Friday , September 22 2017
Home / مضامین / اپنے خلاف جنگ ہی اصل جہاد ہے

اپنے خلاف جنگ ہی اصل جہاد ہے

 

محمد مصطفیٰ علی سروری
برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے متعلق جتنی خبریں اخبارات اور ٹیلی ویژن پر آرہی تھی اس سے کہیں زیادہ خبریں تصاویر اور ویڈیو سوشیل میڈیا کے ذریعہ ہم تک پہونچ رہی تھی ۔ خون میں ڈوبی ہوئی تصاویر ، زندہ جلادیئے جانے والی ویڈیو اور درندگی کی ایسی ایسی کہانیاں ہر روز سامنے آرہی تھی کہ ہر پیغام ہر ویڈیو اور ہر تصویر ہر درد مند دل کو خون کے آنسو رلانے کیلئے کافی تھی۔ کیا عوام کیا دانشور ہر کوئی سوال کر رہا تھا ۔ کسی کو مسلم حکمرانوں سے شکایت تھی تو کوئی سعودی عرب پر تنقید کر رہا تھا ۔ کوئی اقوام متحدہ کی خاموشی پر سوال کر رہاتھا تو کوئی برما کی مشہور قائد انگ سانگ سوچی سے ان کی خاموشی پر نوبل انعام واپس لینے کے لئے آن لائین دستخطی مہم چلا رہا تھا ۔ عیدالاضحیٰ کدھر آئی اور کیسے گزر گئی پتہ ہی نہیں چلا ۔ ہر روز روہنگیا مسلمانوں کی ایک نئی درد بھری کہانی سامنے آرہی تھی ۔ سوشیل میڈیا پر بھیجنے والوں نے یہ پیغام تک بھیج دیا کہ ترک افواج مسلمانوں کے تحفظ کیلئے سرگرم ہوچکی ہے ۔ مگر جب میں نے اس خبر کی تصدیق کیلئے Main Stream میڈیا کو چیک کیا تو پتہ چلا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ ہاں ترک خاتون اول رجب طیب اردغان کی اہلیہ نے بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کا معائنہ کیا اور ان میں امداد تقسیم کی ۔ مشورہ دینے والوں نے یہ تک کہا کہ ہر مسلمان کو فیس بک پر اپنی پروفائیل کی تصویر میں Stop Killing Rohingya Muslim لگانے کا مشورہ دیا ۔ کسی نے کہا کہ واٹس اپ پر اپنا DP بنالوں۔ اس کے بعد شہر بھر میں کئی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے احتجاجی پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔ ہم نے اس طرح کے پروگراموں کی تائیدکی ۔ اس دوران ایک اور مشورہ سامنے آیا کہ دہلی میں واقع برما کے سفارت خانے کو مکتوبات لکھ کر توجہ دلائی جائیاور ان سے روہنگیائی مسلمانوںکی نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے ۔ انٹرنیٹ پر جب ہم برما کے سفارت خانے کا پتہ ڈھونڈ رہے تھے ، اس دوران بی بی سی لندن کی ایک رپورٹ پڑھنے کا موقع ملا جس کے مطابق حالیہ عرصہ میں خاص کر 25 اگست 2017 ء کے بعد برما سے روہنگیا مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر انخلاء کا سلسلہ شروع۔ اس کی وجہ رپورٹ کے مطابق جب روہنگیا کے مسلح گروپ نے برما کی پولیس چوکیوں پرحملہ کرتے ہوئے سیکوریٹی فورسیس کے 12 جوانوں کو مار ڈالا ۔ تب سیکو ریٹی جوانوں کی ہلاکت کے بعد میانمار کی فوج نے بڑے پیمانے پر مسلم روہنگیا لوگوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تاحال 3 لاکھ سے زائد روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ گزین کی حیثیت سے داخل ہوچکے ہیں ۔ اخبار اکنامک ٹائمز کی 15 ستمبر 2017 ء کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 40 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان غیر قانونی طور پر داخل ہوچکے ہیں۔
برما میں ایک صوبہ (District) ہے جس کا نام Rokhine ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے جنہیں عالمی دنیا روہنگیا کہتی ہے اور خود برما کی حکومت انہیں بنگالی قرار دیتی ہے۔ ترکی کے خبر رساں ادارے (AA) کے مطابق سال 2014 ء میں جب برما کی کل آبادی (مردم شماری) کے اعداد و شمار جاری کئے گئے تو پتہ چلا کہ برما میں مسلمانوں کی آبادی 1983 ء میں (3.9) فیصد تھی جو سال 2012 ء میں گھٹ کر (2.3) فیصد ہوگئی ۔ ترک ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس مردم شماری میں (1.2) ملین روہنگیا مسلمانوں کو جوراکھنی صوبے میں رہتے ہیں، بنگالی کہہ کر شامل نہیں کیا گیا ۔ 2012 ء کی مردم شماری کے حساب سے برما میں 89.8 فیصد آبادی بدھسٹوں کی ہے ۔
آزاد ہندوستان کے ایک باضمیر شہری ہونے کے ناطے میں جمہوری طور پر دستور کے دائرے کار میں رہتے ہوئے برما میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف احتجاج کرسکتا ہوں ۔ بس یہی سوچ کر ہم نے بھی احتجاجی پروگراموں اور جلسوں میں شرکت کی اس کے اگلے دن ہم نے دیکھا کہ میڈیا نے ان پروگراموں کا کوریج بھی کیا ۔ اردو اخبارات نے زیادہ کوریج کیا ۔ انگریزی اور تلگو اخبارات نے بھی تھوڑا کم مگر کوریج دیا ۔ نہ تو حکومت کی طرف سے روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بدلا اور نہ ہی روہنگیا مسلمانوں کی پریشانیاں کم ہوئی ۔ اب جو سوال میرے ذہن میں پریشانی کا سبب بنا ہوا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے عنوان سے میرا احتجاج تو ہوا میرے جلسے ہوئے ، فیس بک اور واٹس اپ پر میرے پیغامات کو لوگوں نے شیئر کیا مگر مسئلہ کا تو کوئی حل نہیں نکلا۔ حل تو دور بی بی سی اور دیگر عالمی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق روہنگیا پناہ گزینوں کے مسائل تو ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
خیر سے ہم ہندوستانی مسلمانوں نے برما کے روہنگیا مسلمانوں کیلئے اپنی پوری ہمدردی کا اظہار کیا لیکن روہنگیا مسلمانوں کے متعلق خود ان کے وطن والے کیا سوچتے ہیں کیونکہ ہندوستان ہی نہیں خود بنگلہ دیش بھی برما کے ان پناہ گزینوں کو اپنے ہاں مستقل رکھنے کیلئے تیار نہیں ۔بی بی سی کے رپورٹر Sawyan Nainy 6 ستمبر 2017 ء کو ایک رپو رٹ دی ہے جس کے مطابق میانمار کے دیگر شہری روہنگیائی افرادکے بارے میں طرح طرح کی منفی رائے رکھتے ہیں۔ میانمار کے دارالحکومت یانگون کی ایک30 سالہ خاتون کہتی ہے روہنگیائی مسلمان تعلیم حاصل نہیں کرتے اور بہت سارے بچے پیدا کرتے ہیں ۔ اگر آپ کا پڑوسی بھی بہت بچے رکھتا ہو جو بہت سارا شور کرتے ہیں تو کیا آپ پسند کریں گے؟

ایک اور خاتون کی رائے کی رپورٹ میں بی بی سی کے نمائندے نے ذکر کیا جو کہتی ہے وہ لوگ مسائل پیدا کرتے ہیںاور خراب ہیں اس لئے میں انہیں پسند نہیں کرتی ہوں۔ اب یہ سوچنا ہوگا ہم ہندوستانی مسلمان روہنگیائی لوگوںکے لئے کیا کرسکتے ہیں۔ دہلی کے صحافی زین شمسی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’مسلمانوں کے احتجاج کا طریقہ بے حد دلچسپ رہا ۔ ادب سے منسلک لوگوں نے مشاعرہ کا انعقاد کرلیا ۔ دانشوروں نے کانفرنس کرلی ، علماء اور ملی رہنماؤں نے اردو اخبارات میں اشتہار نما پریس ریلیز جاری کرکے فوٹو چھپوالی ۔ احتجاج کا کام مکمل ہوا اس کے بعد کی کارروائی اللہ میاں کے حوالے۔ آگے انہوں نے مزید لکھا ’’افسوس اس بات کا نہیں کہ ہماری قیادت نے ہمیں احتجاج کا سلیقہ نہیں سکھایا۔ افسوس اس بات کو لیکر ہے کہ انہوں نے ملکی مفاد میں کئے جانے والے احتجاج کا سلیقہ نہیں سکھایا۔ دلتوںاور کمزور طبقوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اٹھنے والی آواز کا بھی ساتھ نہیں دیا‘‘۔ زین شمی نے کتنے پتے کی بات کہہ دی لیکن سوچئے گا کون؟ گوری لنکیش کے قتل پر مسلمانوں نے کتنا احتجاج کیا، کسی کو نہیں معلوم مگر پڑوسی ملک روہنگیا کے مسلمانوںکے ساتھ اظہار یگانت میں زمین آسمان کے قلابے ملادیئے۔ ملی اور مذہبی تنظیمیں احتجاج کا نعرہ لگاتی رہی اور ایک تنظیم کہیں اور نہیں بلکہ ہمارے شہر حیدرآباد کی ہی ہے جس پر ہم نے عیسائی مشنریز کے لئے کام کرنے کے الزام لگائے اور کیا کچھ نہیں کہا مگر وہی غیر سرکاری تنظیم ہے جس نے اقوام متحدہ کی United Nations High Commission for refugees (UNHCR) کے تعاون سے گزشتہ کئی برسوں سے تقریباً 4 ہزار روہنگیائی پناہ گزینوں کو بالا پور میں سہولیات فراہم کرتی آرہی ہے ۔ جی ہاں یہ غیر سرکاری تنظیم کوئی اور نہیں بلکہ (COVA) ہے ، وہی تنظیم جو کہ مظہر حسین چلاتے ہیں۔ اس تنظیم کا دائرہ خدمت مذہب نہیں بلکہ انسانیت ہے (Cova) کوا کی سالانہ رپورٹ 2016-17 ء کے مطابق روہنگیائی پناہ گزینوں کے لئے تنظیم نے 21 لاکھ سے زائد بجٹ جمع کیا ۔ پناہ گزینوں کے بچوں کو تعلیم کا انتظام کیا ، ان میں راشن تقسیم کیا ،ان کو طبی امداد پہونچائی ۔ ان میں بلانکٹس تقسیم کئے ۔ یہاں تک عیدالاضحی کے موقع پر گو شت تقسیم کرنے کا انتظام کیا ، ان کے رہنے کی جگہ کو بارش کے پانی سے محفوظ رکھنے تارپولین لگائی ۔ ان لوگوں کے (روہنگیائی مسلمان) ہندوستان میں قیام کو قانونی شکل دینے اور ہندوستانی ویزا (طویل مدتی) دلانے میں مدد کی۔ 2290 روہنگیائی مسلمانوںکو اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین سے باضابطہ رجسٹریشن کروایا اورایک اطلاع کے مطابق COVA ہی وہ تنظیم ہے جس نے روہنگیائی پناہ گزین کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کیلئے مرکزی حکومت کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیالنج کرنے کیلئے سہولت کار کا رول ادا کیا ہے ۔ روہنگیائی بچوں کو اسکول میں شریک کروانے سے لیکر ان کے تعلیمی اخراجات کو برداشت کرنے کا بھی COVA نے کام کیا ۔ پولیس کیلئے ورکشاپ منعقد کئے اور پولیس کے اہلکاروں کو پناہ گزینوں کے حقوق اور ان کے مسائل سے واقف کروایا ۔ کوا کی رپورٹ پڑھنے کے بعد میں اس سوچ میں پڑگیا کیا خدائے ذوالجلال کے دربار میں میری قربانی قبول بھی ہوئی ہوگی یا نہیں کیونکہ میں نے حیدرآباد سے لاکھوں میل دور روہنگیائی پناہ گزینوں کیلئے ہمدردی میں زمین آسمان ملادینے جلسے کئے ، جلوس نکالے ، مسلم حکمرانوں سے لیکر ملک کے حکمرانوں کو بلکہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کو برا بھلا بولا اور اپنے ہی شہر میں قیام پذیر روہنگیائی مسلمانوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا یا الٰہی یہ میرا جذبہ ایمانی ہے یا میں دکھاوا کی مسلمانی کرتا ہوں ۔ اے خدا ئے پاک تو مجھے بخش دے دکھاوے سے، دوغلے پن سے اور ہمدردی کے ناٹک سے اور مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو تیرے اور تیرے حبیب پاک کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں اور تیری عبادت کر کے تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں ۔ ادھر ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمان روہنگیائی لوگوںکی مدد لئے ان کے مسلمان ہونے کی دہائی دے رہے ہیں۔ کیا مسلمانوں کو صرف مسلمانوں کے خلاف ظلم پر آواز اٹھانا ہے یا انسانیت کے خلاف انسانی حقوق کے خلاف ہونے والے ہر ظلم پر آواز اٹھانا ہوگا ۔ اس بات کا فیصلہ کرلیں ۔ سکھ اگرچہ مسلمان نہیں ہے لیکن روہنگیائی مسلمانوں کی مدد کرتے، ان لوگوں کی ایک تنظیم ہے “Khalsa Aid” اس تنظیم کے کارکن روہنگیائی مسلمانوں کی مدد کرنے ہندوستان سے سفر کر کے بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں میں پہونچ گئے جہاں روہنگیائی لوگ پناہ لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے ایک امدادی کیمپ بھی لگادیا ہے۔ خالصہ ایڈ کے مینجنگ ڈائرکٹر امرپریت سنگھ نے اخبار انڈین اکسپریس کو بتلایا کہ ہم یہاں کم سے کم 50 ہزار لوگوں کو امداد دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ہم ان کیلئے پینے کا پانی اور کھانے کا لنگر کھول رہے ہیں۔ ہم نے یہاں کھانے کا لنگر اس وقت تک کھولے رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ تاوقتیکہ ان روہنگیائی لوگوںکیلئے دوسرا کوئی انتظام نہ ہوجائے۔

سکھوں کی یہ امدادی تنظیم بلا کسی امتیاز اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ روہنگیائی شہریوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے ، لاکھوں میل کا سفر طئے کر کے امدادی کاموں میں مصروف ہے اور کسی نے مجھے جب یہ بتایا کہ برما کے جو مہاجرین (پناہ گزین) حیدرآباد میں رہ رہے ہیں ۔ ان مجبوروں سے بالاپور میں زمین کے مالک حضرات 800 تا 12 سو روپئے کا جھونپڑی بناکر رہنے کا کرایہ مانگ رہے ہیں۔
یا الٰہی ہمیں یہ کیا ہوگیا ہے ، ایک طرف ہم ہزاروں میل دور روہنگیائی مسلمانوں سے ہمدردی کا راگ الاپ رہے ہیں اور دوسری طرف چند روہنگیائی ہمارے پڑوس میں آئے ہیں تو ان کی چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں کا کرایہ مانگا جارہا ہے ۔ ادھر دور دراز مقامات سے سفر کر کے سردارجیوں کا قافلہ بنگلہ دیش کی سرحد پر جاکر پیاسے روہنگیائی افراد کو پانی اور بھوکوں کا کھانا کھلا رہے ہیںاور ہم بقول شاعر
خود کو بڑا سمجھنے کا سارا فساد ہے
اپنے خلاف جنگ ہی اصل جہاد ہے
[email protected]

TOPPOPULARRECENT