Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / اپوزیشن کا احتجاج اور ہنگامہ آرائی ، لوک سبھا کا اجلاس دن بھر کیلئے ملتوی

اپوزیشن کا احتجاج اور ہنگامہ آرائی ، لوک سبھا کا اجلاس دن بھر کیلئے ملتوی

مودی حکومت پر اہم مسائل کی یکسوئی میں ناکامی اور ، کسانوں کے بحران سے توجہ ہٹانے گاؤ رکھشک تنازعہ کو بہانہ بنانے کا الزام
نئی دہلی ۔18جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کسانوں کے مسائل اور چند دیگر اہم موضوعات پر اپوزیشن کے زبردست شو ر شرابے کی وجہ سے آج کوئی کام نہیں ہوپایا اور ایک بار کے التوا کے بعد لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ایوان کی کارروائی صبح شرو ع ہوتے ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے جموں و کشمیر میں بس حادثہ میں امرناتھ یاتریوں کی موت اور 24 اپریل کو نکسلی حملے میں شہید ہوئے جوانوں نیز لندن کے مانچسٹر اور افغانستان سمیت ملک اور بیرون ملک میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں، حادثات اور سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے لوگوں کے تئیں ایوان کی طرف سے تعزیت پیش کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ اراکین نے ہلاک ہونے والوں کی روح کی تسکین کے لئے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔اس کے بعد اسپیکر نے جیسے ہی وقفہ سوالات شروع کیا ، کانگرس ، ترنمول کانگریس ، این سی پی ، بیجو جنتا دل ، راشٹریہ جنتا دل اور انا ڈی ایم کے نیز مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے اراکین مختلف امور پر بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوکر شو ر شرابہ کرنے لگے ۔ ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھرگے ، جیوترادتیہ سنہا اور این سی پی کے طارق انور سمیت کئی اراکین اسپیکر کی نشست کے سامنے آکر نعرے بازی کرنے لگے ۔ شو رشرابے میں کچھ سنائی نہیں پڑا۔ کچھ اراکین نے ہاتھوں میں تختیاں بھی لے رکھی تھیں جن پر لکھا تھا ’’وجئے مالیا کو بھگایا ہے … کسانوں کو رلایا ہے ‘‘۔ ’’گاؤ رکھشک تو بہانا ہے … کسانوں کی قرض معافی سے دھیان ہٹانا ہے ‘‘۔اس پر سمترا مہاجن نے چند منٹ کے اندر کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے بیشتر اراکین ایوان میں موجود تھے لیکن حزب اقتدار کی بیشتر سیٹیں خالی تھیں۔ایوان کی کارروائی 12بجے دوبارہ شروع ہونے پر اپوزیشن کے اراکین پہلے کی طرح ہی ہاتھوں میں تختیاں لئے کسانوں کے مسائل پر پھر سے نعرے بازی کرنے لگے اور شو ر شرابہ کرتے ہوئے اسپیکر کی نشست کے نزدیک پہنچ گئے ۔ کچھ تختیوں پر لکھا تھا ’’من کی بات کرتے ہو، کسانوں کے من کی بات بھی سن لو‘‘۔’’کسان ہی دیش کی آن ، نہیں گھٹنے دیں گے ان کا مان‘‘۔اسپیکر نے اراکین کو بار با رپرسکون رہنے کی اپیل کی لیکن وہ نعرے بازی کرتے رہے ۔شو رشرابے کے درمیان ہی سیاحت اور ثقافت کے وزیر مملکت مہیش شرما نے قدیم عمارتوں اور آثار قدیمہ ترمیمی بل ، پٹرولیم کے وزیر دھرمیندر پردھان نے بھارت پٹرولیم اور انرجی انسٹی ٹیوٹ بل 2017 ء اور دیگر وزیروں نے بھی بل بھی رکھے گئے ۔ کچھ ضروری کاغذات بھی ایوان میں رکھوائے گئے ۔ ہنگامہ جاری رہنے پر مہاجن نے ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی ۔

TOPPOPULARRECENT