Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / اپوزیشن پر تنقید اور مصالحتی پہل کیساتھ تعاون کی درخواست

اپوزیشن پر تنقید اور مصالحتی پہل کیساتھ تعاون کی درخواست

راجیہ سبھا میں تحریک تشکر پر وزیراعظم کا خطاب، طنزومزاح کا بھرپور استعمال ، نہرو اور اندرا گاندھی کا حوالہ

’’موت کی طرح کانگریس بھی الزام اپنے سر نہیں لیتی ‘‘
’’غلام نبی آزاد خوردبین کیساتھ حکومت کی خامیاں تلاش کررہے ہیں،
اگر پہلے وہ دوربین لگا کر کام کرتے تو آج مودی کی ضرورت نہ ہوتی‘‘
نئی دہلی ۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے دوران سیشن میں اپوزیشن کے تعاون کے سبب پیدا شدہ سازگار ماحول کو ملحوظ رکھتے ہوئے راجیہ سبھا میں جی ایس ٹی اور دیگر بلز کی منظوری کی ایک تازہ مساعی کی ہے۔ وزیراعظم نے صدرجمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر کے موقع پر گذشتہ ہفتہ لوک سبھا میں ایک گھنٹہ طویل تقریر کے دوران اپوزیشن سے مصالحت کیلئے پہل کی تھی اس کے ساتھ ہی انہوں نے بعض مسائل پر حزب مخالف بالخصوص کانگریس کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ انہوں نے آج ایوان بالا میں مصالحت اور تنقید کا رویہ اختیار کیا۔ مودی نے تحریک تشکر میں 300 ترمیمات کی پیشکشی کا حوالہ دیتے ہوئے ترمیمات سے دستبرداری کیلئے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی اور خواہش کی کہ صدرجمہوریہ کے عہدہ کے وقار کو یقینی بنانے کیلئے ایوان کی اعلیٰ روایات کے مطابق متفقہ طور پر تحریک تشکر منظور کی جائے۔ تاہم ان کی اپیل کے باوجود حکومت کو ایوان میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب صدرجمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر کو ایوان نے قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد کی طرف سے پیش کردہ ایک ترمیم کو 61 کے مقابلے 94 ووٹوں سے منظور کرلیا۔ ترمیم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صدارتی خطبہ میں پنچایت انتخابات میں تمام شہریوں کے حقوق کی تائید نہیں کی ہے۔ راجستھان اور ہریانہ کے قانون کے تناظر میں یہ ریمارک کیا گیا جہاں پنچایت انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اقل ترین قابلیت میٹرک پاس مقرر کی گئی ہے۔ مودی نے اپنے خطاب کے دوران سابق وزیراعظم آنجہانی جواہر لعل نہرو کے قول کا سہارا لیا اور کہا کہ ایوان بالا و ایوان زیرین کے درمیان رابطہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ دونوں ہی ایک جامع ڈھانچہ کا حصہ بنیں۔ مودی نے کہا کہ ’’میں توقع کرتا ہوں کہ ہم بھی پنڈت نہرو کے افکار کو اہمیت دیں گے بالخصوص گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس بل (جی ایس ٹی) جیسے کلیدی بل بھی لیت و لعل کی شکار ہیں۔

وزیراعظم مودی نے اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت و مصالحت کا انداز اپناتے ہوئے صدارتی خطبہ کا حوالہ دیا۔ مودی نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ کا رواں سیشن ہم پرسکون انداز میں چلا رہے ہیں اور صدرجمہوریہ کے پیغام کو آگے بڑھانے میں اپوزیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ صدارتی پیغام کا اثر میرے لئے باعث فخر ہے‘‘۔ مودی نے یاد دلایا کہ گذشتہ سیشن میں مقررہ 149 کے منجملہ صرف سات کے جواب دیئے جاسکے۔ شوروغل کے سبب 42 گھنٹے ضائع ہوگئے۔ پیوستہ سیشن میں صرف چھ سوالات کے جواب دیئے گئے۔ ہنگامہ آرائی سے 72 گھنٹے ضائع ہوئے لیکن رواں سیشن پرسکون ہے۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کے بعض پروگراموں پر سابق حکومت کے دعوؤں کے لئے کانگریس کو مذاق اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا‘‘۔ مودی نے اس ضمن میں سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کا قول دہرایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک جو کام کرتے ہیں دوسرے وہ جو کام کا کریڈٹ اپنے سر لیتے ہیں‘‘۔ کانگریس بنچوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ بھی پہلے زمرہ (کام کرنے والوں) میں شامل ہونے کی کوشش کیجئے کیونکہ اس میں زیادہ مسابقت نہیں رہتی‘‘۔ مودی نے کہا کہ یہ بات اندراجی نے کہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام حکومتوں نے کچھ کام کئے ہیں اور اگر ہم بھی ’’ہوتا ہے‘‘ ’’چلتا ہے‘‘ کے اندازفکر کے ساتھ کام کرتے رہیں تو ہندوستان جیسے ایک بڑے ملک کی ترقی کیلئے طویل وقت درکار ہوگا۔ ہمیں پوری قوت لگانے کی ضرورت ہے۔

مودی نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس قدیم پارٹی کو ’’موت‘‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ کانگریس بھی کوئی الزام اپنے سر نہیں لیتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’’موت بھی ایک آشیرواد ہے۔ وہ کسی کے مرنے کا الزام اپنے سر نہیں لیتی۔ اگر کوئی فوت ہوتا ہے تو کینسر ، عمر جیسی کسی وجہ یا بیماری پر الزام آتا ہے لیکن بذات خود موت پر کوئی الزام نہیں آتا ہے اور کسی کے مرنے پر موت بدنام نہیں ہوتی۔ بسااوقات میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ایسا آشیرواد کانگریس کو بھی حاصل ہے۔ اگر ہم کانگریس پر تنقید کرتے ہیں تو میڈیا اس کو کانگریس پر نہیں بلکہ اپوزیشن پر حملہ قرار دیتا ہے لیکن جب ہم (جے ڈی یو لیڈر) شردجی(یادو) یا بی ایس پی پر تنقید کرتے ہیں تو وہ (میڈیا) کہتا ہے کہ یہ جے ڈی یو یا بی ایس پی پر حملہ ہے لیکن کانگریس پر کبھی کوئی الزام نہیں آتا۔ اس پر حیرت ہوتی ہے اور اس حقیقت کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ خود ایک بہت بڑی سائنس (کیمیا) ہے۔ جن دھن یوجنا میں مبینہ غلطیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کو بھرپور طنزومزاح کے ساتھ سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ خوردبین کے ذریعہ خامی تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مودی نے کہا کہ ’’میں غلام نبی آزاد جی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے بھوپال کی جن دھن یوجنا میں پائی جانے والی خامیوں کی ریکارڈنگ حاصل کی ہے۔ حقائق خواہ کچھ بھی ہوں۔ میں آپ کی مساعی کی ستائش کرتا ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ اپوزیشن چوکس ہے‘‘۔ مودی نے طنزیہ انداز میں آزاد سے کہا کہ ’’اگر آپ اپنی حکومت میں اتنی سخت محنت کئے ہوتے تو جن دھن کیلئے آج مودی کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ آپ خوردبین کے ساتھ یہ دیکھنے پہنچ گئے کہ کہاں کیا خامی رہ گئی ہے۔ اس کے بجائے اگر آپ پہلے دوربین لگا کر کام کئے ہوتے تو یہ کام مودی کیلئے باقی نہ رہتا ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT