان کرنے کو نوٹ کیا لیکن قربان جایئے حضرت شیخ الحدیث کے اخلاق عالیہ پر آپ نے نہ اس محفل میں کسی قسم کی خفگی کا اظہار کیا بلکہ اسی دن مغرب کے بعد مجھے حضرت قبلہ کے پاس چلنے کے لئے کہا ، ان کا مقصد صرف یہی تھا کہ ناحق ہی اگر غلط فہمی پیدا ہوجائے تو بھی اس کا ازالہ ہوجائے ۔ مخفی مباد کہ ایک دو ہفتوں بعد حضرت قبلہ نے دوبارہ حضرت شیخ الحدیث کی رائے کے خلاف اپنی رائے کااظہار تاکیدی لب و لہجہ میں کیا تھا اور مجھے یاد ہے کہ حضرت قبلہ بار بار حضرت شیخ الحدیث کی طرف متوجہ ہوتے اور (سیدی لاتؤ اخذنی) آپ میرا مواخذہ نہ فرمائیں ، فرماتے جاتے اور اپنی رائے ظاہر فرماتے جاتے ۔ اس روز بعد نماز مغرب شیخ الحدیث دوبارہ حضرت قبلہ کے گھر گئے یہاں وہاں کی گفتگو کی چائے نوش کی اور واپس تشریف لائے ۔ یہ بزرگوں کے اخلاق کریمانہ کی اونچی مثالیں اور آج نوجوان طبقہ علماء ان بلند اخلاق کریمہ سے دور ہے ۔
یہ اس فقیر کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ جب جامعہ نظامیہ میں کامل الحدیث تکمیل کے فوری بعد میرا تقرر بحیثیت استاد عمل میں آیا تو میں حضرت مصباح القرأ نائب شیخ الجامعہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ حضرت قبلہ نے فرمایا ’’اگر میں شیخ الجامعہ ہوتا تو تمہارا تقرر نائب شیخ الادب پر کرتا‘‘ فی الواقعی یہ کلمات میری ہمت افزائی کے لئے ہیں تاہم وہ میرے استاد مکرم کی زبان فیض ترجمان سے جاری ہوئے ہیں ۔ اس لئے خوشی و انبساط کا باعث ہیں ۔
حضرت قبلہ کو سلسلہ خلوتیہ اور سلسلہ ملتانیہ میں خلافت حاصل تھی ، بے شمار طلبہ و عامتہ المسلمین نے آپ کے دست حق پر توبہ کی اور ذکر و سلوک کی تربیت حاصل کی ۔ آپ کے اوقات نہایت محفوظ تھے۔ بعد فجر قرأت کی مشق کرواتے ، صبح جامعہ نظامیہ تشریف لاتے ، صحت جب تک بحال رہی ، چار بجے تک نظامیہ میں رہتے ، شام کے وقت کبھی خطبہ نکاح پڑھنے کے لئے خواہشمند کے اصرار پر تشریف لے جاتے ، عام جلسوں میں شرکت سے پرہیز فرماتے ۔ اونچے درجے کے خطیب ہونے کے باوصف عوامی تقریروں کی طرف توجہ نہیں فرمائی ، افراد کو تیار کرنے پر ساری توجہ مرکوز فرمائی جس کے نتیجہ میں ہزارہا طلباء نے آپ کی ذات گرامی سے بھرپور استفادہ کیا ۔ نائب شیخ الجامعہ جو علمی و انتظامی عہدہ ہے ، اس کے باوصف انتظامی امور سے حتی المقدور پہلو تہی اختیار کی ۔ سیاسی جوڑ توڑ سے پاک تھے ، انتظامی الجھنوں سے آزاد تھے ، تنظیموں کی باہمی رسہ کشی سے دور تھے ۔ مذہبی رہنماؤں کی چپقلش سے بے خبر تھے ، وہ کسی جماعت کے حریف و فریق نہ تھے ۔ سب کے لئے بہی خواہ اور عقیدت کے مرکز رہے ۔ جلسے جلوس میں شرکت ، اخبارات کی زینت بننے کے قطعاً خواہاں نہ تھے ۔ قوم و ملت کو الجھانے کی بات کبھی نہیں کی ۔ نزاعات سے پاک زندگی گزاری ۔ ایسی عقیدت و عظمت کی شان اللہ تعالی نے آپ کو عطا کی تھی کہ کوئی آپ کا مخالف نہ تھا نہ کسی کو آپ نے موقع دیا ۔ زندگی بھر قرآن مجید اور علوم شریعت کی خدمت کرتے رہے ۔ بے نیاز مگر شاہانہ زندگی گزاری ۔ اللہ تعالی کا فضل و احسان یہ ہے کہ جامعہ نظامیہ کے انتظامیہ نے بیماری کے ایام میں بھی آپ کے تقدس و احترام کو برقرار رکھا ۔ زعماء قوم نے قدردانی کی ، قوم نے آپ کو شایان شان خراج عقیدت پیش کیا ۔ دکن کی تاریخ میں شاید کسی عالم دین کو اس تزک و احتشام کے ساتھ حیدرآباد کی قوم نے خراج عقیدت پیش کیا ہو ۔ بلاشبہ یہ ساری چیزیں فضل الہی کا نتیجہ تھیں ۔ آپ کی پاکیزہ زندگی  قدسی صفات کی آئینہ دار تھیں ۔ چالیس سال تک قوم و ملت کی خدمت کرتے ہوئے یہ مرد باخدا آنے والی نسلوں کے لئے انمٹ نقوش چھوڑ دیا ۔ آخری لمحہ تک قرآن مجید کی خدمت کرتے ہوئے علم و حکمت کا یہ نورانی سورج غروب ہوگیا اور ہزارہا تلامذہ و وابستگان کو غمزدہ چھوڑ دیا ۔
حضرت قبلہ کی باقیات الصالحات میں آپ کے جانشین و برادر زادہ مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی امام مکہ مسجد قابل ذکر ہیں ۔ جو قرأت و خطابت میں حضرت قبلہ کے تمام شاگردوں میں اپنی انفرادیت رکھتے ہیں ۔ خاندانی وضعداری ، بلند اخلاق کے حامل ہیں بطور خاص حضرت قبلہ کے منظور نظر رہے ۔ حضرت قبلہ کی بیماری اور ضعیفی کے ایام سے حضرت قبلہ کی جمعہ ، عیدین اور تراویح میں نیابت کرتے رہے ہیں ۔
ہو بہ ہو

TOPPOPULARRECENT