Friday , July 21 2017
Home / Top Stories / اپوزیشن کی طرف سے بھی دلت چہرہ، میرا کمار صدارتی انتخاب لڑیں گی

اپوزیشن کی طرف سے بھی دلت چہرہ، میرا کمار صدارتی انتخاب لڑیں گی

 

نئی دہلی ، 22 جون (سیاست ڈاٹ کام) سابقہ اسپیکر لوک سبھا کانگریس کی میرا کمار کو آج این ڈی اے کے رام ناتھ کووند کے خلاف اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے منتخب کیا گیا، اس طرح یہ ’دلت بمقابلہ دلت‘ والا صدارتی الیکشن رہے گا جس نے بہار کے برسراقتدار اتحاد کو منقسم کردیا اور بی ایس پی کو مخمصہ سے باہر نکالا ہے۔ اگرچہ الکٹورل کالج میں عددی طاقت نمایاں فرق کے ساتھ کووند کے حق میں ہے جس کی وجہ سے اُن کا 14 ویں صدرجمہوریہ منتخب عملاً یقینی امر ہے، لیکن کانگریس زیرقیادت اپوزیشن نے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور 17 جولائی کے چناؤ کیلئے خود بھی دلت چہرہ کو منتخب کیا۔ کووند اور میرا کمار دونوں کی عمر 72 سال ہے۔ میرا کمار کو انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ آج پارلیمنٹ ہاؤس لائبریری میں 17 غیراین ڈی اے پارٹیوں کی میٹنگ میں کیا گیا جہاں قائدین نے سفارتکار سے سیاستدان بنی میرا کمار کے نام کی متفقہ طور پر توثیق کردی۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے میٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ 17 اپوزیشن قائدین آج یکجا ہوئے اور ہم تمام نے فیصلہ کیا کہ میرا کمار (آئی ایف ایس آفیسر)، سابق مرکزی وزیر اور سابقہ اسپیکر لوک سبھا کو صدرجمہوریہ ہند کیلئے آنے والے الیکشن کے سلسلہ میں مشترکہ امیدوار کے طور پر پیش کیا جائے۔ میرا کمار جو چیف منسٹر بہار نتیش کمار کی آبائی ریاست بہار سے تعلق رکھتی ہیں، اُن کی امیدواری نے ظاہر طور پر سینئر جے ڈی (یو) لیڈر کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے کیونکہ وہ اپوزیشن کی صفوں سے علحدہ ہوکر کووند کی امیدواری کی حمایت کرچکے ہیں، جو پڑوسی اترپردیش کے دلت لیڈر ہیں۔ کووند تب گورنر بہار تھے جب انھیں بی جے پی نے این ڈی اے کا صدارتی امیدوار نامزد کیا۔ جے ڈی (یو) کے موقف پر تبصرہ کی خواہش پر سونیا گاندھی نے کہا کہ ہمیں امید ہے دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں گی۔ ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ وہ صدرجمہوریہ کے عہدہ کیلئے دوسری دلت امیدوار ہیں۔ آج کی میٹنگ کے بعد آر جے ڈی سربراہ اور جے ڈی (یو) کے حلیف لالو پرساد نے کہا کہ وہ نتیش کمار سے ملاقات کریں گے اور اُن سے اپیل کریں گے کہ این ڈی اے نامزد امیدوار کی حمایت سے متعلق اپنی پارٹی کے فیصلہ پر نظرثانی کریں، جسے انھوں نے ’’فاش تاریخی غلطی‘‘ قرار دیا ہے۔ تاہم ، انھوں نے کہا کہ بہار حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، جہاں جے ڈی (یو)، آر جے ڈی اور کانگریس کا اتحاد ہے۔ میرا کمار کی امیدواری کا اعلان ہونے کے کچھ ہی دیر بعد بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کانگریس لیڈر کو اپنی پارٹی کی تائید پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کووند کے مقابل ’’زیادہ قابل اور مقبول‘‘ ہیں۔ قبل ازیں مختصر میٹنگ کے ابتدا میں سی پی آئی۔ ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے بی آر امبیڈکر کے پوتے پرکاش امبیڈکر کا نام تجویز کیا، لیکن کوئی بھی متاثر نہیں ہوا۔ اجلاس کے شرکاء میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، سینئر کانگریس قائدین غلام نبی آزاد ودیگر کے علاوہ شرد پوار اور لالو پرساد شامل ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT