Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / اپنی حفاظت آپ کرو

اپنی حفاظت آپ کرو

عزیر احمد
ہندوستان حیوانیت اور درندگی کی طرف تیزی سے بڑھتا چلا جارہا ہے ، بھیڑ اکٹھا ہوتی ہے،گاؤ رکھشک کے نام پہ مار دیتی ہے، پولیس کھڑے ہوکے تماشہ دیکھتی ہے ، بعد میں اجنبیوں کے نام پر ایف آئی آر درج کرتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ پولیس کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کون ہے ۔ ہمارا ملک بہت تیزی سے تشدد کی طرف بڑھتا جارہا ہے ، اقلیتوں کے خلاف جس طرح کا ماحول بنایا جارہا ہے اس کو دیکھ کے ایسا لگتا ہے جیسے ہندوستان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے ، ظلم کو ظلم کہنے والے گھٹتے جارہے ہیں، سیکولرازم کی زمین کھسکتی جارہی ہے ، فاشزم اپنا جلوہ بکھیر رہی ہے ، ڈر ، خوف، نفرت عروج پہ ہے اور تو اور پڑھا لکھا طبقہ بھی ہندو توا آئیڈیالوجی سے خطرناک حد تک متاثر نظر آرہا ہے ، ایک طرف یو پی میں یوگی ادتیہ ناتھ نے غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پر پابند کے نام پہ پورے اسٹیٹ میں انارکی پھیلا رکھا ہے ، لوگوں نے بکروں تک کا گوشت ڈر کے مارے بیچنا بند کردیا ہے ۔ ادھر گجرات میں الیکشن قریب ہے ، جس کیلئے وہاں بھی نفرت کا بیج بویا جارہا ہے ، ابھی کچھ دنوں پہلے ایک فساد بھی ہوچکا ہے ، جس میں اقلیتوں کے گھروں کو نذر آتش کردیا گیا اورجان ومال کو خاصہ نقصان پہونچایا گیا۔ جب سے مودی حکومت منظر عام پہ آئی ہے ، گائیوں ، بھینسوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے ، انسان کے جان کی کوئی اوقات ہی نہیں رہ گئی ، حیوانیت نے انسانیت کو پچھاڑ دیا، ابھی اخلاق کا واقعہ لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا تھا ، کل راجستھان کے الور علاقے میں ایک نہایت ہی خوفناک حادثہ وقوع پذیر ہوگیا ، پانچ مسلمان کچھ گائیوں کو لیکے جارہے تھے اچانک گاؤ رکھشکوں کی ایک ٹولی آئی اور انہیں پیٹنا شروع کردیا ۔ لوگ کھڑے ہوکے تماشہ دیکھ رہے تھے ، اپنے موبائل فون سے ویڈیو بھی بنارہے تھے مگر کسی کی مجال نہ ہوئی ہے کہ گاؤ رکھشکوں کے معاملے میں دخل اندازی کرسکیں۔ ان مسلمانوں نے ان کو سرٹیفکٹ بھی دکھائے کہ وہ گائے خرید کے آرہے ہیں، اسے مارنے کیلئے نہیں لے جارہے، مگر گاؤ رکھشکوں کی بھیڑ سننے کیلئے تیار نہیں جو ویڈیو سوشیل میڈیا پر گشت کر رہا ہے ، اس میں کرتے پائجامے میں ملبوس ایک  Circulate میڈیا پہ بندے کچھ لوگوں کے ذریعہ لاتوں ، گھونسوں اور مکوں سے مارتے دکھایا جارہا ہے اور ایک بندہ زمین پہ پڑا نظر آرہا ہے اور بھیڑ کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہے ، ان ظالموں نے انہیں اتنا مارا کہ آج ان میں سے ایک بندہ ’’پہلو خان‘‘ جس کی عمر لگ بھگ 55 کے قریب تھی ، زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گیا۔
حیوانیت کی بھی انتہا ہوتی ہے ، مگر لگتا ہے گاؤ رکھشک اور اس کے ہمدرد اس انتہا کو بھی پار کر  گئے ہیں۔ گاؤ رکھشکوں کی صفائی پیش کرتے ہوئے اسٹیٹ کے ہوم منسٹر گلاب چند کٹاریہ نے اس کا ذمہ دار خود انہیں لوگوں کو قرار دیا جو گائے لے کے جارہے تھے ۔ ایک آدمی مار دیا جارہا ہے ، چار لوگوں کی حالت نازک ہے اور اسٹیٹ کا ہوم منسٹر مجرمین کی حمایت کر رہا ہے ، یہ تو ظلم کی انتہا ہے ، اس سے زیادہ اب شاید ہو ہی نہ پائے کہ جان بھی لے لی جائے اور مجرم بھی قرار دے دیا جائے۔
اسی نوعیت کا حادثہ اخلاق کے ساتھ بھی ہوا تھا ، گھر میں بھیڑ نے گھس کے ماردیا ، مجرمین کو سزا دینے کے بجائے پولیس نے الٹا اخلاق کے اہل خانہ کے خلاف ایف آئی آر درج کردیا ۔
حادثہ کل آپ کے ساتھ بھی پیش ہوگا کیونکہ آپ ہر حادثہ Same اور یہی  سوچ کے نظر انداز کرجاتے ہیں کہ چھوڑو کہیں وہ لوگ ہمارے تھوڑی تھے ۔ آپ کے پاس ہزاروں لیڈروں کی بھیڑ ہے، مگر قائد اور رہبر کوئی نہیں ہے ، مسلکی فرقوں کی لڑائیوں سے موقع ملے تو مذہبی لڑائیوں کی طرف ذہن جائے۔ آپ سے اچھے تو سکھ ہیں کہ ان کے قوم کی ایک لڑکی پر مصیبت پڑی تو پوری قوم ABVP کے خلاف بیٹی گرمہر کور کے ساتھ ہوگی ، اسکے پیچھے کھڑی ہوگئی اور اس کی حفاظت کیلئے سر بکف ہوگئی۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ سب سے مظلوم قوم ہیں، حقیقت میں آپ ایک بزدل قوم ہیں، ہر مسئلہ پہ خاموش رہنا اور صبر کی تلقین کرنا آپ کا شیوہ ہے۔ دوسرے قوم کے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا تو منظر شاید مختلف ہوتا ۔ آپ نہ تو کل اخلاق پہ کچھ بول پائے تھے اور نہ آج راجستھان کے معاملے پہ کچھ نہ بول پائیں گے اور پرسوں آپ اپنے بھی خاموش رہیں گے ۔ ویسے بھی مودی حکومت میں بہت آسان ہوگیا ہے ، مارنا ، کسی کو بھی ماردو اور اس کے اوپر گائے کشی کا الزام لگادو ، بچ جاؤگے، انسان انسان نہ ہوئے ، کیڑے مکوڑے ہوگئے ، ایسے میں آپ خود کی حفاظت کیلئے اگر نہ اٹھ کھڑے ہوئے تو کوئی حکومت آپ کی حفاظت نہیں کرپائے گی۔ سرکار کتنا بھی کہے کہ وہ ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘‘ کے فارمولے پہ عمل کرتی ہے، مگر جو بیج اس نے ہندوستان کے اکثریتی فرقہ کے ذہنوں میں بودیا ہے ، وہ بہت نقصان پہونچانے والا ہے ، اقلیتوں کے خلاف دیر یا سویر وہ لاوا بن کے ضرور پھوٹے گا اور مجھے وہ دن دور نہیں لگ رہا ہے ، جب ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کا جان لینے پہ تلا ہوا ہوگا ۔ آثار نمایاں ہیں، تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، ہم ایک بار پھر تاریخ کے موڑ پہ کھڑے نوشتہ دیوار کے صاف ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT