Monday , August 21 2017
Home / ادبی ڈائری / اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاؤ

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاؤ

ڈاکٹر شوکت علی مرزا
اس مہینے کے ابتدائی ایام میں سوئزرلینڈ کے شہر بوزان میں یونیسکو (UNESCO) کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’’ٹکنالوجی فار ڈیولپمنٹ 2016 ء‘‘ میں نہ صرف شرکت بلکہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرنے کا اتفاق ہوا ۔ سوئزرلینڈ اگرچہ میرے لئے کوئی نئی جگہ نہیں تھی لیکن اقوام متحدہ کے اس اہم ادارہ میں جس کا تعلق تعلیم ، سائنس اور کلچر سے ہے، اس میں ایک ا جلاس کی صدارت اور ہندوستانی پس منظر میں اپنی آواز کو دنیا کے 65 ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں تک پہونچانا، میرے لئے ایک بہترین موقع تھا ۔
موضوع تھا Global Engineering and Sustainable Development مجھے نہیں معلوم کہ اردو قارئین کیلئے اس کا ترجمہ کس طرح کیا جائے ۔ گفتگو دو ٹوک تھی ، بالکل دو جمع دوچار کی طرح ، بات ہم نے یونہی چھیڑی کہ فی زمانہ نفسا نفسی اتنی عروج پر ہے کہ کیا میڈیسن اور کیا انجنیئرنگ ، کیا ایم بی اے اور کیا فلسفہ ، اگر کسی بھی طالب علم سے یہ سوال کیا جائے کہ وہ جو کچھ تعلیم حاصل کر رہا ہے یا حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کا ماحصل کیا ہے ۔ جواب سب کا ایک ہے کہ میں وہ پڑھائی پڑھنا چاہتا ہوں جو مجھے جلد سے جلد اور بڑی سے بڑی تنخواہ والی ملازمت دلائے ۔ بچپن میں ہم سنا کرتے تھے کہ ایم بی بی ایس ختم کرنے اور ’’ڈاکٹر ‘‘ بننے کے اعلان سے پہلے اس سے کچھ عہد لیا جاتا تھا کہ وہ صرف اور صرف ’’انسانیت‘‘ کی خدمت کیلئے اپنے علم اور اپنی لیاقت کا استعمال کرے گا ۔ کیا آج کا ڈاکٹر ایسا حلف لے سکتا ہے اور اگر لیتا ہے تو کیا وہ اس پر باقی بھی رہ پائے گا ۔ چیرمین EWB India ہونے کے ناطے میں نے ایسا ہی سوال یونیسکو کے اجلاس میں انجنیئرز اور ہونے والے انجنیئرز سے کیا ۔ پچھلے 2 سال میں کم از کم 22 مختلف مقامات پر مجھے انجنیئرنگ طلباء کو مخاطب کرنے کا موقع ملا اور میں نے ہر جگہ اسی سوال کو ا ٹھایا ۔ ہر ایک کا علم حاصل کرنے کا منشاء ، صرف پیسہ ہے ۔ ’’خدمت‘‘ کا عنصر دور دور تک ابھی تک تو نظر نہیں آیا ۔ تعجب کی بات تو یہ تھی کہ مجھے آج تک ایک بھی طالب علم ایسا نہیں ملا جسے لفظ انجنیئرنگ کے معنی معلوم ہو۔
امریکی یونیورسٹی آف کولارائیڈو کے پروفیسر برناڈ امادی نے بتایا تھا کہ لفظ انجنیئر کے معنی ‘‘ذہین‘‘ کے ہیں اور ذہین کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ کسی مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لائق ہو۔ اگر میرے پاس انجنیئرنگ کا سرٹیفکٹ تو ہو لیکن کسی مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو  میں اپنے آپ کو انجنیئر کہنے کا حق کھو بیٹھتا ہوں اور اسی کے برعکس اگر میرے پاس انجنیئرنگ کا سرٹیفکٹ نہ ہو مگر مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں تو پھر میں ’’ذہین‘‘ بھی کہلواؤں گا اور انجنیئر بھی۔

یونیسکو میں اسی بحث کو موضوع بناتے ہوئے میں نے سوال اٹھایا کہ آیا موجودہ زمانے کے انجنیئر یا انجنیئرنگ کے طالب علم کو پتہ بھی ہے کہ نہیں کہ آخر ہمارے مسائل کیا ہیں ؟ ایک ملک کا شہری ہونے کیلئے ہم پر کیا ذمہ داری ہے ۔ کیا ہم اس بات سے واقف ہیں کہ ہندوستان کی 1.25 بلین سے زائد آبادی میں ابھی بھی 11 فیصد لوگ ایسے ہیں جو پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ 70 فیصد لوگ بیت الخلاء جیسی سہولت سے محروم ہیںاور 25 فیصد لوگ اب بھی سطح غربت کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر اعداد و شمار کچھ اسطرح ہیں۔ زیر نظر تصویر دلی کے ایک محلے کی ہے جہاں ہر مرد اور عورت اپنے اپنے پائپ کے ساتھ ٹینکر سے پانی لینے کی کوشش میں ہے اور صبر کی وہ منزل ختم ہوچکی کہ ہم اپنے نمبر کا انتظار کریں۔

تصویر کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ ’’میں پانی پی لوں‘‘ چاہے دوسرے کو پانی ملے یا نہ ملے‘‘ میں کھالوں چاہے دوسرے کو کھانا ملے یا نہ ملے ، میں اتنا کمالوں کہ ’’گیٹیڈ کمیونٹی ‘‘ میں مکان بنالوں ، چاہے دوسرا محفوظ رہے یا نہ رہے ، میرے پاس اتنی دولت ہو کہ میں اپنے مکان کو سولار پینل سے یا UPS سے روشن کرلوں چاہے پورا محلہ ، پورا شہر یا پورا ملک اندھیرے میں غرق ہوجائے۔
آج ہر شعبہ کے طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح وہ ا پنے ذاتی مفاد کیلئے کوشاں ہے ، اسی طرح قوم اور سماج کے فائدہ اور بہتری کیلئے بھی سوچے ۔ یہ فکر آہستہ آہستہ ختم کے قریب ہے جس طرح میں اپنے بیٹے کا باپ ہوں اور اپنے باپ کا بیٹا ، جس طرح میں ایک بیوی کا شوہر ہوں اورایک بھائی کا بھائی ، اسی طرح میں سماج کا ایک فرد ہوں ، ایک محلے کا رہنے والا ہوں ، اس شہر کا مکین ہوں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مجھے باپ ہونے کا تو احساس ہے ، بیٹا ہونے کا حق نبھاتا ہوں ، شوہر کی ذمہ داری پوری کرتا ہوں ، مگر میں بھول گیا یا کسی نے مجھے پڑھایا ہی نہیں کہ پڑوسی ہونے کے حقوق کیا ہوتے ہیں ، ایک شہر کا شہری ہونے کی مجھ پر ذمہ داری کیا ہوتی ہے ، محلہ داری کا مطلب کیا ہوتاہے ۔ مودی جی کا سوچھ بھارت کا نعرہ بہت بعد میں آیا ۔ بہت پہلے ہم نے طلبا اور نوجوانوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ جس طرح ہم اپنے کمرے اور میز کو صاف رکھتے ہیں ، جس طرح ہم اپنے صاف گھر پر فخر کرتے ہیں، بالکل اسی طرح اگر ہر طالب علم ، ہر نوجوان اپنے محلے اور گلی کو صاف رکھ لے تو پھر خود بخود شہر بھی صاف نظر آنے لگے گا ۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم اپنے گھر کا کوڑا چوراہے پر انڈیلتے ہیں اور امید کرتے ہیںکہ کوئی آکر اسے صاف کرے گا اور جب کوڑے کے انبار لگ جاتے ہیں تو پھر اخباروں میں تصاویر بھی آتی ہیں۔ بنیادی سوال اپنی جگہ پر ہے کہ کوڑا کس کا تھا ؟ ڈالا کس نے ؟

پچھلے دنوں دو یا تین مرتبہ کچھ ایسی بارش ہوئی کہ کئی سو درخت جڑھ سے اکھڑگئے۔ شکر خدا کا کہ جان کسی کی نہیں گئی مگر کئی لوگوں کی دیواریں گرگئیںاور کئی کی گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ چاہے کتنی ہی گاڑیاں تباہ ہوئی ہوں یا کتنی ہی دیواریں منہدم ہوئی ہوں ، یہ ایک معمولی نقصان تھا ۔ اصل نقصان کا تو کسی نے ابھی اندازہ ہی نہیں کیا کہ تقریباً ایک ہزار درخت ہمارے شہر سے غائب ہوگئے جس کی پابجائی کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ میں نے ابھی تک نہ  پڑھا نہ سنا کہ کسی نے ان ختم ہوجانے والے درختوں کی پابجائی کیلئے کوئی قدم اٹھایا ہو۔

ایک دوسرا مسئلہ درختوںکے گرنے کا یہ بھی ہوا کہ کئی راستے کئی کئی گھنٹوں تک بند ہوگئے یا تبدیل کردیئے گئے ۔ گرنے والے درختوں میں کچھ چھوٹے بھی تھے اور کچھ بڑے بھی مگر ہر گلی کا ہر فرد اور محلے کا ہر شخص محکمہ بلدیہ کے مزدوروں کے انتظار میں تھا کہ گویا یہ ’’ان کا کام ہے‘‘  ایک محکمہ ، چند مزدور … پتہ نہیں کتنے دن لگیں گے ۔ ان گرے ہوئے درختوں کو صاف کرنے کیلئے ۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر ہر گلی اور ہر محلہ سے کچھ نوجوان (یا انجنیئر جن کا کام ہے مسئلہ کا حل تلاش کرنا) ایک ٹیم کی شکل میں کم از کم حتی الامکان صفائی کرلئے ہوتے تو محکمہ کا کام بھی آسان ہوجاتا اور ہماری گلی اور محلے بھی صاف نظر آنے لگتے ۔ کبھی کسی دوسرے کی خدمت تو کر کے دیکھئے کہ کتنا لطف آتا ہے ۔

کم و بیش یہی مسئلہ پانی کا ہے ۔ آج سے 30 ، 35 سال پہلے تک ہمارے گھروں میں نل نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ ہر محلہ میں ایک نل ہوا کرتا تھا جس سے 24 گھنٹے پانی بہتا تھا  ، محلہ کا ہر فرد اپنی ضرورت کے مطابق جس وقت چاہے اتنا پانی حاصل کرلیا کرتا تھا ۔آج ہمارے ہر گھر میں نل ہے مگر ایک عرصہ ہوگیا کہ میں نے گھروں کے نل میں پانی آتا ہوا دیکھا ہو۔ محلے کے اگر 4 ، 6 نوجوان دس بارہ فٹ زمین کھود لیتے تو باؤلی خود بخود نکل آتی تھی لیکن آج پانچسو ، چھ سو فٹ کھودنے پر بھی پانی کی بوند نظر نہیں آتی۔ کیا آج کا نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ پانی کے وہ اچھے دن واپس آنے والے ہیں ؟ انا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی تحقیق کے مطابق 2035 ء تک پانی ، پٹرول سے زیادہ مہنگا ہوجائے گا ۔ شائد 2035 ء تک ہم تو نہ رہیں لیکن آج کے نوجوان نسل کو یہ سوچنا ضروری ہے کہ وہ اس مسئلہ کا حل کیسے تلاش کرے ۔ یہ باتیں اسکولی نصاب میں نہیں ہوتیں۔ اس کاتعلق ’’ذہانت‘‘ سے ہے اور یہی ہماری کوشش اور ہماری خواہش ہے کہ آپ کچھ بھی پڑھیں اور کتنا ہی کمائیں ، مگر اپنی’’ذہانت‘‘ کو باقی رکھیں اور سماج اور قوم کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کوشاں رہیں۔
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

TOPPOPULARRECENT