Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اپا راؤ وائس چانسلر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں حالات بگاڑ کے ذمہ دار

اپا راؤ وائس چانسلر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں حالات بگاڑ کے ذمہ دار

اے بی وی پی کارکنوں کے حملہ پر طلبہ پر مقدمات، سی سی کیمروں میں واقعات مقید، سیول لبرٹیز کمیٹی
حیدرآباد۔2اپریل(سیاست نیوز) سیول لیبرٹیز کمیٹی تلنگانہ کے قائدین نے پچھلے دنوں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میںپیش آئے پرتشدد اور پولیس مظالم واقعات پر حقائق سے آگاہی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ایچ سی یو کے ریسرچ اسکالر او رسب سے قابل طالب علم روہت ویمولہ کی خودکشی کے ذمہ دار یونیورسٹی وائس چانسلر اپا رائو کا غیر جمہوری انداز میںیونیورسٹی میں دوبارہ جائزہ لینے کا واقعہ یونیورسٹی طلبہ کی برہمی کی وجہہ بنا ہے ۔ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر سیول لیبرٹیز تلنگانہ جی لکشمن نے کہاکہ قومی سطح کے 16سماجی تنظیموں کے ذریعہ تشکیل دی گئی کمیٹی کوآرڈنیشن آف ڈیموکرٹیک الائنس آرگنائزیشن کی حقائق سے آگاہی رپورٹ کے مطابق 22مارچ کو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی حیثیت سے دوبارہ داخل ہوتے ہوئے نان فیکلٹی عملے اور اے بی وی پی کارکنوں کے ہمراہ ایک اجلاس منعقد کرتے ہیںجس کی اطلاع روہت ویمولہ حامیو ںکو ملتی ہے جس پر وہ وائس چانسلر کے دفتر پہنچ کر اجلاس منعقد کرنے کی وجوہات طلب کرتے ہوئے وائس چانسلر اپا ررائو کے خلاف مظاہر ہ کیا۔ جی لکشمن نے مزیدکہاکہ اسی دوران اے بی وی پی کارکن جو وائس چانسلر کے ساتھ اجلاس میں موجود تھے انہو ں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وائس چانسلر کے دفتر میںتوڑ پھوڑ کی تاکہ روہت ویمولہ حامیوں پر اس کا الزام عائدکیاجاسکے۔ جی لکشمن نے مزیدکہاکہ بعد میں پولیس یونیورسٹی احاطہ میںداخل ہوکر احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ مجرموں جیساسلوک کرتی ہے اور دو سو طلبہ کے ساتھ دوپروفیسر س کو بھی اپنی حراست میںلے کر انہیں دن بھر شہر کے مختلف پولیس اسٹیشن لیکر گھومتی ہے اور اس دوران پولیس حراست میں بھی طلبہ کو پولیس جوان زدوکوب کرتے ہیں۔انہوں نے حقائق سے آگاہی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پروفیسرس کو ان کے کپڑے پھٹنے تک زدوکو ب کیا گیا اور یونیورسٹی کی لڑکیوں کے ساتھ بھی پولیس نے غلط برتائوکیا ہے ۔اس پورے واقعہ کی برسرخدمت جج سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے جی لکشمن نے حکومت تلنگانہ کو مرکزکے ہاتھوں کٹ پتلی ادا کرنے والی حکومت قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی میں تلنگانہ پولیس کے مسلح دستوں کی موجودگی خود اس بات کی دلیل ہے کہ مودی حکومت کی ایماء پر ریاستی حکومت نے مسلح دستوں کا استعمال کرتے ہوئے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ماحول کو مزید کشیدہ بنانے کاکام کیاہے۔جی لکشمن نے کہاکہ روہت ویمولہ کی خودکشی کے ذمہ دار پروفیسر اپا رائو پر ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے باوجود اسکے یونیورسٹی میںدوبارہ ان کی موجودگی روہت ویمولہ حامیوں کی برہمی میںاضافے کی وجہہ بنے گی لہذا مرکزی او رریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اپا رائو جیسے دلت طلبہ دشمن وائس چانسلر کوفوری معطل کرتے ہوئے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میںامن بحال کریں۔انہوں نے یونیورسٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں سے گڑبڑ کے فوٹیج حاصل کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف کڑی کاروائی کا بھی ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے بشمول تمام قومی یونیورسٹیز میں ہندو فاشسٹ نظریات کو لاگوکرنے کی مرکزی حکومت کی جانب سے کوششیں کی جارہی ہیں جس کو سیول لیبرٹیز کمیٹی کبھی کامیاب نہیںہونے دیگی ۔این نارائن رائو‘ وی راگھو ناتھ‘ ایم کمار ا سوامی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT