Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / اپوزیشن پر کالے دھن کی تائید کا الزام مسترد، وزیر اعظم سے معذرت خواہی کا مطالبہ

اپوزیشن پر کالے دھن کی تائید کا الزام مسترد، وزیر اعظم سے معذرت خواہی کا مطالبہ

New Delhi : A view of Lok Sabha during the winter session, in New Delhi on Tuesday . PTI Photo / TV GRAB(PTI11_22_2016_000066B)

مودی کے ریمارکس پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا زبردست احتجاج، دونوں ایوانوں کی کارروائی ساتویں دن بھی معطل
نئی دہلی۔/25 نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمانی کارروائی لگاتار ساتویں دن بھی بری طرح درہم برہم رہی اور نوٹوں کی منسوخی کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے کئے گئے ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا اور اپوزیشن پر کالا دھن جمع کرنے کا غلط الزام عائد کئے جانے پر ان ( مودی ) سے مطالبہ کیا کہ وہ کھلے عام معذرت خواہی کریں۔ تاہم حکومت نے اپوزیشن کے اس مطالبہ کو مسترد کردیا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، ایس پی، بی ایس پی، بائیں بازو کی جماعتوں نے راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی کی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ان تبصروں کی سخت مذمت کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ چند افراد نوٹوں کی منسوخی کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ حکومت نے انہیں تیاری( کالے دھن کو سفید دھن میں تبدیل ) کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا تھا۔‘‘ راجیہ سبھا کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا اس کے سابق رکن وپین گھوش کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ اس دوران بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی اپنی نشست سے اُٹھ گئیں اور کہا کہ وزیراعظم نے آج صبح اپوزیشن قائدین پر کالا دھن جمع کرنے کا الزام لگایا ہے اور مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ریمارکس پر معذرت خواہی کریں۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے سوال کیا کہ مودی آیا کس طرح اس قسم کے الزامات عائد کرسکتے ہیں جبکہ نوٹوں کی منسوخی پر بحث کے دوران سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور دیگر قائدین پوری طرح واضح کرچکے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں کالے دھن کی سخت مخالف ہیں۔ غلام نبی آزاد نے برہمی کے ساتھ سوال کیا کہ وزیر اعظم کس طرح ایسا الزام عائد کرسکتے ہیں۔

ہم کالے دھن کے خلاف ہیں۔ وزیر اعظم کو معافی مانگنا چاہیئے۔‘‘ اس دوران کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ایوان کے وسط میں پہونچ گئے اور ’’ پردھان منتری معافی مانگو ‘‘  کے نعرے لگانا شروع کردیا۔ بی جے پی ارکان بھی اپنی نشستوں سے اُٹھ گئے اوروزیر اعظم و حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تنقیدوں پر ہورہی نعرہ بازی کا آغاز کردیا۔ ڈپٹی چیرمین پی جے کورین نے شور و غل کے درمیان کہا کہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی پر قاعدہ 267 کے تحت بحث کیلئے آزاد کی نوٹس موصولہ وئی ہے۔ کورئین نے کہا کہ ’’ میں اس تحریک کو قبول کرنے تیار ہوں بشرطیکہ آپ بحث کیلئے تیار ہوں ۔‘‘ جس پر آزاد نے کہا کہ ان کی نوٹس میں یہ شرط بھی ہے کہ وزیر اعظم، ایوان آئیں اور بحث کی سماعت کرتے ہوئے اس کا جواب دیں۔‘‘ غلام نبی آزاد نے کہا کہ وزیر اعظم گذشتہ روز جب ایوان آئے تھے تو میں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کی طرف سے ان کا خیرمقدم کیا تھا اور یہ استفسارکیا تھا کہ آیا وہ نوٹوں کی منسوخی پر بحث میں حصہ لینے کیلئے آئے ہیں یا پھر وقفہ سوالات میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کالا دھن کی حمایت کررہا ہے۔ یہ ہمارے اپوزیشن اور ایوان کی توہین ہے۔ سارے اپوزیشن نے جب بیک آواز کالے دھن کی مخالفت کی ہے تو وزیر اعظم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔ انھیں ( مودی کو ) معذرت خواہی کرنا چاہیئے۔

‘ اس مسئلہ پر مایاوتی کے علاوہ جے ڈی ( یو ) لیڈر شرد یادو اور ٹی ایم سی رکن ذیرک او برائین نے بھی وزیر اعظم مودی سے معذرت خواہ کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے دوران کورئین نے دوپہر تک اجلاس ملتوی کردیا۔ بعد ازاں جیسے ہی دوبارہ اجلاس شروع ہوا صدر نشین حامد انصاری نے پہلا سوال شروع کیا لیکن اپوزیشن ارکان اپنے مطالبہ پر اٹل رہے ۔ اس دوران مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے وزیر اعظم سے معذرت خواہی کے مطالبہ کو مسترد کردیا اور کہا کہ خود اپوزیشن کو معذرت خواہی کرنا چاہیئے۔ صدر نشین حامد انصاری نے ہنگامہ آرائی کے دوران دوپہر ڈھائی بجے تک ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردی۔لوک سبھا کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہیں تھی اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کے تبصروں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے گروپ لیڈر ملک ارجن کھرگے نے ایوان زیریں میں یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ ہم تحریک التواپر نہیں بلکہ فی الحال وزیر اعظم کے ریمارکس پربحث چاہتے ہیں۔ جس کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور وزیر اعظم سے بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ چند اپوزیشن ارکان نے ’’ پردھان منتری سدن میں آؤ… ہمت ہے تو سدن میں آؤ ۔‘‘ کے نعرے لگائے۔ اسپیکر نے برہمی کے ساتھ کہا کہ اپوزیشن ارکان ، ایوان کی کارروائی چلانا نہیں چاہتے اور انہوں نے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردی۔

TOPPOPULARRECENT