Sunday , August 20 2017
Home / سیاسیات / اپوزیشن اتحاد میں دراڑیں ، بعض پارٹیوں کی وفد میں عدم شرکت

اپوزیشن اتحاد میں دراڑیں ، بعض پارٹیوں کی وفد میں عدم شرکت

نئی دہلی ۔16 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن اتحاد میں آج دراڑیں پڑ گئیں جبکہ بعض سیاسی پارٹیوں نے لمحہ آخر میں کانگریس زیرقیادت وفد سے جو صدرجمہوریہ سے ملاقات کرکے نوٹوں کی تنسیخ کے نتیجہ میں عوام کو درپیش مشکلات اور مصائب کے بارے میں نمائندگی کرنے والا تھا ، حکومت پارلیمنٹ میں ان کی آواز کو کچلنے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا ۔ بعض اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین نے صدر پرنب مکرجی سے ملاقات کرکے شکایت کی کہ حکومت پارلیمنٹ کو کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ قانون سازی میں مسائل پیدا ہورہے ہیں کیونکہ نوٹوں کی تنسیخ کی وجہ سے عوام کو ناقابل بیان مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے ۔ ترنمول کانگریس ، آر جے ڈی ، جے ڈی (یو) اور اے آئی یو ڈی ایف اور دیگر پارٹیوں نے کانگریس زیرقیادت وفد میں شرکت کی ، لیکن این سی پی ، ڈی ایم کے، بائیں بازو کی پارٹیوں ، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے شرکت سے گریز کیا۔ دڑاڑیں لمحہ آخر نمودار ہوئیں جبکہ کانگریس وفد نے وزیراعظم سے ایوان پارلیمنٹ میں علحدہ طورپر کاشتکاروں کے مسائل کے سلسلے میں ملاقات کی اور اُن کے قرضہ جات معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے بموجب این سی پی کے مجید میمن وفد میں شامل ہونے والے تھے لیکن پارٹی قیادت نے لمحہ آخر دستبرداری کا فیصلہ کیا اور انھیں واپس طلب کرلیا۔ صدرکانگریس سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی زیرقیادت مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے کئی قائدین وفد میں شریک تھے ۔ بعد ازاں انھوں نے صدرجمہوریہ کو ایک یادداشت بھی پیش کی ۔ صدر سے ملاقات کے بعد کانگریس قائد ملک ارجن کھرگے نے کہاکہ ہم پارلیمنٹ میں بحث چاہتے تھے لیکن حکومت نے تمام جمہوری اقدار ملیامیٹ کردیں اور مباحث کا راستہ روکا ۔ ترنمول کانگریس قائد سدیپ بنڈوپادھیائے نے کہا کہ صدر سے ملاقات کا مقصدعوام کے مصائب کی اُن سے نمائندگی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT