Thursday , July 27 2017
Home / اداریہ / اپوزیشن اور حکومت

اپوزیشن اور حکومت

مودی حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کے وجود کو یکسر نظرانداز کرکے کرنسی نوٹوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں گرماگرم مباحث ہوں گے۔ بحیثیت اپوزیشن اس کو اپنے رائے دہندوں کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ اگر ایک حکومت یکطرفہ فیصلہ کرکے عوام کو مشکلات میں مبتلا کردیتی ہے تو اس سے جواب طلب کرنے کا ایک جمہوری معاشرہ مکمل ا جازت دیتا ہے مگر یہاں مرکز کی نریندر مودی حکومت نے ملک کی معیشت سے تعلق اتنا بڑا قدم اپوزیشن پارٹیوں سے مشاورت کے بغیر ہی اٹھادیا۔ پارلیمنٹ میں اب یہ سب سے بڑا و واحد مسئلہ رہے گا جس پر اپوزیشن پارٹیاں حکومت سے جواب طلب کریں گی۔ ایک عام آدمی کو پریشان کرکے کوئی حکومت اپنی پالیسیوں کو من مانی طریقہ سے نافذ العمل کرتی ہے تو اس کا یہ قدم استفسار طلب ہوتا ہے۔ افسوس ہے، اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے اس مسئلہ پر غور و خوص کرنے کے لئے 16 نومبر کو سیشن سے قبل اجلاس طلب کیا ہے۔ حکومت کو عوام کی فکر سے زیادہ اپنی من مانی پالیسیوں اور بلوں کی منظوری پر ہے۔ اس سرمائی سیشن میں حکومت میں بلوں کو منظور کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس، سنٹرل جی ایس ٹی بل اور ریاستوں کے نقصانات پر معاوضہ کی ضمانت بل کی منظوری شامل ہے۔ حکومت کے لئے یہ نہایت ہی اہم ترین سیشن ہوگا لیکن اپوزیشن پارٹیاں سیشن کی کارروائیوں کو پرامن طریقہ سے چلنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکیں گی۔ سارا ملک کرنسی نوٹوں کے حصول کے لئے دردر کی ٹھوکریں کھارہا ہے اور حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو پھر اس ملک کے عوام کے اندر صبر کا مادہ زیادہ پیدا ہوچکا ہے۔ پارلیمنٹ میں اٹھانے کے لئے اپوزیشن کے پاس کئی مسائل ہیں۔ نوٹوں کی تبدیلی کا مسئلہ راست غریب اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک رتبہ ایک پنشن، اپوزیشن قائدین کی جرأت اور اظہار خیال کی آزادی کو کچلنے کی کوشش، سیمی کارکنوں کا انکائونٹر کے علاوہ جے این  یو کے طالب علم کی گمشدگی کا مسئلہ بھی پارلیمنٹ میں اٹھایا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف جنگ کے نام پر حکومت نے عام آدمی کو بھوکابے یار و مددگار چھوڑدیا ہے۔ کالا دھن رکھنے والے چند لوگوں پر شکنجہ کسنے کے لئے یہ حکومت ملک کے 90 فیصد عوام کو پریشان کر رکھی ہے۔ سرکاری مشنری کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کالادھن کا پتہ چلاسکتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتی ہے توپھر سرکاری مشنری کی اہمیت، صلاحیت پر شبہ ہوتا ہے۔ ملک میں جاری بدعنوانیوں، ناجائز دولت رکھنے والوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کا پتہ چلانے کے دوسرے کئی راستے ہیں مگر حکومت کے اس نوٹوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرکے گرہست خواتین سے لے کر عام متوسط افراد کو رقومات سے محروم کردیا ہے۔ بلاشبہ ہندوستان کو رشوت و دہشت گردی سے پاک بنانا ضروری ہے۔ اس کے لئے حکومت کی سطح پر سخت اقدامات ہوتے ہیں تو اس کی ہر گوشے کی جانب سے ستائش کی جائے گی لیکن حکومت نے غریب کی جیب کو نقصان پہونچاکر کچھ کام کیا ہے تو اسے شاباشی نہیں دی جاسکتی۔ معزز شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے حکومت انہیں پریشان کن صورتحال سے دوچار کرچکی ہے تو اپوزیشن اور عوام کو ان موضوعات پر اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن سے مشاورت کے بغیر اتنا بڑا سخت قدم اٹھایا جاسکتا ہے تو یہ اپوزیشن کے لئے صدمہ خیز بات ہے۔ اپوزیشن کو اپنی توہین محسوس کرلینی چاہئے۔ حکومت کو اس کی غلطیوں کی جانب نشاندہی کرانے میں ناکام اپوزیشن پارلیمنٹ کے سیشن میں حکومت کے خلاف اپنا مورچہ مضبوط کرنے سے قاصر رہے تو پھر اس ملک کے عوام پر آنے والے دنوں میں مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن 16 نومبر سے شروع ہوکر 16 ڈسمبر کو ختم ہوگا۔ اس ایک ماہ کے دوران ملک کے عوام اپوزیشن کی قوت ارادی اور حکومت کی بالادستی کے مظاہرہ کا مشاہدہ کریں گے۔ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کی حیثیت سے کانگریس کو ایک موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس قدیم قومی پارٹی کو اپنے اثر و طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر اس نے پارلیمنٹ کے اندر ملک بھر میں پیدا کردہ نوٹوں کے مسئلہ کو جلد سے جلد ختم کرانے اور موثر انتظامات کے ساتھ عوام کو کرنسی پہونچانے میں حکومت کو مجبور نہیں کیا تو وہ اپوزیشن کی حیثیت سے ناکام کہلائے گی۔ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر ایک دوسرے سے تال میل کے ذریعہ مشترکہ حکمت عملی بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ مشترکہ جدوجہد کے لئے ان جماعتوں کو لازمی طور پر ایک دوسرے سے اشتراک کی بھی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT